Column

انقلاب کا نیا سویرا

انقلاب کا نیا سویرا
تحریر : رفیع صحرائی
ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جب انسان معمولی بخار کو بھی موت کا پیغام سمجھتا تھا۔ ایک معمولی انفیکشن پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا تھا، وبائیں شہر کے شہر اجاڑ دیتیں اور لاعلاج بیماری انسان کو بے بسی کی ایسی تصویر بنا دیتی جس کے سامنے علم، دولت اور طاقت سب بے معنی دکھائی دیتے۔
تب انسان نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا بے بسی کی موت مرنا مقدر ہے اور بیماری کو تقدیرسمجھ کر مرنے کا انتظار کرنا درست ہے یا بیماری کا علاج بھی ممکن ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ اس نے تحقیق کی، تجربے کیے اور قدرت کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ یہی جستجو طب کی ترقی کا باعث بنی۔ ویکسین دریافت ہوئیں، اینٹی بایوٹکس وجود میں آئیں، پیچیدہ آپریشن ممکن ہوئے اور تشخیص کے ایسے ذرائع سامنے آئے جنہوں نے انسانی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنا دیا۔
لیکن انسانی سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ سائنس آج ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، جینیاتی تحقیق، بگ ڈیٹا اور جدید کمپیوٹنگ مل کر طب کی دنیا میں ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ انقلاب صرف نئی مشینوں یا جدید آلات کا نام نہیں بلکہ بیماری کو سمجھنے، اس کی پیش گوئی کرنے اور علاج کے طریقہ کار کو ازسرنو متعین کرنے کا عمل ہے۔
عالمی اداروں کی تحقیقی رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص اور اس کے حل پر کام کر رہی ہے۔ اگر اس کے نتائج مثبت ثابت ہوتے ہیں تو یہ تحقیق مستقبل میں بیماریوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے، ان سے بچا اور علاج کے طریقوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انسانی جسم بظاہر ایک مکمل اکائی ہے، مگر حقیقت میں یہ اربوں خلیوں، پیچیدہ کیمیائی تعاملات اور جینیاتی معلومات کا ایک حیرت انگیز نظام ہے۔ بیماری اچانک وجود میں نہیں آتی؛ اکثر اس کے آثار جسم کے اندر اس وقت سے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں جب انسان بظاہر بالکل صحت مند دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ ماضی میں ان خاموش تبدیلیوں کو بروقت سمجھنا انتہائی مشکل تھا۔ آج مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر موجود طبی اور جینیاتی معلومات کا تجزیہ کرکے ان معمولی تبدیلیوں میں ایسے پیٹرن تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو انسانی آنکھ یا روایتی طریقہ تشخیص سے آسانی سے نظر نہیں آتے۔
یہاں سے طب کے ایک نئے تصور کا آغاز ہوتا ہے کہ بیماری کا علاج اس کے ظاہر ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس کے نمودار ہونے سے پہلے ممکن ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ کسی شخص میں کسی خطرناک بیماری کے آثار موجود ہیں مگر اسے اس کا علم نہیں۔ مصنوعی ذہانت اس کے طبی ریکارڈ، ٹیسٹ رپورٹس، جینیاتی معلومات اور دیگر متعلقہ ڈیٹا کا تجزیہ کرکے ڈاکٹر کو یہ اشارہ دے سکتی ہے کہ مریض مستقبل میں کسی مخصوص بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں احتیاط، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور بروقت طبی مداخلت کسی بڑے سانحے کو ٹال سکتی ہے ۔ دل کے امراض، کینسر اورشوگر جیسے امراض کی قبل از وقت تشخیص نے اس کی اہمیت کو بہت بڑھا دیا ہے۔ادویات کی تیاری کے میدان میں بھی یہ ٹیکنالوجی ایک نئے دور کی نوید بن رہی ہے۔ نئی دوا کی دریافت ایک طویل، مہنگا اور خطرناک عمل رہا ہے۔ برسوں کی تحقیق، تجربات اور بھاری اخراجات کے بعد بھی یہ ممکن ہے کہ دوا انسانی جسم پر مطلوبہ اثر نہ کرے۔ مصنوعی ذہانت اس عمل کو تیز اور نسبتاً موثر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ مختلف مالیکیولز، خلیوں اور ممکنہ کیمیائی تعاملات کا کمپیوٹر کے ذریعے ابتدائی تجزیہ کرکے ایسی ادویات کو پہلے ہی خارج کیا جا سکتا ہے جن کے ناکام ہونے کا امکان زیادہ ہو۔
یہ نہ صرف وقت اور سرمایہ بچانے کا ذریعہ ہے بلکہ مستقبل کی طب کو ایک اور اہم سمت بھی دے رہا ہے، جسے Personalized Medicine کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر مریض کے لیے اس کی جسمانی اور جینیاتی ساخت کے مطابق علاج۔ ممکن ہے۔ آنے والے وقت میں ڈاکٹر صرف یہ نہ دیکھے کہ مریض کو کون سی بیماری ہے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ اس مخصوص مریض کا جسم کسی دوا کے ساتھ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گا۔ یوں علاج زیادہ مثر اور غیر ضروری مضر اثرات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہر دوائی ایک ہی بیماری کے لیے تمام مریضوں پر یکساں اثر نہیں کرتی۔ اس کی وجہ انسانوں میں انفرادی جینیاتی اختلاف ہے۔
تاہم اس بات کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ سائنس کی ہر نئی منزل اپنے ساتھ کچھ سوالات بھی لاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے طبی استعمال کا سب سے اہم سوال مریض کے ڈیٹا کی رازداری ہے۔ کسی شخص کی جینیاتی معلومات محض ایک طبی رپورٹ نہیں بلکہ اس کی حیاتیاتی شناخت کا حصہ ہے۔ اگر ایسی معلومات غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو ملازمت، انشورنس، صحت اور نجی زندگی کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کے ساتھ مضبوط قوانین، ڈیٹا پروٹیکشن اور اخلاقی ضوابط ناگزیر ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔ اگر اسے ناقص یا نامکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے تو نتائج غلط بھی ہو سکتے ہیں۔ مشین جذبات، انسانی تجربے اور مریض کے انفرادی حالات کو اس طرح نہیں سمجھ سکتی جیسے ایک ماہر ڈاکٹر سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں مصنوعی ذہانت کو ڈاکٹر کا متبادل بنانے کے بجائے ڈاکٹر کا ذہین معاون سمجھنا ہوگا۔
اصل امتحان یہ بھی ہے کہ اس انقلاب کے ثمرات کس کو ملتے ہیں؟ اگر جدید ترین تشخیص اور علاج صرف امیر ممالک یا صاحبِ ثروت افراد کی دسترس میں رہے تو یہ سائنسی ترقی انسانیت کے درمیان موجود خلیج کو مزید وسیع کر سکتی ہے۔ صحت کسی مخصوص طبقے کا استحقاق نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ عالمی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ترقی پذیر دنیا بھی اس علمی اور طبی انقلاب سے محروم نہ رہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں کینسر، ہیپاٹائٹس، ٹی بی، ڈینگی، دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا بوجھ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ دوسری طرف ہمارے پاس نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد، آئی ٹی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی صلاحیت اور طبی میدان میں باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ اگر ان قوتوں کو ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کے تحت یکجا کر دیا جائے تو پاکستان محض اس ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ اس کا تخلیق کار بھی بن سکتا ہے۔
ہمیں میڈیکل یونیورسٹیوں، انجینئرنگ اداروں، آئی ٹی ماہرین اور فارماسیوٹیکل صنعت کے درمیان تعاون بڑھانا ہوگا۔ مقامی طبی ڈیٹا کے محفوظ ذخیرے قائم کرنے، نوجوانوں کو بائیو انفارمیٹکس اور ڈیٹا سائنس کی تعلیم دینے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مقامی طبی حل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو تحقیق کے لیے فنڈز بڑھانے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور جامعات کے درمیان اشتراک کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ہم اس انقلاب کو بھی صرف سیمیناروں، تقریروں اور افتتاحی تختیوں تک محدود کردیں۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔ اب محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں۔ انہیں مواقع، وسائل، جدید لیبارٹریاں اور تحقیق کا ماحول بھی دینا ہوگا۔ اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں سائنس اور انسانیت کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت رفتار دے سکتی ہے، معلومات فراہم کر سکتی ہے اور پیچیدہ حسابات چند لمحوں میں حل کر سکتی ہے، مگر مریض کے آنسو پونچھنے کے لیے پھر بھی انسان ہی درکار ہوگا۔ ٹیکنالوجی علاج کو بہتر بنا سکتی ہے، مگر شفا کے سفر میں ہمدردی، اعتماد اور انسانی لمس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی۔
آنے والا زمانہ شاید ایسا ہو جہاں بیماری کی تشخیص اس وقت ہوجائے جب اس کی علامات ظاہر بھی نہ ہوئی ہوں، جہاں دوا کی تیاری میں برسوں کے بجائے کہیں کم وقت لگے اور جہاں علاج ہر انسان کی مخصوص جسمانی ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ یہ صرف طبی سائنس کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ انسانی عقل و شعور کی ایک عظیم فتح ہوگی۔
انقلاب کا نیا سویرا طلوع ہو رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس سویرا کے استقبال کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ اگر ہم نے تعلیم، تحقیق، صحت اور ٹیکنالوجی کو قومی ترجیحات میں حقیقی مقام دے دیا تو مصنوعی ذہانت ہمارے لیے محض ایک جدید اصطلاح نہیں رہے گی بلکہ لاکھوں زندگیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
رفیع صحرائی

جواب دیں

Back to top button