Column

آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی اور ایران، امریکہ تنائو کا نیا مرحلہ

آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی اور ایران، امریکہ تنائو کا نیا مرحلہ
غلام مصطفیٰ جمالی
خلیجی سمندروں کے افق پر ابھرتی ہوئی بے چینی ایک ایسے دور کی نشاندہی کر رہی ہے، جہاں طاقت، مفاد اور بقا کی کشمکش ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تنا محض دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے توازن، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ جال سے جڑا ہوا مسئلہ بن چکا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کی بحث نے اس صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ یہ قدم بظاہر محدود دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اثرات نہایت وسیع اور دور رس ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کو سمجھے بغیر اس پوری صورتحال کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ یہ تنگ مگر انتہائی اہم سمندری راستہ خلیج فارس کو کھلے سمندر سے ملاتا ہے اور دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی معیشت کا ایک حساس ترین نقطہ بناتی ہے، جہاں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ناکہ بندی کا تصور بظاہر ایک ایسا اقدام ہے، جس کے ذریعے براہ راست جنگ سے بچتے ہوئے دبائو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت امریکی بحریہ خلیج کے کھلے پانیوں میں رہتے ہوئے ایرانی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان میں مداخلت بھی کر سکتی ہے۔ اس طرح امریکہ کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ خطرناک تنگ گزرگاہوں میں داخل ہوئے بغیر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکتا ہے۔
لیکن یہ تصویر اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں نہ صرف پابندیوں کا سامنا کیا ہے بلکہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو بھی مسلسل بہتر بنایا ہے۔ اس کی جنگی سوچ روایتی نہیں بلکہ غیر روایتی انداز پر مبنی ہے، جہاں چھوٹے مگر تیز رفتار حملوں کے ذریعے بڑے حریف کو الجھایا جاتا ہے۔ ایران کی بحری حکمت عملی میں چھوٹی کشتیوں، ساحلی میزائلوں، بارودی سرنگوں اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے، جو کسی بھی ناکہ بندی کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
اگر امریکہ ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ وہ مختلف طریقوں سے جواب دے سکتا ہے، جن میں سمندری راستوں کو غیر محفوظ بنانا، اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے میں دبائو بڑھانا اور عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر سرگرم ہونا شامل ہے۔ اس طرح یہ تنازع ایک محدود کارروائی سے نکل کر ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں توانائی کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتی ہیں، اور اگر اس سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی پیداوار کو متاثر کرتا ہے بلکہ عام صارفین کی زندگیوں کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو ایسے مسائل ہیں جو براہ راست عوام کو متاثر کرتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہ سمجھا گیا تو اسے سفارتی دبائو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر ان کی موثریت کا دارومدار بڑی طاقتوں کے رویے پر ہوتا ہے ۔ اگر عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں تقسیم ہو جائیں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ایران کے لیے بھی یہ صورتحال آسان نہیں ہے۔ ایک طرف اسے اپنی معیشت کو سنبھالنا ہے، جو پہلے ہی پابندیوں کے باعث دبائو کا شکار ہے، اور دوسری طرف اسے اپنی خودمختاری اور علاقائی حیثیت کا بھی دفاع کرنا ہے۔ ایسے میں ایران ممکنہ طور پر ایسے اقدامات کرے گا جو نہ صرف اس کے مفادات کا تحفظ کریں بلکہ امریکہ کے لیے بھی مشکلات پیدا کریں۔ یہ اقدامات کھلے تصادم سے لے کر خفیہ کارروائیوں تک کسی بھی شکل میں ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں ہے۔ اگرچہ اس کے پاس عسکری برتری موجود ہے، مگر ہر قدم کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ناکہ بندی کے نتیجے میں اگر کوئی بڑا تصادم ہوتا ہے تو یہ ایک طویل اور مہنگی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات امریکہ کی داخلی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عوامی رائے، معاشی دبائو اور عالمی تنقید ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی حکومت کے فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جدید دور میں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ اطلاعات، معیشت اور سفارت کاری بھی اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ میڈیا بیانیہ، سوشل میڈیا اور عالمی رائے عامہ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کسی بھی اقدام کو کس طرح دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران دونوں اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کریں گے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ عام عوام ہے۔ چاہے وہ ایران کے شہری ہوں، خلیجی ممالک کے لوگ ہوں یا دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے افراد، اس کشیدگی کے اثرات کسی نہ کسی صورت میں ان تک پہنچتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور عدم استحکام جیسے مسائل لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماضی کے تجربات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔ عراق، افغانستان اور دیگر تنازعات اس بات کی مثال ہیں کہ فوجی کارروائیاں وقتی کامیابی تو دے سکتی ہیں مگر طویل المدتی استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ضروری ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہ تنازعہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے گی۔
اگر ہم اس صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی نظام کا حصہ ہے جہاں طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے۔ چین، روس اور یورپی ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے مفادات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی قدم عالمی سیاست کے نئے رخ کا تعین کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی ایک ایسا قدم ہے جو بظاہر محدود مگر حقیقت میں نہایت پیچیدہ ہے۔ اس کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، سفارتی حکمت عملی اور عالمی تعاون پر بھی ہے۔ اگر ان عوامل کو نظر انداز کیا گیا تو یہ اقدام ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام فریقین تحمل، دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ ایک غلط قدم نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ دنیا کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ تعاون کی ضرورت ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا

جواب دیں

Back to top button