آخر ریاست کہاں ہے ؟

آخر ریاست کہاں ہے ؟
تجمّل حسین ہاشمی
ہمارے گھروں سے اٹھنے والے جنازے، ہماری مائوں کی اجڑتی گودیں، باپوں کی ٹوٹتی امیدیں، نوجوانوں کے بکھرتے خواب ، آخر ریاست کہاں ہے ؟۔ روزانہ کی بنیاد پر خودکشیوں میں اضافہ، عوام کے خالی پیٹ، طاقتور کی سر عام غنڈا گردی ، دہشتگردوں کی غنڈا گردی اور لا قانونیت پر تحقیقاتی اعلانات کے بعد بھی سب کچھ معمول لگتا ہے۔ غریب کا بچہ غربت سے ہار جاتا ہے، نوجوان بے روزگاری سے مر رہا ہے۔ خاندان دھوکے بازوں کے ہاتھوں زندگی بھر کی جمع پونجی گنوا بیٹھے ہیں، مگر ان سانحات کے بعد نظام بدلتا کیوں نہیں۔ ایمرجنسی کیوں نہیں لگتی ؟۔ قانون صرف کمزور کے گرد حرکت کیوں کرتا ہے۔ طاقت، پیسے، جعل سازی اور سرکاری اداروں کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کے لیے آسانیاں کیوں ہیں ؟۔ گزشتہ روز لائبہ اعجاز کی المناک موت نے ایک مرتبہ پھر ریاست کے سامنے پرانے سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔
اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کا خواب امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا تھا۔ وہ ایک باصلاحیت طالبہ تھی، اس نے محنت اور قابلیت سے اپنی تعلیمی زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کے والدین نے بھی خواب دیکھا کہ ان کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گی۔ اپنے خاندان کا نام روشن کرے گی اور پاکستان کے لیے باعثِ فخر بنے گی، لیکن اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش فراڈیوں کا شکار ہوگئی۔ ہمارے ہاں فراڈیوں کی بھر مار ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق امریکہ میں داخلے اور اسکالرشپ دلوانے کے وعدے پر بھاری رقم وصول کی گئی۔ والد نے پلاٹ فروخت کیا اور والدہ نے اپنے زیورات بیٹی کے مستقبل کے لیے قربان کر دئیے۔ جس رقم کے پیچھے والدین کی برسوں کی محنت قربانی اور امیدیں جمع تھیں، وہ ڈاکوئوں کے دھوکے کی نذر ہوگئی۔ یہ ہمارے ملک کی حالت ہے، اداروں کو کوئی خبر نہیں ۔ وہ خود کشی کو لے کر بیٹھے رہے۔ کام کرنا تو اداروں کے لیے بڑا امتحان ہے۔ یہ محض رقم کا نقصان نہیں، ایک خاندان کے خوابوں پر حملہ تھا، ریاست پر حملہ تھا۔ یہ مافیا بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر گلی محلوں میں شریف لوگوں کو لوٹ رہے ہیں، حساس اداروں کا نام استعمال کرتے ہیں، ان کا کون احتساب کرے گا۔ یہ ریاست کے اعتماد کا قتل تھا۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو ڈاکو لوٹ لیتے ہیں۔ لائبہ کی المناک موت کو کسی ایک خاندان کا ذاتی المیہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ تاہم یہ بات بھی ضروری ہے کہ واقعے کے تمام پہلوئوں اور ذمہ داری کا تعین شفاف تحقیقات سے ہونا چاہئے، کیونکہ کسی جرم میں ملوث ہونے کا حتمی فیصلہ قانون اور عدالت کا اختیار ہے، لیکن عدالتوں کی حالت بھی سب کے سامنے ہے۔
تعلیمی داخلے اور اسکالرشپ کے نام پر جعل سازی، بھاری رقوم کی وصولی اور جعلی دستاویزات کے ذریعے خاندان کو تباہ کیا گیا ہے۔ ایسے عناصر کو شہریوں کے مستقبل سے کھیلنے کا موقع کس نے دیا اور ریاست انہیں بروقت روکنے میں کیوں ناکام رہی؟۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف ہنگامی اقدامات کی بات ہوتی ہے، مگر فراڈیوں کے خلاف ریاستی مشینری اکثر کسی بڑے سانحے کے بعد ہی حرکت میں آتی ہے، اور چند روز بعد ٹھنڈے ہو جاتے ہیں ۔ میرا سوال حکومت سے ہے کہ اگر ایک شہری سرکاری ادارے، سکیورٹی ادارے یا کسی معتبر تنظیم کا نام استعمال کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے تو اسے پکڑنے کے لیے کسی کی جان جانے کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے؟۔ جعلی شناخت، جعلی خطوط، جعلی رسیدیں، جھوٹے وعدے اور منظم مالی فراڈ کسی معمولی معاشرتی برائی کے نام نہیں۔ یہ شہریوں کی جمع پونجی، ان کے اعتماد اور ان کے مستقبل پر براہِ راست حملہ ہیں۔ ایسے جرائم اگر منظم انداز میں کیے جائیں تو ان کی روک تھام بھی منظم، فوری اور موثر ہونی چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ جرم ہوجانے کے بعد مقدمہ درج کرے، اس کی اصل ذمہ داری یہ بھی ہے کہ شہریوں کو جرم کا شکار ہونے سے بچائے۔
لائبہ اعجاز کے معاملے میں میڈیا پر آنے والی اطلاعات اور ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے قریباً 93لاکھ روپے کے فراڈ کا ذکر کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اہلِ خانہ کو جعلی یونیورسٹی داخلہ خطوط، اسکالرشپ کے کاغذات اور فیس کی رسیدیں فراہم کی گئیں۔ یہ الزامات تحقیقات میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض ایک مالی فراڈ نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، داخلوں کے نظام اور بیرونِ ملک تعلیم کے خواہش مند نوجوانوں کے اعتماد سے کھیلنے کا سنگین معاملہ ہے۔ ایسے فراڈ کے ذریعے صرف ایک خاندان کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ ریاست کا نقصان ہے۔ ہزاروں دوسرے والدین بھی خوف زدہ ہیں کہ کہیں ان کے بچوں کے مستقبل کا سودا بھی کسی جعل ساز کے ہاتھوں نہ ہوجائے۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی ہی اسلحے اور دھماکوں سے معاشروں کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ منظم مالی جرائم، جعل سازی اور دھوکے کے ذریعے بھی شہریوں کی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں۔ دونوں جرائم کی نوعیت اور قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں، مگر دونوں کے خلاف ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ مسلم ہے۔ میں ایسے منظم فراڈیوں کو بھی معاشرے کے لیے خطرہ سمجھتا ہوں جو معتبر اداروں کے نام، جعلی شناخت اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ اداروں میں بیٹھے بھیڑئیے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور ان چوروں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اگر ریاست دہشت گردی کے خلاف خصوصی حکمتِ عملی، مربوط کارروائی اور مسلسل نگرانی کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج لگا سکتی ہے تو عوام کو لوٹنے والے منظم گروہوں کے خلاف ایسا ہی موثر نظام کیوں نہیں بنا سکتی ؟۔ ایسے جرائم کے خلاف بھی غیر معمولی اور ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جانی چاہئے۔ خصوصی اقدامات، سخت نگرانی یا ہنگامی انتظام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جائیں۔ میں یہاں گورنر راج کی اصطلاح کو ایک سیاسی مطالبے سے بڑھ کر ریاستی ہنگامی کیفیت کی علامت کے طور پر استعمال کر رہا ہوں، جب شہریوں کی جان، مال اور مستقبل خطرے میں ہوں تو حکومت کی سنجیدگی کہاں ہوتی ہے ؟۔ اس وقت ضرورت موثر قانون نافذ کرنے، جواب دہی اور مجرموں کو سزا دلانے کی ہے۔ ہمارے ہاں نظام موجود ہے، لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا اور اگر موجودہ نظام ناکافی ہے تو اسے بہتر بنانے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے؟۔
وزیراعظم کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے اور متعلقہ اداروں کو کارروائی کی ہدایت دینے کی اطلاعات اپنی جگہ، لیکن قوم کو محض نوٹس لینے کی خبر نہیں ان کو نتیجہ چاہیے۔ حکومت کا فرض ہے کہ اسلام آباد پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات کو شفاف اور نتیجہ خیز بنائے۔ فراڈ میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے، رقم کی منتقلی اور بینک اکائونٹس سمیت دستیاب مالی ریکارڈ کی جانچ ہو، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور فراہم کرنے والوں کا سراغ لگایا جائے، اور یہ معلوم کیا جائے کہ کہیں اس گروہ نے دوسرے طلبہ اور خاندانوں کو بھی نشانہ تو نہیں بنایا۔ اگر کسی سرکاری یا سکیورٹی ادارے کا نام یا شناخت استعمال ہوئی ہے تو اس پہلو کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔ ویسے اس وقت کئی عناصر ملکی اداروں کے نام کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔
متاثرہ خاندان کو تحقیقات سے آگاہ رکھا جائے، اور قانون کے مطابق اس کے مالی نقصان کی تلافی اور انصاف کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ہر بڑے واقعے کے بعد وزیراعظم کے نوٹس، وزرا کے بیانات اور اداروں کی تحقیقات ہی ہماری ریاستی کارکردگی کا معیار رہیں گے؟۔ کیا متعلقہ ادارے خود سے کارروائی نہیں کر سکتے؟۔ کیا عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے پہلے کسی طالبہ کی موت ضروری ہے؟۔ اگر اداروں کے نام پر فراڈ کرنے والے کھلے عام سرگرم ہیں تو ان کی نگرانی کون کر رہا ہے؟۔ اگر متاثرین شکایات لے کر دروازے کھٹکھٹاتے ہیں تو ان کی داد رسی میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟۔ اور اگر کسی بااثر شخص کے خلاف شواہد موجود ہوں تو کیا قانون اتنا کمزور ہے کہ وہ اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا ؟۔ ان سوالات ہیں جن کا جواب حکومت اور ریاستی اداروں کو دینا ہوگا۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ لائبہ کے معاملے میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی، کن شواہد کی جانچ کی جارہی ہے، دوسرے ممکنہ متاثرین کی شناخت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں، اور مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے کیا عملی نظام قائم کیا جائے گا۔ کسی مقدمے کی تفتیشی تفصیلات ظاہر کرنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ شہریوں کو غیر معینہ مدت تک خاموشی اور انتظار کے حوالے کر دیا جائے۔
لائبہ اعجاز کی موت پر سب سے بڑا سوال ریاستی ترجیحات کا ہے۔ نوجوانوں کو محنت کا درس دیتے ہیں، تعلیم حاصل کرو، قابلیت بڑھائو۔ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرو۔ والدین اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں، زمینیں اور پلاٹ فروخت کرتے ہیں، زیورات تک بیچ دیتے ہیں تاکہ بچوں کے خواب پورے ہوسکیں۔ جب والدین کسی جعل ساز کے ہاتھوں لٹ جائیں تو انہیں تحفظ کون دیتا ہے؟، ان کے بچوں کی امیدوں کی حفاظت کون کرتا ہے؟، تعلیم کے نام پر بھی دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں تو پھر عام شہری کس دروازے پر دستک دے؟۔ لائبہ کے والدین اپنی بیٹی کو واپس نہیں پا سکتے۔ ان کے دکھ کا مداوا کسی گرفتاری کی تصویر، پریس کانفرنس یا سرکاری بیان سے نہیں ہوسکتا۔ لیکن ریاست کم از کم یہ تو کر سکتی ہے کہ اس سانحے کو بے نتیجہ نہ جانے دے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دے۔ بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر داخلے اور اسکالرشپ کی تصدیق کا موثر طریقہ بنایا جائے۔ تعلیمی فراڈ سے بچائو کے لیے عوامی آگاہی، شکایات کے فوری اندراج اور اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام بھی ضروری ہے۔ لائبہ اعجاز کی موت ہمیں بتا رہی ہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف سرحدوں کی حفاظت یا دہشت گردی کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں ہے، اسے اپنے شہریوں کے خوابوں، ان کی جمع پونجی اور ان کے مستقبل کا تحفظ بھی کرنا ہے۔ جو لوگ جعلی شناخت اور معتبر اداروں کے نام پر شہریوں کو لوٹتے ہیں، ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ آخر کتنے خاندان لٹنے کے بعد ریاست جاگے گی؟۔ کتنے والدین اپنی جمع پونجی گنوانے کے بعد انصاف کے منتظر رہیں گے؟۔ کتنی نوجوانوں کے خواب بکھرنے کے بعد فراڈ کے خلاف حقیقی ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے؟۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضرور کرے، مگر شہریوں کو اندرونی استحصال، منظم جعل سازی اور مالی جرائم سے محفوظ رکھنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ لائبہ اعجاز کی المناک موت کو ایک خبر بنا کر دفن نہ کر دیں۔ اسے ریاستی جواب دہی کا مقدمہ بنائیں۔ حکومت نوٹس لینے سے آگے بڑھے، ادارے فائلیں بند کرنے کے بجائے حقائق سامنے لائیں۔ لائبہ تو واپس نہیں آئے گی، مگر اگر اس کی موت کے بعد بھی نظام نہ بدلا تو پھر کسی دوسرے گھر میں یہی المیہ ہو گا۔





