حکومتِ وقت کا ایک غیر دانش مندانہ قدم
حکومتِ وقت کا ایک غیر دانش مندانہ قدم
تحریر : صفدر علی حیدری
کچھ فیصلے صرف حالات نہیں بدلتے، دل بھی توڑ دیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے حالات کے تناظر میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی بحث میرے لیے ایسی ہی ایک صورتِ حال ہے۔ دل دکھتا ہے کہ ہم سیاسی اختلافات کا حل مکالمے میں تلاش کرنے کے بجائے اختیار کے استعمال میں کیوں ڈھونڈتے ہیں ؟۔ دنیا کو ثالثی دیتے ہیں ، خود بھی ثالثی کرتے ہیں اور اس کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن ۔۔۔ ہم مخالف کو شکست دینے کی خواہش میں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سیاست کا اصل مقصد عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ اقتدار کے ایوانوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانا؟۔
میرا دکھ کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت کے حق یا مخالفت میں نہیں۔ میرا دکھ جمہوری رویوں کے زوال پر ہے۔ ( المیہ ہے پی پی پی جیسی جماعت نے اس کی مکمل تائید کی ہے ) یہ اس سوچ کا دکھ ہے جس میں اختلاف کو دشمنی اور مفاہمت کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ کیا ہمارے سیاست دان اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ ایک میز پر بیٹھ کر مسائل حل نہیں کر سکتے؟، کیا ہر سیاسی بحران کا آخری حل یہی رہ گیا ہے کہ کسی کے اختیار کو محدود کر دیا جائے؟۔
خیبر پختونخوا کوئی معمولی خطہ نہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں۔ کتنے گھر اجڑے، کتنی مائوں نے اپنے بیٹے کھوئے، کتنے بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھا اور کتنے خاندان خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہوئے۔ یہاں کے لوگ امن کی قیمت کسی تقریر سے نہیں، اپنی زندگیوں سے ادا کر چکے ہیں۔ انہیں اب سیاسی کشمکش نہیں، امن، تحفظ اور اعتماد چاہیے۔ بلاشبہ دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ امن و امان کی صورتِ حال پر تشویش بھی بجا ہے اور کسی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا بھی جمہوری حق ہے۔ اگر صوبائی حکومت سے کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ اگر اس کی پالیسیوں میں خامیاں ہیں تو ان کی نشان دہی کی جانی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج ہی ہے؟۔ کیا غیر معمولی آئینی اقدامات کی طرف بڑھنے سے پہلے تمام جمہوری اور سیاسی راستے آزما نہیں لینے چاہئیں؟۔ میرے نزدیک خیبر پختونخوا کے حالات مکالمے، مشترکہ حکمتِ عملی اور موثر انتظامی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔اگر وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کا فقدان ہے تو اسے دور کیا جائے۔ اگر امن و امان کے لیے وسائل درکار ہیں تو فراہم کیی جائیں۔ اگر کسی ادارے یا حکومت سے کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا واضح اور شفاف احتساب کیا جائے۔ لیکن ہر اختلاف کو ایک غیر معمولی آئینی اقدام تک لے جانا کہاں کی دانش مندی ہے؟۔
آئین میں غیر معمولی حالات کے لیے غیر معمولی اختیارات موجود ہیں، مگر کسی اختیار کا موجود ہونا اور اس کا استعمال ناگزیر ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ ایسے فیصلوں کے لیے محض اختیار کافی نہیں، ٹھوس جواز، شفافیت اور دور رس نتائج کا ادراک بھی ضروری ہے۔ حکومتِ وقت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس اقدام سے کون سا مسئلہ حل ہوگا، عوام کے حقوق کیسے محفوظ رہیں گے اور امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری کیسے آئے گی۔
آخر کسی بھی حکومتی فیصلے کی کامیابی کا معیار سیاسی مخالف کی کمزوری نہیں، عوام کی آسانی اور تحفظ ہونا چاہیے۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بجائی سیاسی محاذ آرائی کو جگہ مل جاتی ہے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت کی دشمن نہیں۔ یہ ہر پاکستانی کی دشمن ہے۔ اس کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، معاون ہونا چاہیے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر اختلاف کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ منتخب حکومت کو ہر غلطی کی اجازت دے دی جائے۔ جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت قانون کے تحت جواب دہ ہو اور اختلاف کا فیصلہ آئینی طریقوں سے کیا جائے۔ احتساب اور منتخب اختیار کو محدود کرنے میں فرق ہے۔ سیاسی اختلاف اور ریاستی بحران میں فرق ہے۔ ان فرقوں کو نظرانداز کرنا عوام کے انتخابی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اور اب اس فیصلے کا وہ پہلو جس پر حکومتِ وقت کو سب سے زیادہ غور کرنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس اقدام کا سب سے بڑا نقصان شاید خود انہی لوگوں کو اٹھانا پڑے جنہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔سیاست میں بعض اوقات مخالف کو کمزور کرنے کے لیے اٹھایا گیا قدم اسی مخالف کو نئی قوت دے دیتا ہے۔ جس فیصلے کو سیاسی برتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، وہ عوامی ردِعمل کے باعث سیاسی مشکلات میں بھی بدل سکتا ہے۔ اختیار کے ذریعے کسی حکومت کو محدود کرنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو حکم ناموں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اگر خیبر پختونخوا کے عوام نے اس اقدام کو اپنے انتخابی اختیار میں مداخلت سمجھا تو اس کے اثرات محض صوبے تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ سیاسی بے چینی بڑھ سکتی ہے، مخالف جماعت اپنے حامیوں کو زیادہ منظم کر سکتی ہے اور وفاقی حکومت کو اس فیصلے کا سیاسی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ نتائج یقینی نہیں، لیکن ایسے امکانات کو نظرانداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ حکومتوں کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آج ان کے پاس کتنا اختیار ہے، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کل عوام ان کے فیصلے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ سیاسی مخالف کو دبانا اور عوامی اعتماد جیتنا دو مختلف باتیں ہیں۔ پہلی کے لیے اختیار کافی ہو سکتا ہے، دوسری کے لیے انصاف، برداشت اور حکمت درکار ہے۔ اگر کسی فیصلے سے وقتی سیاسی فائدہ حاصل ہو بھی جائے، لیکن عوام کے دلوں میں بے اعتمادی بڑھ جائے تو اس فائدے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ طاقت کے مظاہرے نے مخالف کی آواز خاموش کرنے کے بجائے اسے مزید نمایاں کر دیا۔ کیا حکومتِ وقت نے اپنے اس اقدام کے ممکنہ سیاسی نتائج پر پوری طرح غور کیا ہے؟۔ میں کسی جماعت کی حمایت میں دوسرے کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو سیاسی تجربات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ انہیں پہلے ہی بہت زخم مل چکے ہیں۔ ان کے لیے امن کا قیام، روزگار کے مواقع اور محفوظ مستقبل کہیں زیادہ اہم ہیں۔ انہیں ایسی قیادت چاہیے جو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے سے بات کر سکے، نہ کہ ایسی سیاست جس میں ہر مسئلے کا جواب ایک نئے تنازعے کی صورت میں سامنے آئے۔حکومتِ وقت کو چاہیے کہ اپنے فیصلے کے جواز اور ضرورت کو واضح کرے، جبکہ صوبائی قیادت بھی سیاسی ضد سے بالاتر ہو کر امن کے لیے تعاون کرے۔ اگر کسی فیصلے پر نظرثانی کی گنجائش ہے تو اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، دانش مندی ہے۔ اور اگر کسی غیر معمولی اقدام کو ناگزیر قرار دیا جاتا ہے تو اس کے قانونی جواز، حدود، نگرانی اور عوامی مفاد کو پوری طرح واضح ہونا چاہیے۔
میری رائے میں خیبر پختونخوا کے حالات کا تقاضا یہ تھا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی طرف بڑھنے سے پہلے مکالمے اور آئینی تعاون کو آخری حد تک آزمایا جاتا۔ سیاسی اختلافات کو حل کرنے کے راستے بند کر کے کوئی بھی حکومت دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔ اقتدار عارضی ہے، مگر فیصلوں کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، لیکن عوام کے ذہنوں میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔خیبر پختونخوا کو آج کسی سیاسی فتح یا شکست کی نہیں، امن اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ اس کے عوام کو مزید آزمائشوں سے بچانا ہی اصل کامیابی ہے۔ کیونکہ کسی صوبے پر اختیار حاصل کر لینا اور اس کے لوگوں کے دل جیت لینا دو الگ باتیں ہیں۔ اور جو حکومت یہ فرق بھول جائے، ممکن ہے ایک دن اسے اپنے ہی فیصلے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔







