مریم نواز کا بڑا فیصلہ، پنجاب میں میتوں کی مفت منتقلی کا آغاز

مریم نواز کا بڑا فیصلہ، پنجاب میں میتوں کی مفت منتقلی کا آغاز
عقیل انجم اعوان
وہ ایک خاموش شام تھی جب لاہور کے ایک بڑے ہسپتال کے برآمدے میں بیٹھا ایک غریب باپ اپنے بیٹے کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کی تھکن اور حالات کی سختی لکھی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں امید کی آخری کرن جھلملا رہی تھی مگر دل جان چکا تھا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ ڈاکٹروں نے اپنی تمام تر کوششوں کے بعد جواب دے دیا تھا۔ وہ الفاظ مختصر تھے مگر اثر بہت گہرا تھا۔ اس باپ کے لیے وہ الفاظ کسی فیصلے سے کم نہ تھے۔اس نے اپنے بیٹے کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور ایک طویل سانس لی۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ اگر اس کا بیٹا یہاں دم توڑ گیا تو وہ اس کی میت کو اپنے گاں کیسے لے کر جائے گا۔ اس کے پاس تو کرایہ کے پیسے بھی باقی نہیں تھے۔ وہ پہلے ہی اپنی واحد بھینس بیچ کر یہاں پہنچا تھا۔ وہ بھینس جو اس کے گھر کا سہارا تھی۔ وہی اس کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی۔ اس نے سب کچھ بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے قربان کر دیا تھا مگر اب وہ اس قابل بھی نہیں رہا تھا کہ اپنے بیٹے کی میت کو عزت کے ساتھ واپس لے جا سکے۔
اسی خوف نے اسے ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جو شاید کسی بھی باپ کے لیے سب سے کٹھن ہوتا ہے۔ اس نے بیٹے کو وارڈ سے اٹھایا اور بس اڈے کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ بیٹا زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے مگر وہ اسے اپنے گائوں کی مٹی میں واپس لے جانا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا کسی اجنبی شہر میں بے یار و مددگار رہ جائے۔
بس کے سفر میں ہر لمحہ اس کے لیے قیامت تھا۔ بیٹے کی سانسیں مدھم ہوتی جا رہی تھیں اور باپ کی بے بسی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ بار بار اس کا سر اپنے سینے سے لگاتا جیسے وہ زندگی کو روک لینا چاہتا ہو۔ مگر وقت کسی کے لیی نہیں رکتا۔ جب بس گائوں کے قریب پہنچی تو بیٹے کی سانسیں تھم چکی تھیں۔ باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون بھی تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس کی مٹی میں واپس لے آیا ہے۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ پنجاب کے ان بے شمار غریب لوگوں کی حقیقت تھی جو اپنے پیاروں کے علاج کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور پھر جب قسمت ساتھ نہیں دیتی تو ان کے لیے میت کو واپس لے جانا بھی ایک امتحان بن جاتا ہے۔ وہ قرض لیتے ہیں۔ گھر کی چیزیں بیچتے ہیں۔ عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ اپنے پیارے کو آخری بار اپنے گاں میں دفنا سکیں۔
لیکن اب یہ منظر بدل رہا ہے۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ایک ایسا اقدام کیا ہے جس نے ہزاروں غریب خاندانوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی شمع روشن کر دی ہے۔ انہوں نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت ہسپتالوں سے میت کو مفت گھروں تک منتقل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک گہری انسانی ہمدردی کا مظہر ہے۔یہ وہ قدم ہے جس نے اس درد کو سمجھا ہے جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ بیمار کا علاج تو کسی نہ کسی طرح ہو جاتا ہے مگر جب زندگی ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ اس وقت ایک غریب خاندان کے پاس نہ وسائل ہوتے ہیں نہ سہارا۔ ایسے میں میت کی منتقلی ایک ایسا بوجھ بن جاتی ہے جو انہیں مزید توڑ دیتا ہے۔
مریم نواز شریف کا یہ اقدام دراصل ریاست کی اس ذمہ داری کا اعتراف ہے کہ شہریوں کو صرف زندگی میں ہی نہیں بلکہ موت کے بعد بھی عزت دی جائے۔ یہ ایک ایسا وژن ہے جو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عملی ہمدردی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ براہ راست ان طبقات کو سہارا دیتا ہے جو سب سے زیادہ نظر انداز ہوتے ہیں۔ دیہاتوں سے آنے والے مزدور۔ کسان۔ چھوٹے کاروباری لوگ۔ وہ لوگ جن کے پاس بڑے شہروں میں کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ ان کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔یہ اقدام دراصل حکمرانی کے اس تصور کو مضبوط کرتا ہے جس میں ریاست ایک ماں کی طرح اپنے شہریوں کا خیال رکھتی ہے۔ جہاں صرف ترقیاتی منصوبے ہی کامیابی کا معیار نہیں ہوتے بلکہ انسانوں کے دکھ درد کو کم کرنا اصل کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
مریم نواز شریف نے جس طرح اس مسئلے کو محسوس کیا اور اس کا حل پیش کیا وہ قابل تحسین ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو عام طور پر پالیسی سازی میں نظر انداز ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ فوری طور پر نظر نہیں آتے۔ مگر جو لوگ اس اذیت سے گزرتے ہیں ان کے لیے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔
یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے کمزور طبقے کا سہارا بنتی ہے۔ یہ صرف ایک سروس نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
اگر ہم اس اقدام کے اثرات کو دیکھیں تو یہ صرف مالی بوجھ کم نہیں کرے گا بلکہ ایک نفسیاتی سکون بھی فراہم کرے گا۔ اب کوئی باپ اس خوف میں مبتلا نہیں ہوگا کہ اگر اس کا بیٹا شہر میں فوت ہو گیا تو وہ اسے واپس کیسے لے جائے گا۔ اب کوئی ماں اس فکر میں نہیں ڈوبے گی کہ وہ اپنے بچے کو آخری بار اپنے گائوں میں دفنا بھی سکے گی یا نہیں۔
یہ ایک ایسا قدم ہے جو معاشرے میں انسانیت کے احساس کو فروغ دے گا۔ یہ لوگوں کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کا دکھ کسی کے لیے اہم ہے۔ یہ احساس ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں وسائل محدود ہیں وہاں اس طرح کے اقدامات اور بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ صرف حکومتی کارکردگی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری کی تکمیل ہے۔
مریم نواز شریف کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت درست ہو تو چھوٹے سے چھوٹا قدم بھی بڑے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو آنے والے وقتوں میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔یہ صرف ایک سروس نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب ہے۔ ایک ایسا انقلاب جو غریب کے دکھ کو سمجھتا ہے۔ اس کی عزت کا خیال رکھتا ہے۔ اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اس ریاست کا برابر کا شہری ہے۔
آج اگر وہ غریب باپ زندہ ہوتا تو شاید اسے اپنے بیٹے کو بس میں لے جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ شاید وہ سکون سے ہسپتال میں بیٹھ کر اپنے بیٹے کے آخری لمحے اس کے ساتھ گزار سکتا۔ شاید اسے یہ خوف نہ ہوتا کہ موت کے بعد بھی ایک نئی آزمائش اس کا انتظار کر رہی ہے۔
یہی اس اقدام کی اصل کامیابی ہے۔
یہ وہ فرق ہے جو ایک حساس قیادت پیدا کرتی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ احساس سے آتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مریم نواز شریف کا یہ اقدام صرف ایک حکومتی پالیسی نہیں بلکہ ایک انسانی خدمت ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔





