امن کی جانب قدم بڑھائے جائیں

اداریہ۔۔۔۔
امن کی جانب قدم بڑھائے جائیں
حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سربراہان کی درخواست پر ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر موخر کیا گیا ہے۔ ان میں قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت شامل ہے جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو موقع دیا جائے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جاسکے۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، بلکہ ثالثی چینلز کے ذریعے، جن میں پاکستان کا کردار بھی شامل بتایا گیا ہے، رابطے جاری ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک ایسے خطرناک دور سے گزر رہا ہے جہاں معمولی غلطی بھی ایک وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی خدشات اس تنازع کے بنیادی عوامل ہیں۔ حالیہ پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقین اگرچہ براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن باہمی عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہے۔ امریکی صدر کے بیانات سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ واشنگٹن بیک وقت دبائو اور مذاکرات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک طرف حملے کی تیاریوں کا ذکر کیا جارہا ہے، تو دوسری جانب معاہدے کی امید بھی ظاہر کی جارہی ہے۔ یہ دہرا رویہ خطے میں بے یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور دینا ایک مثبت اشارہ ہے، کیونکہ یہ ریاستیں بخوبی سمجھتی ہیں کہ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کا سب سے زیادہ نقصان انہیں ہی اٹھانا پڑے گا، خصوصاً توانائی کے شعبے اور عالمی تیل کی ترسیل میں۔ ایران کی جانب سے یہ موقف کہ بات چیت پاکستان اور عمان جیسے ثالثی کرداروں کے ذریعے جاری ہے، اس بات کی علامت ہے کہ تہران بھی مکمل تنہائی یا جنگی صورت حال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس خطے میں کسی بھی کشیدگی کا مطلب عالمی معیشت پر فوری اثرات ہیں، جو کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال ایک ’’ کنٹرولڈ کشیدگی‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں تمام فریقین ایک دوسرے پر دبا بھی ڈال رہے ہیں اور بیک چینل ڈپلومیسی کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں کر رہے۔ تاہم خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب کسی بھی فریق کی غلط فہمی یا اندرونی سیاسی دبا اسے فیصلہ کن اقدام کی طرف دھکیل دے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور مثبت نظر آتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی پالیسی کو فروغ دیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں بھی پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان رابطے میں سہولت کار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، مسلم دنیا میں اس کا اثر و رسوخ اور سفارتی توازن اسے ایک قدرتی ثالث بناتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ خطے کے تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشیدہ صورت حال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو بہتر بناتی ہیں، بلکہ خطے کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر پاکستان اس کردار کو مزید موثر انداز میں جاری رکھے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی حیثیت ایک ذمے دار ریاست کے طور پر مزید مستحکم ہو گی۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیا اس وقت ایک بار پھر اس حقیقت کا سامنا کر رہی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔ دُنیا کو اس وقت امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشمکش کا واحد پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔ اگر عالمی طاقتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو خطہ نہ صرف ایک بڑے تصادم سے بچ سکتا، بلکہ دیرپا امن کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔
شذرہ۔۔۔
بجلی قیمتوں میں بڑا ریلیف
بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نہ ہونا بلاشبہ عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے معاشی دبائو نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے یہ اعلان کہ جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور صارفین کو 5سے 6روپے فی یونٹ کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچا لیا گیا ہے، حکومتی پالیسیوں کے ایک مثبت پہلو کی نشان دہی کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ایندھن کی عالمی قیمتیں بے یقینی صورت حال کا شکار ہیں اور توانائی کا شعبہ مسلسل مالی دبائو میں ہے، ایسے میں بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنا یقیناً قابلِ تعریف اقدام ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق بروقت حکمت عملی، لوڈ مینجمنٹ میں بہتری، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور درآمدی کول پلانٹس کے موثر استعمال کے باعث ممکنہ 38ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں منصوبہ بندی اور تسلسل کے ساتھ فیصلے کیے جائیں تو عوام کو ریلیف دینا ممکن ہے۔ خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں 65ارب روپے کی واپسی اور 1.93روپے فی یونٹ ریلیف اس بات کا ثبوت ہے کہ درست پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم اس پیش رفت کے باوجود حکومت کو صرف عارضی ریلیف پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کا توانائی کا شعبہ اب بھی گردشی قرضوں، مہنگے معاہدوں اور ترسیلی نقصانات جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ اگر ان بنیادی مسائل کا مستقل حل نہ نکالا گیا تو وقتی ریلیف زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گا۔ عوام کی اصل توقع یہ ہے کہ بجلی نہ صرف سستی ہو بلکہ اس کی فراہمی بھی مستقل اور بلا تعطل ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصاً سولر اور پن بجلی کے منصوبوں پر مزید توجہ دے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جاسکے۔ اسی طرح بجلی چوری اور ناقص نظامِ ترسیل کے خلاف سخت اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ اگر حکومت مستقل بنیادوں پر توانائی اصلاحات جاری رکھتی ہے تو نہ صرف صارفین کو مزید ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت بھی استحکام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ موجودہ اعلان ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر اصل کامیابی دیرپا اور پائیدار اصلاحات میں ہی پوشیدہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صنعتوں اور کاروباری شعبے کے لیے بجلی کی مستحکم قیمتیں معاشی سرگرمیوں میں بہتری لاسکتی ہیں۔ اگر پیداواری لاگت کم ہوگی تو برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ممکن ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی ریلیف کے ساتھ صنعتی ترقی کو بھی اپنی توانائی پالیسی کا مستقل حصہ بنائے۔





