
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کر دیا۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے 60 روزہ خصوصی اجازت نامہ (ویور) جاری کیا، جس کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ اقدام 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعمیری اور نتیجہ خیز رہے ہیں اور مفاہمتی یادداشت کی متعدد شقوں پر پیش رفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت یقینی بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس عارضی لائسنس کی مدت 21 اگست تک ہو گی، تاہم اس میں شمالی کوریا، کیوبا یا روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں سے متعلق پابندیوں میں کوئی نرمی شامل نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزر لینڈ کے مقام برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں شامل ثالثوں نے بھی ابتدائی دور کو حوصلہ افزاء قرار دیا ہے۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے اور اسی مقصد کے لیے تہران سے اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی نئی یقین دہانی یا وعدہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مستقبل میں وسیع پیمانے پر ہتھیاروں کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہو جائے گا تاکہ اس کے جوہری پروگرام کی شفافیت یقینی بنائی جا سکے







