من کا موسم

من کا موسم
نیل نامہ
تحریر : احمد نبیل نیل
اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری خوشی یا اداسی کا تعلق باہر کے موسم، حالات اور ماحول سے ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ٹھنڈی ہوائیں، برستی بارش یا حسین وادیاں ہی ہمارے موڈ کو خوشگوار بناتی ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ اصل موسم باہر نہیں، انسان کے اندر ہوتا ہے۔
اگر آپ کے دل کا موسم خوشگوار ہو تو تپتی دوپہر بھی اچھی لگتی ہے، مصروف راستے بھی سکون دینے لگتے ہیں اور معمولی لمحے بھی یادگار محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن اگر اندر بے چینی، اداسی یا خالی پن ہو تو بارش کی بوندیں، بادلوں کی ٹھنڈک اور خوشگوار ہوائیں بھی انسان کو محظوظ نہیں کرتیں۔ انسان ہر خوبصورتی میں بھی کوئی نہ کوئی کمی تلاش کرنے لگتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کے موسم کو بدلنے کے بجائے باہر کی دنیا بدلنے میں لگے رہتے ہیں۔ کبھی شہر بدلتے ہیں، کبھی دوست، کبھی ملازمت، کبھی ماحول، اور کبھی ہزاروں میل کا سفر طے کرکے دنیا کے دوسرے کناروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ مگر جب اندر کی ویرانی ساتھ ہو تو منظر بدلنے سے کیفیت نہیں بدلتی۔ انسان نئی جگہوں پر بھی وہی پرانا خالی پن اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
اصل تبدیلی ہمیشہ انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہی، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی توانائی کا بڑا حصہ بیرونی چیزوں کو درست کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ پھر جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو مایوسی ہمارا مقدر بن جاتی ہے۔
اسی بھاگ دوڑ میں ایک اور غلطی ہم اکثر کرتے ہیں: ہم اپنی پوری زندگی دوسروں کو خوش کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ لوگوں کی پسند، ان کی رائے اور ان کی توقعات ہماری ترجیح بن جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ ہمیں خود کس چیز سے خوشی ملتی ہے اور ہماری اپنی خواہش کیا ہے۔
شاید اسی لیے ہم خود کو سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں۔ ہم اپنے آپ سے ملنے کا وقت ہی نہیں نکالتے، خود کو دوسروں کی آنکھوں سے دیکھتے رہتے ہیں اور وہ زندگی نہیں جی پاتے جو ہمارے من کی آواز ہوتی ہے۔ پھر بے چینی مستقل ساتھی بن جاتی ہے۔
اسی موضوع پر جون ایلیا کا ایک شعر ہے:
بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
میرے نزدیک یہ شعر صرف شاعر کی اندرونی کیفیت نہیں بلکہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کی زندگی کی عکاسی کر رہا ہے۔ ہم زندگی کو جینے کے بجائے محض گزار رہے ہوتے ہیں۔ سانس تو لیتے ہیں، مگر دل سے زندہ نہیں ہوتے۔
اپنے اندر کے موسم کو خوشگوار رکھنے کے لیے خود شناسی پہلی شرط ہے۔ انسان جب اپنی ذات کو سمجھنے لگتا ہے، اپنے ساتھ وقت گزارتا ہے اور اپنی خاموشیوں کو سننا سیکھ لیتا ہے تو اس کے اندر کی کیفیت بدلنے لگتی ہے۔
ایک اور حقیقت کو قبول کرنا بھی ضروری ہے کہ اس دنیا میں سب کو سب کچھ نہیں ملتا۔ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ’’ کاش‘‘ ہوتا ہے جو اسے موجودہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے نہیں دیتا۔ اگر ہم اسی حسرت میں الجھے رہیں تو کبھی خوشی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکیں گے اور خوشی کے پیچھے بھاگتے ہی رہیں گے۔
اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر کے موسم کو بدلنے کی کوشش کرتے رہیں، مگر اندر کے موسم کو بدلنے کا کوئی سائنسی فارمولا تو ہے نہیں۔ البتہ میرا یقین ہے کہ جتنی زیادہ خود شناسی پیدا ہوگی، اتنا ہی اندر کا موسم بہتر ہوتا جائے گا۔ پھر ہر موسم دلکش لگے گا، ہر راستہ لطف دینے لگے گا اور زندگی گزارنے کا احساس، زندگی جینے کے احساس میں تبدیل ہو جائے گا۔
اگر واقعی ایک خوبصورت دنیا دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے اندر کے موسم پر کام کیجیے۔ ممکن ہے پھر آپ کو احساس ہو کہ دنیا پہلے بھی اتنی ہی حسین تھی، فرق صرف آپ کے اندر کے موسم کا تھا۔




