Column

صدائے جہاں

صدائے جہاں
تحریر: حافظ بختیار احمد
کیریک۔26وزارتی کانفرنس اور پاکستان میزبانی کا خواہاں
دنیا آج جس تیزی سے معاشی، تجارتی اور جغرافیائی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، اس میں علاقائی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ممالک اب صرف اپنی قومی سرحدوں کے اندر ترقی کے خواب نہیں دیکھتے بلکہ تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور باہمی رابطہ کاری کے ذریعے مشترکہ خوش حالی کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ اسی تصور کی ایک اہم مثال وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون، یعنی کیریک، ہے، جو خطے کے ممالک کو تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لانے والا اہم علاقائی پلیٹ فارم ہے۔ کیریک میں 11ممالک شامل ہیں اور ایشیائی ترقیاتی بینک اس کے ترقیاتی تعاون اور ادارہ جاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کرنا ضروری ہے کہ 2026ء میں کیریک کی 25ویں وزارتی کانفرنس منگولیا کے دارالحکومت اولان باتر میں 29ستمبر سے 2اکتوبر تک منعقد ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان نے 2027ء میں کیریک کی سربراہی سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی خواہش اور آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے 25ویں وزارتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے 2027ء میں کیریک کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے محض ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کا معاملہ نہیں بلکہ خطے میں پاکستان کے اقتصادی، تجارتی اور رابطہ کاری کے کردار کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ پچیس برس مکمل کرنے والا کیریک اب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور 2026ء کی کانفرنس کا مرکزی تصور بھی’’25 سالہ شراکت داری، مستقبل کو مل کر تشکیل دینا‘‘ ہے۔
پروفیسر احسن اقبال چودھری نے کیریک فورم پر پاکستان کے لیے ایک ایسا اقتصادی تصور پیش کیا جس میں علاقائی رابطہ کاری کو محض شاہراہوں اور پلوں تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، لاجسٹکس، ڈیجیٹل رابطہ کاری، توانائی، سرحدی سہولتوں اور موسمیاتی مزاحمت کے ساتھ جوڑنے پر زور دیا گیا۔ ان کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کوئی ٹرک ایک راستے سے گزر سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا کوئی کاروبار اس راستے کو قابلِ اعتماد، مسابقتی اور منافع بخش انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
یہی سوال پاکستان کے مستقبل کی علاقائی اقتصادی حکمت عملی کا بھی بنیادی سوال ہے۔ کیریک کا مقصد کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اس پورے علاقائی منصوبے کی روح سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ کیریک کا بنیادی تصور رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور رابطہ کاری کو فروغ دینا، علاقائی منڈیوں کو باہم مربوط کرنا اور مشترکہ ترقی کے لیے سرمایہ کاری و منصوبہ بندی کو آگے بڑھانا ہے۔ 2026ء کے کیریک ایجنڈے میں تجارت و کوریڈور رابطہ کاری، ڈیجیٹل اور توانائی کی راہداریاں، سرمایہ کاری، نجی شعبے کی ترقی اور نئے تزویراتی شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔
آج کی دنیا میں تجارت صرف سڑک بنانے کا نام نہیں۔ اگر ایک تجارتی گاڑی سرحد پر کئی گھنٹے یا دن کھڑی رہے، کاغذی کارروائی میں تاخیر ہو، کسٹمز کے طریقہ کار مختلف ہوں اور معلومات ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بروقت منتقل نہ ہوں تو بہترین شاہراہ بھی اپنی پوری معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی لیے مستقبل کی علاقائی تجارت میں جدید کسٹمز، سرحدی انتظام، ڈیجیٹل معلومات کے تبادلے اور تجارتی سہولت کاری کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے لیے کیریک اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ہمارا ملک وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، چین اور بحیرۂ عرب کے درمیان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ کیریک کوریڈورز 5اور 6کے حوالے سے پاکستان وسطی ایشیا کو بحیرۂ عرب اور عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے امکانات کو اہمیت دے رہا ہے۔ احسن اقبال نے اسی تناظر میں کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو مشترکہ علاقائی ترقی کے محرک میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
یہ تصور پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ وسطی ایشیا کی منڈیاں پاکستان کے زمینی راستوں اور بندرگاہوں تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا کی وسیع منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے ٹرانزٹ تجارت، لاجسٹکس، گودام، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے صرف بندرگاہ کافی نہیں؛ شاہراہ، ریلوے، سرحدی گزرگاہ، خشک بندرگاہ، کسٹمز اور لاجسٹک نظام کو ایک مربوط زنجیر بنانا ہوگا۔
اسی سلسلے میں ایم ایل ون پاکستان کی علاقائی رابطہ کاری کی حکمت عملی میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کیریک کانفرنس کے موقع پر ایم ایل ون کو پاکستان کی تجارت، مال برداری اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جدید کاری پر زور دیا۔ سرکاری معلومات کے مطابق کراچی سے پشاور تک قریباً 1726
کلومیٹر طویل ایم ایل ون پاکستان کے ریلوے نظام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور موجودہ انفراسٹرکچر کی محدودیت کے باوجود مسافر اور مال برداری کے بڑے حصے کو سنبھالتی ہے۔
اگر پاکستان وسطی ایشیا کو جنوبی سمندری راستوں سے جوڑنے کا ہدف رکھتا ہے تو جدید ریلوے، مال برداری اور لاجسٹکس اس حکمت عملی کا لازمی حصہ ہوں گے۔ اسی طرح گوادر اور دیگر پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی تجارتی نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے زمینی راستوں، ریلوے، سرحدی سہولتوں اور بندرگاہی نظام کے درمیان عملی ربط پیدا کرنا ہوگا۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مجوزہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبہ بھی اسی وسیع علاقائی تصور کا ایک اہم پہلو ہے۔ حالیہ کیریک سرگرمیوں کے دوران پاکستان اور ازبکستان نے اس رابطے کو قابلِ عمل منصوبوں، فنانسنگ اور واضح عمل درآمد کے راستے سے جوڑنے پر گفتگو کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل کی علاقائی رابطہ کاری صرف ایک ملک کا منصوبہ نہیں بلکہ متعدد ممالک، اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے مشترکہ تعاون کی متقاضی ہوگی۔
ڈیجیٹل رابطہ کاری بھی اس نئے اقتصادی منظرنامے کا اہم ستون ہے۔ جولائی 2026ء میں اسلام آباد میں کیریک ڈیجیٹل کوریڈور کے مطالعاتی اجلاس میں نو کیریک رکن ممالک کے نمائندوں نے سرحد پار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز، ضابطہ جاتی تعاون، سائبر سکیورٹی اور سرمایہ کاری کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس تناظر میں پاکستان کا سنگل ونڈو تجربہ بھی علاقائی سطح پر تجارتی سہولت کاری کے لیے مفید مثال بن سکتا ہے۔ اگر رکن ممالک کے کسٹمز اور تجارتی نظام زیادہ مربوط ہوں، معلومات بروقت منتقل ہوں اور سرحدی کارروائیوں میں غیر ضروری تکرار کم ہو تو تجارت کی رفتار، شفافیت اور پیش بینی بہتر ہو سکتی ہے۔
کیریک کا مستقبل صرف سڑکوں اور ریلوے کی پٹریوں تک محدود نہیں۔ توانائی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے، مالیاتی تعاون، علم و تحقیق، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی بھی علاقائی تعاون کے اہم شعبے بنتے جا رہے ہیں۔ 2026ء کی تیاریوں میں بھی تجارت، ڈیجیٹل و توانائی کی راہداریوں، سرمایہ کاری، نجی شعبے اور نئے تزویراتی شعبوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ سیلاب، شدید بارشیں، پانی کے مسائل اور دیگر موسمیاتی خطرات نے یہ واضح کیا ہے کہ ترقیاتی انفراسٹرکچر کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ کیریک کے تناظر میں علاقائی موسمیاتی تعاون، آفات سے پہلے تیاری، پانی کے بہتر انتظام اور موسمیاتی موافقت کے لیے مالی وسائل کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
احسن اقبال نے 30ستمبر 2026ء کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر سے ملاقات میں انتہائی موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے موسمیاتی موافقت اور مزاحمت کی خصوصی مالی سہولت کی تجویز بھی پیش کی۔ پاکستان کے سیلابی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک کو آفات کے بعد ہی نہیں بلکہ آفات سے پہلے تیاری کے لیے بھی مالی معاونت درکار ہے۔ یہ پہلو پاکستان کی مجوزہ 2027ء کی سربراہی کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی میزبانی کے دوران علاقائی رابطہ کاری کو موسمیاتی مزاحمت، پانی کے تحفظ اور آفات سے نمٹنے کے نظام سے جوڑنے میں کامیاب ہوتا ہے تو کیریک کا اقتصادی تصور مزید وسیع انسانی اور ماحولیاتی معنویت اختیار کر سکتا ہے۔
اسی طرح علم اور تحقیق کو بھی علاقائی تعاون کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیریک انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے حالیہ مباحث میں علاقائی علمی مرکز، ماہرین کے نیٹ ورک، معلومات کے تبادلے اور پالیسی تجربات کو فروغ دینے کی ضرورت سامنے آئی ہے۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ پائیدار ترقی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ بہتر علم، بہتر منصوبہ بندی اور بہتر ادارہ جاتی صلاحیت سے بھی وابستہ ہے۔ پاکستان کے لیے 2027ء کی کیریک سربراہی کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ اس موقع کو ایک رسمی سفارتی سرگرمی سے آگے بڑھا کر عملی نتائج کے پلیٹ فارم میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ ترجیحات واضح ہوں، منصوبوں کی فنانسنگ طے ہو، ذمہ دار ادارے متعین ہوں، عمل درآمد کی ٹائم لائنز مقرر ہوں اور نتائج کی پیمائش کا نظام موجود ہو تو علاقائی تعاون زیادہ موثر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ بالخصوص سرحدی تجارت کے معاملے میں پاکستان کے لیے عملی اقدامات اہم ہوں گے۔ سرحدی گزرگاہوں پر انتظار کا وقت کم کرنا، الیکٹرانک معلومات کا تبادلہ، کسٹمز کے طریقۂ کار میں ہم آہنگی، مال برداری کی رفتار، خشک بندرگاہوں اور بندرگاہوں کے درمیان رابطہ اور تاجروں کے لیے قابلِ پیش بینی نظام علاقائی تجارت کو حقیقی معنوں میں فروغ دے سکتے ہیں۔
یہاں نوجوانوں، خواتین اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر علاقائی اقتصادی راہداریوں سے صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ ہو اور مقامی آبادی معاشی مواقع سے دور رہے تو رابطہ کاری کا مکمل فائدہ سامنے نہیں آ سکے گا۔ اس لیے روزگار، ہنرمندی، چھوٹے کاروبار اور مقامی صنعت کو بھی علاقائی اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ضروری ہوگا۔ پاکستان کے لیے کیریک صرف ایک بین الاقوامی فورم نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں جغرافیہ، تجارت اور ترقی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ پاکستان اگر وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تو اسے سفارتی روابط کے ساتھ ساتھ قابلِ عمل منصوبوں، فنانسنگ، انفراسٹرکچر اور تجارتی سہولت کاری پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔2027ء میں پاکستان کی کیریک سربراہی اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی آمادگی اسی وسیع تر علاقائی تصور کا حصہ ہے۔ پروفیسر احسن اقبال چوہدری کی جانب سے کیریک فورم پر پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع، کوریڈورز، ریلوے، سرحدی سہولتوں، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور موسمیاتی تعاون کو اجاگر کرنا پاکستان کے لیے ایک واضح اقتصادی ایجنڈے کی ترجمانی کرتا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیے کو کس حد تک معاشی رابطے میں تبدیل کر پاتا ہے۔ کیا وسطی ایشیا کی منڈیاں پاکستان کی بندرگاہوں سے زیادہ موثر انداز میں جڑ سکیں گی؟ کیا شاہراہیں اور ریلوے تجارت کی رفتار بڑھا سکیں گے؟ کیا سرحدی نظام تاجروں کے لیے آسان اور تیز ہوگا؟ کیا علاقائی راہداریوں کے ساتھ نوجوانوں، خواتین، مقامی صنعت اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے؟۔ ان سوالات کے جوابات صرف اعلانات میں نہیں بلکہ آنے والے برسوں کے عملی اقدامات میں پوشیدہ ہیں۔
کیریک نے پچیس برس میں علاقائی تعاون کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اب اگلا مرحلہ اس تعاون کو مزید عملی، تیز رفتار اور عوامی معاشی فوائد سے جوڑنے کا ہے۔2027ء کی کیریک سربراہی پاکستان کے لیے ایک موقع ہے’’ اپنے جغرافیے کو رابطے میں، رابطے کو تجارت میں، تجارت کو سرمایہ کاری میں اور سرمایہ کاری کو روزگار اور خوش حالی میں تبدیل کرنے کا موقع‘‘۔ پروفیسر احسن اقبال چودھری اور پاکستان کی اس پیش قدمی کو مبارکباد۔ امید ہے کہ کیریک۔26کی میزبانی پاکستان کے لیے علاقائی اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور عملی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button