
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی نمو 3.5 فیصد رہے گی جبکہ گزشتہ مالی سال ملک کی معاشی نمو 3.6 فیصد تھی۔
آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد رہے گی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1 فیصد ہو گا اور ملک میں بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد رہے گی جو کہ گزشتہ سال 6.9 فیصد تھی۔
عالمی معیشت کی غیر مساوی ترقی سے متعلق آئی ایم ایف کی وارننگ
آئی ایم ایف نے 2026ء کے لیے عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، توانائی کی زائد قیمتوں، بڑھتے ہوئے قرضوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے حاصل ہونے والے غیر مساوی فوائد کے باعث عالمی معیشت کی رفتار مختلف ممالک میں مختلف رہ سکتی ہے
آئی ایم ایف نے اپنی تازہ عالمی اقتصادی رپورٹ میں 2026ء کے لیے عالمی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا تخمینہ جولائی کے 3 فیصد سے بڑھا کر 3.1 فیصد کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی یہ شرح 2025ء میں ریکارڈ کی گئی 3.5 فیصد نمو سے کم ہے۔
آئی ایم ایف نے2027ء کے لیے عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی 3.4 فیصد برقرار رکھی ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ملکوں کی معاشی کارکردگی میں نمایاں فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق بھارت 2026ء میں 7 فیصد شرحِ نمو کے ساتھ بڑی معیشتوں میں نمایاں رہے گا، چین کی معیشت 4.5 فیصد اور امریکا کی 2.3 فیصد کی رفتار سے بڑھنے کی توقع ہے جبکہ یورپی ممالک کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ 1.1 فیصد ہے۔
اے آئی سرمایہ کاری سے کچھ ممالک کو فائدہ
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور بنیادی ڈھانچے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری عالمی معیشت کو سہارا دے رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور یورپ کی بعض معیشتوں کو اس سرگرمی سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
علاوہ ازیں جنوبی کوریا، ملائیشیا، میکسیکو اور تھائی لینڈ جیسے ممالک بھی اے آئی ٹیکنالوجی کی تیاری یا فراہمی سے مستفید ہو رہے ہیں، لیکن اس ترقی کے فوائد تمام ممالک میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے ممالک جو اے آئی کی سرمایہ کاری سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا رہے، انہیں توانائی کی مہنگی قیمتوں اور بیرونی معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔







