پیپلز پارٹی لاہور کے میر کارواں
پیپلز پارٹی لاہور کے میر کارواں
تحریر: حسن علی گوندل
پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے عوامی سیاست جمہوری جدوجہد اور نظریاتی وابستگی کی علامت رہی ہے۔ تاہم لاہور جیسے بڑے سیاسی مرکز میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پارٹی کو جن چیلنجز کا سامنا رہا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب پاکستان پیپلز پارٹی لاہور ایک نئی توانائی، منظم حکمتِ عملی اور فعال تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ میدان میں نظر آ رہی ہے تو یہ تبدیلی نہ صرف کارکنوں بلکہ سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز بن چلی جا رہی ہے۔
اگر گزشتہ تیس سے پینتیس سال کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو شاید لاہور میں اتنی منظم، متحرک اور مسلسل تنظیم سازی کم ہی دیکھنے میں آئی ہے جتنی آج پاکستان پیپلز پارٹی لاہور ڈویژن کے روح رواں صدر فیصل میر کی قیادت میں نظر آ رہی ہے۔ موجودہ تنظیم نے صرف دعوئوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی طور پر ایک ایسا تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرنے کا آغاز کیا ہے جو مستقبل میں پارٹی کی سیاسی طاقت کا بنیادی ستون بن سکتا ہے۔
لاہور میں جاری ممبرشپ مہم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تنظیم محض عہدوں کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ نئے خون کو پارٹی کے ساتھ جوڑنے، نوجوانوں کو متحرک کرنے اور نظریاتی سیاست کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ممبرشپ کیمپوں کا انعقاد اور عوام سے براہِ راست رابطہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی قیادت زمینی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
تنظیم سازی کے حوالے سے بھی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لاہور کے مختلف زونز کی تکمیل کے بعد یونین کونسل کی سطح تک تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے کا عمل جاری ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی سیاسی جماعت کی حقیقی طاقت کھڑی ہوتی ہے۔ آج اگر لاہور میں کسی جماعت کی منظم تنظیم سازی نمایاں دکھائی دیتی ہے تو اس میں پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
فیصل میر کی قیادت کا ایک اہم پہلو ان کی مسلسل نگرانی اور کارکنوں سے براہِ راست رابطہ ہے۔ مختلف ٹائونز زونز اور تنظیمی یونٹس کے لیے بنائے گئے رابطہ گروپس میں ان کی ذاتی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض انتظامی سربراہ نہیں بلکہ ایک متحرک اور فعال آرگنائزر کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیمی سرگرمیوں میں تسلسل اور رفتار دونوں برقرار ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کی موجودہ تنظیم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی سماجی اور عوامی مساءل میں دلچسپی ہے۔ کسی علاقے میں حادثہ پیش آئے بچوں کے ساتھ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہو یا شہری مسائل عوام کے لیے مشکلات پیدا کریں تنظیم کے نمائندے فوری متاثرہ خاندانوں تک پہنچتے ہیں۔ اس طرزِ سیاست نے پارٹی کو صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی خدمت کے تصور سے بھی جوڑا ہے۔
میڈیا اور اطلاعات کے میدان میں بھی لاہور تنظیم نے قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ روایتی میڈیا اخبارات الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پارٹی کی سرگرمیوں کو مسلسل اجاگر کیا جا رہا ہے۔ انفارمیشن بیورو کو ایک منظم انداز میں فعال بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں تنظیم کی ہر سرگرمی کارکنوں اور عوام تک بروقت پہنچ رہی ہے۔ یہ جدید سیاسی تقاضوں کے مطابق ایک موثر حکمتِ عملی ہے۔
مزید برآں لاہور تنظیم کی منصوبہ بندی بھی اس کے منظم اندازِ کار کو ظاہر کرتی ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر سرگرمیوں کا شیڈول مرتب کیا جاتا ہے اور مختلف پروگراموں کے اہداف پہلے سے طے کیے جاتے ہیں۔ یہی پیشہ ورانہ انداز کسی بھی تنظیم کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور کارکنوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے کہ پارٹی ایک واضح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
بلاشبہ ہر بڑی سیاسی جماعت کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کو بھی اندرونی اختلافات اور بعض عناصر کی مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ بعض حلقے تنقید یا رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن موجودہ قیادت نے ان معاملات میں الجھنے کے بجائے اپنی توجہ کارکردگی اور تنظیمی ترقی پر مرکوز رکھی ہے۔ یہی طرزِ عمل سیاسی پختگی کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ آخرکار سیاست میں جواب نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے دیا جاتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما، کارکن اور تمام نظریاتی جیالے ذاتی اختلافات اور گروہی سیاست سے بالاتر ہو کر لاہور میں پارٹی کو مضبوط بنانے کے مشن کا حصہ بنیں۔ اگر مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کو دوبارہ لاہور کی ایک موثر سیاسی قوت بنانا ہے تو پھر سازشوں رکاوٹوں اور ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی جدوجہد کو ترجیح دینا ہو گی۔
لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پارٹی ایک بار پھر اپنی تنظیمی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی سمت گامزن ہے۔ اگر یہی رفتار نظم و ضبط اور عوامی رابطہ برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں اس کے مثبت سیاسی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
فیصل میر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کا اصل امتحان آنے والے وقت میں ہوگا لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ لاہور میں ایک فعال متحرک اور منظم تنظیمی ڈھانچہ تیزی سے ابھر رہا ہے اور یہ عمل پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




