
*کیا پاکستان کا کھیل صرف جسمانی مشقوں سے عالمی تمغے جیت سکتا ہے؟*
یا
*قومی کھیل اور ذہنی صحت: جب تک ذہن نہیں جیتے گا، جسم تمغہ نہیں لا سکتا*
اخلاق اسلم
پاکستان میں جب بھی کسی کھیل میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے، تو تکنیکی خامیوں، ناقص سلیکشن اور نامناسب سہولیات کا روونا رویا جاتا ہے۔ مگر جس پہلو کو دہائیوں سے مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا، وہ کھلاڑی کی نفسیاتی اور ذہنی حالت ہے۔ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ "پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026” نے اس دیرینہ مسئلے پر سیر حاصل بحث کا موقع فراہم کیا۔ اس عالمی تقریب کا مرکزی موضوع "بچوں، جوانوں اور کمیونٹیز کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق اور مستقبل کے لیے تیار ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل” تھا، جہاں ملک بھر کے ماہرین صحت و پالیسی ساز جمع ہوئے۔
اس باوقار سمٹ میں تمغہ امتیاز یافتہ ممتاز لانگ رینج اسپورٹس شوٹر اور ملک کے پہلے باقاعدہ اسپورٹس سائیکالوجسٹ محسن نواز نے شرکت کی۔ انہوں نے وزارتِ قومی خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کی جانب سے پیش کردہ تاریخی "قومی مینٹل ہیلتھ پالیسی” کو سراہا، لیکن ساتھ ہی ایک نہایت اہم علمی و قومی نقطہ اٹھایا—”پاکستان کو اب ایک مخصوص اسپورٹس مینٹل ہیلتھ پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔”
محسن نواز، جنہوں نے 6 ویں ورلڈ نوميڈ گیمز 2026 میں پاکستان کے پہلے باقاعدہ اسپورٹس سائیکالوجسٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور جو عالمی برانڈز (جیسے Kahles Optics، Peregrine Bullets اور HawkSmith) کے سفیر ہیں، کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس خام ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ تاہم، عالمی اسٹیج پر مسلسل فتح حاصل کرنے کے لیے صرف جسمانی ٹریننگ کافی نہیں ہوتی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کا ذکر کیا، جو جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں اپنی تمام تر عالمی سطح کی صلاحیتوں کے باوجود چوتھے نمبر پر رہے۔ محسن نواز کے مطابق، بین الاقوامی سطح پر ایٹلیٹس کی کارکردگی میں یہ اتُار چڑھاؤ مہارت کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ہائی پریشر مقابلوں کے دوران باقاعدہ اور مسلسل نفسیاتی تیاری کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارے صحت (WHO) کے مطابق ڈپریشن اور اینگزائٹی دنیا بھر میں طویل مدتی معذوری کی دوسری بڑی وجہ ہیں۔ پاکستان کی ایک تہائی آبادی اگر ذہنی طور پر نڈھال رہے گی تو اس کا براہِ راست اثر تعلیمی، معاشی اور پیداوری صلاحیتوں پر پڑے گا۔ کھیلوں کی دنیا میں یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر لیتا ہے۔
پاکستانی کھیلوں کے ہولناک سچ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: "ہماری کھیلوں کی فیڈریشنز میں پٹھوں اور مسلز کے علاج کے لیے فزیو تھراپسٹ تو موجود ہوتے ہیں، لیکن دماغ اور ذہن کی دیکھ بھال کے لیے کوئی اسپورٹس سائیکالوجسٹ نہیں ہوتا۔ ایلیٹ ایٹلیٹس عام لوگوں کی نسبت 11 فیصد زیادہ اینگزائٹی کا شکار ہوتے ہیں، جو ان کے فیصلوں اور کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کھلاڑی درد اور چوٹ کو چھپا کر میدان میں اترتے ہیں اور انجری کے بعد بغیر نفسیاتی علاج کے وقت سے پہلے ریٹائر ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔”
رابطے اور جسمانی تصادم والے کھیلوں میں چوٹ کا خوف اور شدید درد کھلاڑیوں کو سخت مایوسی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ خود پاکستانی کھلاڑیوں کے بیانات اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان میں قومی کیمپوں کا ماحول اور سلیکشن پالیسیاں اکثر کھلاڑیوں کو شدید ذہنی تناؤ اور خوف میں رکھتی ہیں۔
محسن نواز نے اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی کرکٹر، ہاکی پلیئر یا اولمپئن کھلے عام اپنی ذہنی صحت پر بات کرتا ہے، تو اس سے ملک کے 24 کروڑ عوام میں اس موضوع پر موجود جھجک اور برائی کا تاثر ختم ہوتا ہے۔پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران محض کسی کا ذاتی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک عمومی، معاشی اور قومی روڈ میپ کا ہنگامی مسئلہ ہے۔
کھیلوں میں جہاں ہم اپنے ایٹلیٹس سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، وہاں ہم نے ان کے انسان ہونے اور ان کے ذہن کو بالکل فراموش کر دیا ہے۔پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026ء کے ذریعے پالیسی سازوں کو یہ واضح پیغام مل جانا چاہیے کہ "ذہنی صحت ہی اصل صحت ہے، اور نفسیاتی لچک ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔” اب وقت آ گیا ہے کہ تمام قومی اسپورٹس فیڈریشنز کھلاڑیوں کی نفسیاتی آمادگی کو ان کی روزمرہ تربیت کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ پاکستان کے ہنر مند جوان عالمی میدانوں میں فتح کو اپنا مقدر بنا سکیں۔







