Column

بالآخر وہی ہوا۔۔۔

تھرڈ امپائر
بالآخر وہی ہوا۔۔۔
تحریر: محمد ناصر شریف
بالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، یعنی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ہوگیا۔ وفاقی کابینہ نے آرٹیکل 232 اور 234کے نفاذ کی منظوری دے دی، جس کے بعد صدر مملکت نے ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیئے، گورنر راج کے بعد وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں فوج تعینات کردی اور خیبر پختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کے ساتھ ہی گورنر نے بطور ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی وزیراعلی سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر اور بابر سلیم سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنمائوں کو حراست میں لیا گیا ہے، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوابی میں پی ٹی آئی کے56کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، حکومت نے اسلام آباد میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا، پولیس کی بھاری نفری تعینات اور ریڈ زون میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے، پشاور میں موبائل فون سروس بند، ریڈ زون سیل کر دیا گیا ہے۔
اس بار بھی آئین کے آرٹیکل 232یعنی اندرونی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہونے کی بنیاد پر ایمرجنسی اور آرٹیکل 234صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کے بعد گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔ اب اس فیصلے کے جو 3اہم پہلو سامنے آئے ہیں، جن میں صوبائی انتظامی اختیارات کی منتقلی، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر وفاق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات اور گورنر راج کے آئینی جواز پر ممکنہ قانونی تنازع شامل ہے۔
پی ٹی آئی نے گورنر راج کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد متعلقہ درخواستوں، عدالتی سماعتوں اور احکامات سے اس فیصلے کے قانونی مستقبل کی سمت واضح ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 234کے تحت اعلان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری اور مقررہ آئینی مدت کی پابندی اہم ہوگی۔
ویسے پاکستان میں اس طرح کے اقدامات نئے نہیں عوام ہر چند برسوں کے بعد اس طرح کے اقدامات کے عادی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا حالانکہ معزول وزیراعلی سہیل آفریدی نے اتوار کی صبح عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تھی، بعض مقامات پر چند افراد باہر نکلے، منتشر کر دیا گیا، درجنوں افسر او ایس ڈی بنا دیئے گئے ۔
ملک کی تاریخ میں 16مرتبہ گورنر راج لگایا گیا، جبکہ1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد سات بار گورنر راج لگ چکا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد صوبوں میں خصوصی اختیارات کا نفاذ تین، تین بار پنجاب، سندھ ، موجودہ سمیت چار بار صوبہ سرحد ( خیبرپختونخوا) اور بلوچستان اور دو بار مشرقی پاکستان میں ہوا۔ خیبرپختونخوا میں پہلی بار 16فروری 1975ء سے 3مئی 1975ء تک، دوسری بار 25فروری 1994ء سے 24اپریل 1994ء تک اور تیسری بار 12اکتوبر 1999ء سے 30 نومبر 2002ء تک نافذ رہا۔ اب اکتوبر 2026ء میں چوتھی بار خصوصی اختیارات کا نفاذ ہوا ہے۔ پاکستان میں 1973ء کے آئین کے بعد جمہوری حکومتوں کے ادوار میں 7بار صوبوں میں گورنر راج لگایا گیا۔ جس میں چھ بار پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں جبکہ ایک بار مسلم لیگ ن کے دور شامل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 2بار بلوچستان، 1بار صوبہ سرحد ( خیبر پختونخوا) میں اختیار استعمال کیا۔ صدر آصف زرداری نے 1بار پنجاب، 1بار بلوچستان اور اب خیبر پختونخوا میں استعمال کیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے 1بار خیبر پختونخوا میں جبکہ میاں نواز شریف نے 1بار سندھ میں استعمال کیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ جمہوری اقدام ہے یا غیر جمہوری؟ اس کا فیصلہ صرف سیاسی موقف کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین، قانونی جواز اور منتخب حکومت کے اختیارات کے تناظر میں کیا جانا چاہیے۔ جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے آئینی مدت کے دوران حکومت کریں اور ان کے اختیارات کو صرف آئین میں دئیے گئے طریقۂ کار کے مطابق محدود کیا جائے۔ اگر کسی صوبائی حکومت کو محض سیاسی اختلاف، مخالف جماعت کو کمزور کرنے یا اقتدار کی کشمکش کے باعث ہٹایا جائے تو یہ جمہوری اصولوں سے متصادم ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر صوبے میں واقعی آئینی نظام کی ناکامی کی صورتِ حال پیدا ہو اور آئین میں مقررہ شرائط پوری ہوں تو غیر معمولی اقدام کی قانونی گنجائش موجود ہوسکتی ہے۔ تاہم کسی اقدام کا آئینی طور پر ممکن ہونا اور اس کا جمہوری طور پر مناسب ہونا دو الگ سوال ہیں۔
اس اقدام کے اثرات پر نظر ڈالی جائے تو پی ٹی آئی اور حکومتی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے گی جو فاصلے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں کم ہوتے ہوئے نظر آ رہے تھے وہ اب بڑھ جائیں گے۔ ابھی تک تو کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا لیکن احتجاج، جلسوں اور عدالتی چارہ جوئی میں تیزی آسکتی ہے۔ دیگر صوبوں میں بھی کوئی صورت حال آئیڈیل نہیں وہاں سے بھی اس طرح کے اقدام کے مطالبات زور پکڑ سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت پر تنقید اور سیاسی تقسیم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر صوبے میں بے یقینی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو کاروباری اعتماد، سیاحت اور سرمایہ کاری متاثر ہوگی ۔ ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری ادائیگیوں میں تاخیر کا خدشہ ہے۔
اب خیبر پختونخوا میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ دہشت گردی کے واقعات کم ہوں، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں محفوظ ہوں اور متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں۔ صرف حکومت تبدیل کرنے سے امن قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے موثر پالیسی، وسائل، مقامی تعاون اور استحکام ضروری ہیں، طویل عرصے سے قائم ایک جماعت کی حکومت کو ہٹانے کے بعد یہی اصل امتحان ہے اور دیکھنا اب یہ ہے کہ وفاقی حکومت اپنے ’’ غیر پسندیدہ لیکن آئینی اقدام‘‘ کو کس طرح بہتر فیصلہ ثابت کرتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button