
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے ایران جنگ کے سبب عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور توانائی بحران شدت اختیار کرنے نتیجے میں قومی سطح پر توانائی ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق صدر مارکوس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران اور ممکنہ ایندھن قلت کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے، ایمرجنسی ایک سال تک نافذ رہے گی۔
فلپائن کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایندھن، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا سکیں گے۔
حکام کو تیل کی فوری خریداری، پیشگی ادائیگی اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف کارروائی کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔
وزارت توانائی کی سیکریٹری شیرون گارین نے بتایا ہے کہ موجودہ استعمال کے حساب سے فلپائن کے پاس تقریباً 45 دن کا ایندھن ذخیرہ موجود ہے، حکومت ایک ملین بیرل تیل خرید کر اضافی ذخیرہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم سپلائی میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔







