ColumnQadir Khan

جنرل اپندر دویدی کو بھارتی بالادستی کا خبط

جنرل اپندر دویدی کو بھارتی بالادستی کا خبط
قادر خان یوسف زئی
بھارتی آرمی چیف جنرل اپندر دویدی کا ’’ سینا سم واد 2026‘‘ کے پلیٹ فارم سے سامنے آنے والا حالیہ دھمکی آمیز بیان دراصل روایتی بھارتی بالادستی کے اس خبط کا تسلسل ہے جو زمینی حقائق سے یکسر کٹا ہوا ہے۔ موصوف نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ بڑھک ماری کہ اگر پاکستان نے اپنی مبینہ پالیسیاں تبدیل نہ کیں تو اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ایک خودمختار، ایٹمی قوت کے حامل اور تئیس کروڑ کی آبادی والے ملک کو مٹانے کی یہ گیدڑ بھبکی صرف ایک فوجی جرنیل کی ذاتی رائے نہیں، بلکہ یہ نئی دہلی کے اس گہرے فکری دیوالیہ پن اور جنگی پاگل پن کا عکاس ہے جو خطے کو مسلسل عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ یہ تند و تیز الفاظ دراصل گزشتہ سال کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد شروع ہونے والے ’’ آپریشن سندور‘‘ کی بدترین تزویراتی ناکامی کا اعتراف ہیں، جس کا غصہ اب لفظی گولہ باری کی صورت میں نکالا جا رہا ہے۔
آئیے ذرا تاریخ کے ان اوراق کو الٹ کر دیکھیں جنہیں بھارتی قیادت اتنی جلدی فراموش کر دیتی ہے۔ اپریل 2025ء میں پہلگام میں ایک افسوسناک حملہ ہوا جس میں چھبیس معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی، لیکن نئی دہلی نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی تحقیقات کے چشمِ زدن میں الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ مئی 2025ء کے اوائل میں آپریشن سندور کے نام سے نو مختلف مقامات پر فضائی اور میزائل حملے کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ مگر حقیقت کیا تھی؟ حقیقت یہ تھی کہ یہ بین الاقوامی سرحدوں اور پاکستان کی خودمختاری پر ایک جارحانہ اور براہ راست حملہ تھا، جس کا پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف بروقت اور دندان شکن جواب دیا بلکہ اپنی فضائی اور دفاعی برتری ثابت کرتے ہوئے بھارتی مہم جوئی کو وہیں دفن کر دیا۔ عالمی مبصرین اور واشنگٹن سے لے کر برسلز تک کے دفاعی تجزیہ کاروں نے تسلیم کیا کہ اگر پاکستان کا ایٹمی ڈیٹرنس اور فولادی دفاعی نظام موجود نہ ہوتا تو بھارت کی یہ حماقت ایک ہمہ جہت جنگ کی شکل اختیار کر لیتی۔ یہ پاکستان کا پائیدار ایٹمی توازن ہی تھا جس نے نئی دہلی کو سیز فائر پر مجبور کیا، اور آج جنرل دویدی کا یہ بیان اسی ذلت آمیز پسپائی کا ایک مایوس کن ملبہ ہے۔
پاکستان کا دفاعی اور سیاسی موقف ہمیشہ سے اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ پاکستان کی فوج کا ردعمل کوئی جذباتی واویلا یا سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایٹمی ریاست کی جانب سے انتہائی نپا تلا، سنجیدہ اور مدبرانہ جواب تھا جس نے بھارت کو یاد دلایا کہ جنوبی ایشیا کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کا خواب دیکھنے والے خود تاریخ کا عبرتناک حصہ بن جایا کرتے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی ہے، اس کی نظیر معاصر عالمی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہم نے ’’ اچھے اور برے‘‘ دہشت گرد کی تفریق کے بغیر آپریشن ضربِ عضب، آپریشن رد الفساد اور حالیہ ’’ عزمِ استقامت‘‘ جیسے بے رحم اور فیصلہ کن معرکے لڑے۔ اس مٹی کے اسّی ہزار سے زائد بیٹوں، بیٹیوں، معصوم شہریوں اور بہادر جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ ہم نے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا لیکن عالمی امن کی خاطر اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔ یہ پاکستان کی اسی بے لوث قربانی کا اعتراف تھا کہ اقوام متحدہ کی طالبان پابندیوں کی کمیٹی کی چیئرمین شپ اور کائونٹر ٹیررازم کمیٹی میں وائس چیئرمین کا عہدہ پاکستان کو ملا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ سی نکالنا اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف اسلام آباد کے اقدامات کی توثیق کرنا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان اس لعنت کے خلاف دنیا کی سب سے مضبوط دیوار بن کر کھڑا رہا ہے۔ کارنیگی اینڈائومنٹ، بروکینگز انسٹی ٹیوشن اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) جیسے مقتدر عالمی تھنک ٹینکس نے بارہا اپنی رپورٹس میں لکھا ہے کہ پاکستان خود اس ہائبرڈ وارفیئر اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، مگر اس کے باوجود اس نے علاقائی استحکام کے لیے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت بار بار یہ سستی ڈرامے بازی کیوں کرتا ہے؟ اس کا جواب بھارتی سیاست کی گندی پچ پر چھپا ہوا ہے۔ جب بھی مودی سرکار یا بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو اندرونی محاذ پر ہزیمت کا سامنا ہوتا ہے، یا جب وہ خطے میں اپنی فوجی بالادستی قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو وہ ’’ پاکستان کارڈ‘‘ اور ’’ قومی سلامتی کے خطرے‘‘ کا چورن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جنرل دویدی کا بیان دراصل بھارتی ووٹرز کو مطمئن کرنے اور ’’ آپریشن سندور‘‘ میں ملنے والی ہزیمت پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2کے تحت کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے خودمختار ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال کرے یا اس کی دھمکی دے۔ ایک ایٹمی ملک کے آرمی چیف کی زبان سے ایسے الفاظ نکلنا بین الاقوامی قوانین کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے، اور عالمی برادری کی اس معاملے پر خاموشی بذاتِ خود ایک بڑا المیہ ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز نے اپنی تازہ ترین پیش گوئیوں میں سال 2026کے دوران پاک بھارت روایتی تصادم کو دنیا کے چند بڑے خطرات میں شامل کیا ہے، اور اس خطرے کی واحد وجہ پاکستان کی پالیسی نہیں بلکہ بھارت کی یہی فاشسٹ اور جارحانہ سوچ ہے۔
پاکستان کوئی تر نوالہ نہیں جسے کوئی بھی نگل سکے۔ ہماری تزویراتی اہمیت اور سٹرٹیجک گہرائی مسلمہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسا عظیم الشان منصوبہ خطے کی معاشی تقدیر بدل رہا ہے، اور چین، سعودی عرب، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہمارے برادرانہ اور تزویراتی تعلقات اس بات کی ضمانت ہیں کہ پاکستان تنہا نہیں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ جامع مذاکرات کی بحالی ہو، جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل ہو، یا کرتارپور راہداری جیسے خیر سگالی کے اقدامات، پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح خطے کی غریب عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی ہے۔ گلوبل ٹیررزم انڈیکس کی رپورٹس گواہ ہیں کہ پاکستان نے کس طرح جگرگوشوں کی قربانیاں دے کر امن بحال کیا، لیکن بھارت اس امن کو ہضم نہیں کر پا رہا۔ نئی دہلی کی موجودہ قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ الزامات کی بوچھاڑ اور گیدڑ بھبکیوں سے نہ تو کشمیر کا مسئلہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button