خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ

اداریہ۔۔۔۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ
خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اور عوام کے جان و مال کو لاحق خطرات کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکلز 232اور 234کے تحت اس اقدام کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جب کسی صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال سنگین ہوجائے اور دہشت گردی کے خطرات معمول کی انتظامی صلاحیت پر دبا ڈالنے لگیں تو ریاست کو عوام کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔ کسی بھی ریاست کی اولین ذمے داری اپنے شہریوں کی جان، مال اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ حکومتیں عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آتی ہیں، لیکن اس مینڈیٹ کے ساتھ ذمے داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اگر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل نشانے پر ہوں اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہوں تو صورتِ حال کا سنجیدہ جائزہ لینا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں وفاقی حکومت کی خاموشی یا محض بیانات پر اکتفا کرنا بھی عوامی توقعات کے منافی ہوگا۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور لاقانونیت کی روک تھام کے لیے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتر رہی۔ حکومت نے اسی صورتِ حال کو غیر معمولی آئینی اقدام کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس موقف کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ضلع، صوبے یا حکومت کا محدود مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا چیلنج ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان موثر رابطہ، معلومات کا تبادلہ اور مربوط حکمت عملی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتظامی کمزوری، سیاسی اختلافات اور اداروں کے درمیان عدم تعاون کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اگر مختلف حکومتی سطحوں کے درمیان موثر رابطہ قائم نہ ہو تو اس کا نقصان بالآخر عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ عوام کو اس بات سے غرض ہے کہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو، کاروبار بلاخوف جاری رہے، بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں اور شہری اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔ یہی وہ بنیادی تقاضے ہیں جن کی روشنی میں کسی بھی حکومتی فیصلے کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج معمول کی حکمرانی کا متبادل نہیں بلکہ غیر معمولی حالات میں اختیار کیے جانے والے آئینی اقدامات ہیں۔ ان کا جواز، مدت اور عملی نتائج واضح ہونے چاہییں۔ وفاقی حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس اقدام کے ذریعے امن و امان کی صورتِ حال میں قابلِ پیمائش بہتری لائے، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مثر کارروائیاں یقینی بنائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ محض انتظامی اختیارات کی منتقلی اس وقت تک کافی نہیں ہوگی جب تک اس کے نتیجے میں عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری نظر نہ آئے۔ آئین پاکستان وفاق اور صوبوں کے اختیارات، ذمے داریوں اور غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار متعین کرتا ہے۔ لہٰذا موجودہ اقدام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں، متعلقہ آئینی فورمز کے سامنے ضروری کارروائی مکمل کی جائے اور عدالتی نگرانی سمیت قانونی تحفظات کا احترام برقرار رکھا جائے۔ قومی سلامتی اور آئینی بالادستی ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک مستحکم ریاست کے دو بنیادی ستون ہیں۔ اس موقع پر سیاسی قیادت کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی کے معاملات میں سیاسی مفادات کو عوامی تحفظ پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ اختلافِ رائے رکھنے والی جماعتوں کو بھی اپنے تحفظات آئینی اور جمہوری طریقے سے پیش کرنے چاہئیں جب کہ وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی وجوہ، مقاصد اور نتائج کے بارے میں شفاف انداز میں عوام کو آگاہ کرے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث طویل عرصے تک مشکلات برداشت کی ہیں۔ نقل مکانی، معاشی نقصان، تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹیں اور عدم تحفظ کے احساس نے اس خطے کے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس لیے موجودہ انتظامی اقدام کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ آیا اس سے عوام کو پائیدار امن میسر آتا ہے یا نہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھی توجہ دے، کیونکہ دیرپا امن کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ سماجی اور معاشی استحکام بھی ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائیوں کے دوران بے گناہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور کسی شخص کے خلاف اقدام قانون اور شواہد کی بنیاد پر ہو۔ دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی وہی ہوگی جو مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائے، عوام کا اعتماد بحال کرے اور ریاستی اداروں کی ساکھ مضبوط بنائے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو محض سیاسی کشمکش کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے قومی سلامتی، آئینی ذمے داری اور عوامی تحفظ کے تناظر میں جانچنا چاہیے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کو دہشت گردی کے بڑھتے خطرات اور انتظامی ناکامیوں کے تدارک کی ضرورت سے جوڑا ہے، اب اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو عملی نتائج سے ثابت کرے۔ امن کی بحالی، شہریوں کا تحفظ، آئینی تقاضوں کی پابندی اور شفاف حکمرانی ہی اس فیصلے کی کامیابی کے حقیقی پیمانے ہوں گے۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم مضبوط ہو اور خیبر پختونخوا کے عوام کو خوف کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کا ماحول میسر آئے۔
شذرہ۔۔۔۔
سری لنکا کیخلاف شاندار فتح
پاکستان کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 82رنز کی شاندار کامیابی حاصل کرکے تین میچوں کی سیریز میں 0۔2کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ یہ کامیابی پاکستانی کھلاڑیوں کی بہترین بیٹنگ، مثر بولنگ اور میدان میں مضبوط کارکردگی کا ثبوت ہے۔ قومی ٹیم نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے شائقینِ کرکٹ کے دل جیت لیے ہیں۔ راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تین وکٹوں کے نقصان پر 215رنز کا بڑا مجموعہ ترتیب دیا۔ معاذ صداقت نے 96رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جب کہ کپتان صاحبزادہ فرحان نے 73رنز بناکر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی۔ دونوں بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی نے پاکستانی بیٹنگ کو نئی قوت بخشی اور حریف ٹیم کے لیے ہدف کا تعاقب مشکل بنا دیا۔ جواب میں سری لنکا کی ٹیم مقررہ 20اوورز میں سات وکٹوں پر 133رنز بنا سکی۔ پاکستانی بولرز نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے حریف بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ عمران رندھاوا نے تین وکٹیں حاصل کرکے نمایاں کارکردگی دکھائی جب کہ سلمان مرزا نے دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے بھی ایک، ایک وکٹ حاصل کرکے کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس فتح سے پاکستان نے نہ صرف سیریز اپنے نام کی بلکہ ٹیم کے اعتماد میں اضافے کا موقع بھی حاصل کیا ہے۔ تاہم کامیابیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ کھلاڑی اپنی کارکردگی میں مستقل مزاجی برقرار رکھیں۔ بیٹنگ میں ذمے دارانہ کھیل، بولنگ میں درست لائن و لینتھ اور فیلڈنگ میں چستی آئندہ مقابلوں میں بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ قومی ٹیم کو چاہیے کہ وہ اس کامیابی پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنی خامیوں کا جائزہ لے اور آئندہ مقابلوں کے لیے مزید بہتر تیاری کرے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع ملنے چاہئیں، جبکہ تجربہ کار کھلاڑیوں کو ٹیم کی رہنمائی کا کردار موثر انداز میں ادا کرنا چاہیے۔ پاکستانی شائقین ہمیشہ اپنی ٹیم سے بہترین کھیل اور بھرپور مقابلے کی توقع رکھتے ہیں۔ امید ہے کہ قومی ٹیم آئندہ میچوں میں بھی اسی جذبے، محنت اور پیشہ ورانہ انداز کے ساتھ میدان میں اترے گی اور پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔





