تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

کے پی میں ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کیلئے ہوتا تو پہلے بھی کیا جاسکتا تھا: وفاقی وزراء

وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کے لیے ہوتا تو یہ اقدام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا، آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، یہ مسئلہ حالیہ دنوں کا نہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششیں آج بھی جاری ہیں، دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں میں مضبوط رابطہ ضروری ہے

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئینی و قانونی دائرہ اختیار میں کام کرتی ہیں، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کا دہشت گردی کے معاملے پر رویہ غیرسنجیدہ رہا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی حکومت کا کردار رکارڈ پر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج قانون نافذ کرنے اور داخلی امن و امان کے قیام میں کردار ادا کر رہی ہے، ملکی سرحدوں کا دفاع پاک فوج کی بنیادی ذمے داری ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، ہمارا واحد مقصد دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی اپنانا تھا

جواب دیں

Back to top button