سہیل آفریدی سہولت کار۔ بلوچستان میں کون؟

سہیل آفریدی سہولت کار۔ بلوچستان میں کون؟
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
آخر شہباز حکومت نے وہ کام کر دکھایا جس کا ڈر تھا۔ مان لیا سہیل آفریدی دہشت گردوں کا سہولت کار تھا لیکن بلوچستان میں دہشت گردوں کا سہولت کار کون ہے اس کا بھی پتہ چلنا چاہیے؟۔ نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطاء اللہ مینگل، خان عبدل ولی خان اور سردار شیر باز خان مزاری اور شیخ مجیب الرحمان کیا غدار تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے جو سیاست دان بعض حلقوں کا پسندیدہ نہیں ہوتا غدار قرار دیا جاتا ہے۔ آج ملک کا سب سے ناپسندیدہ اور غدار بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قرار دیا جا رہا ہے سوال ہے اسے اقتدار میں کون لایا تھا ؟۔ پاکستان کی سیاست کا یہ معمول ہے پہلے اقتدار میں لائو اگر بات نہ مانے تو اقتدار سے ہٹا کر غدار قرار دے دو اور جیل میں بھیج دو۔ اگرچہ میں نواز شریف کا بڑا ناقد ہوں، نواز شریف کو بھی خواہشات پر پورا نہ اترنے کی پاداش میں اقتدار سے ہٹایا گیا۔ مملکت خداداد میں سیاست دانوں کو اقتدار میں لانے کے بعد رسوا کرکے ہٹانے کی المناک داستان ہے۔ بقول مولانا فضل الرحمان کے وعدہ کرنے کے باوجود گورنر راج اور ایمرجنسی لگا دی گئی ہے۔ بلوچستان میں لوگ شام کو گھروں سے باہر نکل نہیں سکتے، دہشت گردی عروج پر ہے، مگر وہاں دہشت گردوں کے سہولت کار کو تلاش کرنے میں مشکل کیوں پیش آرہی ہے۔ آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والی مسلم لیگ نون کا یہ عالم ہے سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال بھیجنے کا حکم دیا تو پمز ہسپتال بھیج کر کارروائی ڈال دی گئی۔ ملک کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں، معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مسلم لیگ نون والے گورنر راج لگا کر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں، شائد وہ بھول گئے ہیں جن پر انہیں بڑا ناز ہے وہ کسی کے نہیں ہوتے، بلکہ اپنے مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے جو سیاست دان بعض حلقوں کی خواہشات پر پورا اترنے سے گریزاں ہو وہی غدار قرار پاتا ہے، اگر وہ ہاں میں ہاں ملا کر چلتا رہے تو اسے بڑا کوئی محب وطن نہیں ہوتا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ شرمناک باب ہے، ایک منتخب وزیراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے نہیں دی گئی۔ اللہ کے بندوں اگر وہ ملاقات کر بھی لیتا کون سے قیامت آجاتی، مگر جہاں انا کا مسئلہ بن جائے وہاں معمولی سے معمولی معاملات سدھر نہیں سکتے۔ شیخ مجیب الرحمان، ولی خان، سردار عطاء اللہ مینگل، شیر باز مزاری اور دیگر سیاست دانوں کو گرفتار کیا گیا، اور بعد ازاں انہیں رہا کرنا پڑا۔ ہمارا بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں، حق بات تو یہ ہے بانی نے ملک و قوم کو لوٹا ہوتا اس کے خلاف مقدمات ہوتے جبکہ اس کے برعکس اسے جیل میں رکھنا مقصود تھا تو تین سو سے زیادہ مقدمات قائم کر دیئے گئے ہیں۔ بعض لوگ طاقتور حلقوں کو بہت سے معاملات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، اس ناچیز کے نزدیک ملکی سیاست کو کھلواڑ بنانے کے ذمہ دار سیاست دان ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں خواہ پی ٹی آئی کیوں نہ ہو ان کی سیاست اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔ آج ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما اس بات کا صدق دل سے عہد کریں وہ طاقتور حلقوں کے بل بوتے پر اقتدار نہیں لیں گے تو پاکستان کی سیاست کا ٹیڑھا پن ٹھیک ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاست دانوں کی سیاست لو ٹ مار اور بڑی بڑی جائیدادوں کے گرد گھومتی ہے۔ سیاست دان بعض حلقوں سے سمجھوتہ کیوں کرتے ہیں، انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک ہوتا ہے کہ اگر وہ ان حلقوں کی خواہشات کے برعکس کام کریں گے تو انہیں اقتدار سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔ تاسف ہے جن سیاست دانوں کے خلاف مقدمات ہوتے ہیں بعض حلقوں سے سمجھوتے کی صورت میں وہ مقدمات ان کے ملک واپس آتے ہی ختم کر دیئے جاتے ہیں، جیسے ان کے خلاف مقدمات کبھی بنے ہی نہیں تھے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے بعض سیاست دانوں خوف کی وجہ سے اقتدار لے لیتے ہیں، انہیں اس بات کا پتہ ہوتا ہے اگر انہوں نے بعض حلقوں کی بات ماننے سے انکار کیا ان کے خلاف تمام مقدمات از سر نو کھل سکتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جس کے بانی کو قید و بند میں رکھ کر معتوب بنا دیا گیا تھا، گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر پی ٹی آئی کو مظلوم بنا دیا گیا ہے۔ گو دہشت گردی کا عذر پیش کرکے عوام کی منتخب حکومت کو چلتا کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے ملک کا کوئی فرد ایسا نہیں جو دہشت گردی کے خلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کا بہانہ بنا کر حکومت کی برطرفی سے کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟۔ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو پہلے ہی الیکشن کمیشن کے ایک ریفرنس کا سامنا تھا، جس میں انہوں نے عمر ایوب خان کی اہلیہ کی انتخابی مہم میں حصہ لے کر اپنی نااہلی کا خود ہی سامنا کر لیا تھا، وہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نااہل ہوجاتے، لیکن وفاقی حکومت نے جلد بازی سے کام لے کر اپنے ماتھے پر کالک کا دھبہ لگوا لیا ہے۔ ملک کے معاشی حالات پہلے ہی حد درجہ خراب ہیں، سرمایہ کاری نام کی کوئی چیز نہیں، الٹا سرمایہ کار ہمارا ملک چھوڑ چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے حکومت ڈیلور نہیں کر سکی ہے۔ حکومت کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا وہ مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ مبینہ کرپشن ہے۔ پہلے گندم برآمد کی جاتی ہے پھر درآمد کرنی پڑتی ہے، جو حکومت کی ناکام معاشی پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ عوام نے جنہیں ووٹ نہ دے کر مسترد کیا انہی کو اقتدار میں لانا ملک و قوم سے ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے۔ سوال ہے پی ٹی آئی کی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کے پی کے سے دہشت گردی کا وفاق انسداد کر پائے گا؟۔





