تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ٹرمپ کی تقریب کو وہیں نشانہ بنایا گیا جہاں سابق امریکی صدر ریگن پر حملہ ہوا

واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں پیش آنے والے حالیہ فائرنگ کے واقعے نے ایک بار پھر اس مقام کی تاریخی حساسیت کو اجاگر کر دیا ہے، کیونکہ یہی وہ ہوٹل ہے جہاں سنہ 1981 میں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔

 

30 مارچ 1981 کو پیش آنے والے اس واقعے میں حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے صدر ریگن کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ہوٹل میں خطاب کے بعد اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی لیموزین سے ٹکرا کر ریگن کے جسم میں لگی، جس سے ان کی ایک پسلی ٹوٹ گئی اور پھیپھڑے کو بھی نقصان پہنچا۔ انہیں فوری طور پر جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے بعد وہ 11 اپریل کو ڈسچارج ہوئے۔

 

اس حملے میں وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی شدید زخمی ہوئے تھے، جنہیں دماغی چوٹ لگی اور وہ زندگی بھر معذوری کا شکار رہے۔ اس کے علاوہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار اور ایک پولیس افسر بھی زخمیوں میں شامل تھے۔

 

بعد ازاں حملہ آور جان ہنکلی جونیئر کو ذہنی بیماری کی بنیاد پر باقاعدہ مجرم قرار نہیں دیا گیا، تاہم اسے طویل عرصے تک واشنگٹن کے سینٹ الزبتھ اسپتال کے سکیورٹی یونٹ میں رکھا گیا اور بالآخر 2016 میں رہا کر دیا گیا۔

 

آج بھی اس واقعے کی یاد میں ہلٹن ہوٹل کی دیوار پر ایک یادگاری تختی نصب ہے، اور حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر اس مقام کی سکیورٹی اور تاریخی پس منظر پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

جواب دیں

Back to top button