یمن کی آگ ریاض تک

یمن کی آگ ریاض تک
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
مشرقِ وسطیٰ کی ریت تواتر سے بے گناہوں کے خون سے سرخ ہو رہی ہے اور اس بار اس خون کی چھینٹیں براہِ راست سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے دل پر پڑی ہیں۔ ذرا تصور کریں، ریاض کا کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، جو روزانہ ہزاروں مسافروں، تارکینِ وطن، اور کاروباری افراد کی امیدوں، ملاپ اور جدائی کا گواہ بنتا ہے، اچانک ایک ہولناک دھماکے سے گونج اٹھتا ہے۔ آسمان سے گرنے والا ایک بیلسٹک میزائل مسافر ٹرمینل سے ٹکراتا ہے، آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے 13زندگیاں موت کی وادی میں اتر جاتی ہیں جبکہ 309سے زائد افراد زخموں سے چور ہو کر ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ منظر اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کے ایک محفوظ ترین سمجھے جانے والے دارالحکومت کے باسیوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ پروازوں کی منسوخی، تعلیمی اداروں کی آن لائن منتقلی اور فضا میں چھایا ہوا خوف محض ایک عارضی تعطل نہیں، بلکہ اس امر کا واضح اعلان ہے کہ جنگ اب سرحدوں پر لڑی جانے والی کوئی روایتی لڑائی نہیں رہی، بلکہ یہ گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔ اگلے ہی روز اتوار کو ہونے والے ایک اور حملے نے اس خوف پر مہر ثبت کر دی، جس میں ایک پاکستانی شہری بھی لقمہ اجل بن گیا۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یمن کا تنازع اب کسی ایک ملک کی خانہ جنگی نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا علاقائی آتش فشاں بن چکا ہے جس کا لاوا پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اس جنگ کی بساط پر اب صرف حوثی جنگجو یا یمنی افواج ہی نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات اور خطے کی بالا دستی کی کشمکش کے مہرے بھی چالیں چل رہے ہیں۔ اس وحشت ناک کھیل میں سب سے سستی چیز اگر کوئی ہے تو وہ عام انسان کی جان ہے، چاہے وہ ریاض کے ہوائی اڈے پر کام کرنے والا کوئی غریب پاکستانی یا بنگلہ دیشی ہو، یا پھر یمن کے کھنڈرات میں بھوک اور افلاس سے بلکتا ہوا کوئی معصوم بچہ۔ اس جنگ نے سفارت کاری کے تمام مروجہ اصولوں کو راکھ کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جب پراکسی جنگیں طول پکڑتی ہیں، تو ان کی تپش سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔
شواہد اور زمینی حقائق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں محض ایک وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی اور طویل المدتی تزویراتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ گزشتہ محض ایک ہفتے کے دوران ریاض، ابہا، جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے مسلسل حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حوثیوں نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور ڈرون ٹیکنالوجی میں کس قدر خطرناک حد تک اضافہ کر لیا ہے۔ جازان اور نجران میں زخمی ہونے والے افراد، اور ابہا و ریاض میں جاں بحق ہونے والے 3اور زخمی ہونے والے 36افراد کا لہو اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ عالمی برادری اس عفریت کو روکے۔ حوثیوں کا بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ربیغ میں آرامکو کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اور سمندری ناکہ بندی کا اعلان محض دھمکیاں نہیں، بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش ہے۔ جب مسافر ٹرمینلز کو جنگی اہداف کے طور پر چنا جائے، تو اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرم کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب، اس جارحیت کے جواب میں سعودی اتحاد اور یمنی حکومتی افواج کا ردعمل بھی انتہائی شدید اور بے پناہ ہے۔ ’’ فجرِ یمن‘‘ کے نام سے شروع کی جانے والی اس عسکری مہم کے دوران صرف 24گھنٹے میں 2750حملوں کی اطلاعات اور 1400سے زائد حوثی جنگجوئوں کی ہلاکت کے دعوے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ جنگ اب اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ تعز کے علاقے حیفان، شمالی صوبے صعدہ، جبل صبر اور بندرگاہی شہر المخا اور آبنائے باب المندب کے قریب ذباب کے محاذوں پر لڑی جانے والی یہ خونریز لڑائیاں یمن کے جغرافیے کو مزید لہولہان کر رہی ہیں۔ ہتھیاروں کے ڈپو، رسد کی گاڑیاں اور ڈرونز تباہ کیے جا رہے ہیں، لیکن اس طاقت کے اندھے استعمال کے درمیان اصل نقصان اس عام یمنی شہری کا ہو رہا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے محاصرے، بھوک اور بیماریوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ یہ ایک ایسا لا متناہی چکر ہے جہاں ہر حملہ ایک نئے جوابی حملے کو جنم دیتا ہے، اور امن کی فاختہ بارود کے دھوئیں میں کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔
کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں کو یوں موت کے گھاٹ اترتے نہیں دیکھ سکتی، اور سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کا جواز اسی دفاعی ضرورت سے کشید ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دیانتداری کا تقاضا ہے کہ یمن کے عوام کی اس محرومی اور طویل محاصرے کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے جس نے ایک بدترین انسانی المیے کو جنم دیا ہے اور جس کی آڑ میں حوثی اپنی جارحیت کو ایک ’’ مزاحمتی بیانیے ‘‘ کا رنگ دیتے ہیں۔ تاہم، ان تمام محرکات، تاریخی مظلومیت کے دعوئوں، یا جنگی مصلحتوں کے باوجود، مسافر ہوائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغنا اور بے گناہ تارکینِ وطن جن میں ہمارا ایک پاکستانی بھائی بھی شامل ہے،کا خون بہانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
اس تمام تر خون آشام منظر نامے میں سب سے تشویشناک پہلو امریکی فوجی مداخلت کا منڈلاتا ہوا سایہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت میں امریکی فوجی شرکت کے امکان کو مسترد نہ کرنا، اور واشنگٹن کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنا، اس جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 2021ء میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسی یمن میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت اور لاکھوں کے بے گھر ہونے کے بعد، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سعودی قیادت میں جارحانہ کارروائیوں کی امریکی حمایت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آج دوبارہ اسی نہج پر لوٹنا اور جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتوں کی پالیسیاں انسانی جانوں کے زیاں سے زیادہ جغرافیائی اور سیاسی مفادات کے تابع ہوتی ہیں۔
ریاض کے ہوائی اڈے پر گرنے والا ہر میزائل اور یمن کے کھنڈرات میں اٹھنے والی ہر چیخ اس بات کا اعلان ہے کہ خطہ ایک ایسے آتش فشاں کے دہانی پر کھڑا ہے، جو پھٹا تو صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری تجارت اور عالمی معیشت کو بھی خاکستر کر دے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ طبلِ جنگ کی گونج کو خاموش کیا جائے، کیونکہ اگر سفارت کاری اور مکالمے نے بارود کی جگہ نہ لی، تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف ان کھنڈرات کے حوالے سے یاد رکھیں گی جو ہم ان کے لیے ورثے میں چھوڑ جائیں گے۔





