معرکہ حق، تاریخ ساز فتح

اداریہ۔۔
معرکہ حق، تاریخ ساز فتح
آپریشن بُنیان مرصوص کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ عظیم فتح کو سال پورا ہوگیا ہے۔ اس پر پوری قوم خوشی سے سرشار ہے۔ معرکہ حق کے سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس محض ایک عسکری بریفنگ نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی اسٹرٹیجک حقیقتوں کا ایک جامع اظہار ہے۔ اس بیانیے میں جہاں پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، ملٹی ڈومین وار فیئر کی صلاحیت اور ڈیٹرنس کی مضبوطی کا ذکر ہے، وہیں جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور اطلاعاتی جنگ کے نئے زاویے بھی واضح ہوتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق معرکۂ حق میں پاکستان نے ایک ایسے دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی جو عسکری، معاشی اور عددی لحاظ سے کئی گنا بڑا تھا۔ یہ بیان پاکستان کے اس دعوے کی توسیع ہے کہ جدید جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب یہ جنگیں زمین، فضا، سمندر، سائبر اسپیس اور بیانیے کے محاذ پر بیک وقت لڑی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں ’’ ملٹی ڈومین وار‘‘ کا ذکر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف فوجی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور معلوماتی برتری پر مبنی ہوں گی۔ معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی دراصل ایک’’ ڈیٹرنس اسٹیبلشمنٹ‘‘ تھی، یعنی ایسا توازن جس کے بعد کسی بھی جارح قوت کے لیے مہم جوئی آسان نہیں رہتی۔ عسکری ترجمان کے مطابق پاکستان نے اپنی مجموعی دفاعی صلاحیت کا صرف ایک محدود حصہ ظاہر کیا جب کہ اصل استعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بیان نہ صرف داخلی سطح پر حوصلہ بڑھانے کا باعث ہے، بلکہ بیرونی سطح پر ایک واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ خطے کی صورت حال کو دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ان تعلقات کی بنیادی وجہ ہے، جسے پاکستان ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتا ہے جب کہ بھارت اسے اپنا داخلی معاملہ سمجھتا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو جنم دیتا ہے۔ اس تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات حقیقت کی غمازی کرتے ہیں، کیونکہ بھارت بیانیہ سازی اور الزام تراشی کا گھنائونا کھیل کھیلتا آیا ہے۔ یہ امر تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں بھارت نے ہمیشہ جھوٹ کے بل پر چودھری بننے کی کوشش کی ہے، لیکن ہر بار اُس کے ہاتھ ناکامی ہی آئی ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کا یہ موقف کہ ملک نے ایک بڑے دشمن کو شکست دی اور ڈیٹرنس قائم کیا، ایک مضبوط دفاعی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دہشت گردی کے مسئلے کو بھی مرکزی حیثیت دی۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان پہنچایا بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ پاکستان کا یہ موقف کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، عالمی سطح پر بھی ایک متفقہ اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کا موقف واضح رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس نے خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو پاکستان اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا اہم ستون قرار دیتا ہے، جو خطے میں اس کے اسٹرٹیجک وزن کو مزید بڑھاتا ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف بندوق اور توپ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اب بیانیے کی جنگ بن چکی ہے۔ ہر ملک اپنے موقف کو عالمی سطح پر درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی تناظر میں میڈیا اور معلوماتی ذرائع کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت کا یہ کہنا کہ فوج اور عوام کے درمیان کوئی خلیج نہیں ڈالی جاسکتی، قومی یکجہتی کے تناظر میں ایک اہم نکتہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی قوم اور ادارے ایک صفحے پر آئے ہیں، ملک نے ہر مشکل کا مقابلہ کیا ہے۔ یہی وہ اتحاد ہے جو کسی بھی بیرونی دبائو کے خلاف سب سے بڑی طاقت ہے۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ معرکہ حق کی تاریخی فتح دُنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی، پاکستان نے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ قوم اس جشن کو بھرپور طور پر مُلک بھر میں منا رہی ہے اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑی ہے۔ ترجمان پاک فوج کے بیانات پاکستان کے دفاعی عزم، تیاری اور خود اعتمادی کی عکاسی کرتے ہیں۔ خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون سے باہر نکلے، سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی جانب قدم بڑھائے۔ جنوبی ایشیا کے عوام کا مستقبل جنگ نہیں بلکہ امن، ترقی اور تعاون سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق حقیقت پسندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔
شذرہ۔۔
حج آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری
حج 2026ء کے موقع پر پاکستان سے عازمینِ حج کی سعودی عرب روانگی کا سلسلہ جاری ہے، جو نہ صرف ایک مذہبی فریضے کی ادائیگی ہے بلکہ قومی سطح پر ایک منظم اور موثر انتظامی کارکردگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے مطابق اب تک 176پروازوں کے ذریعے 44ہزار 908عازمینِ حج حجازِ مقدس پہنچ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا حج آپریشن ایک مربوط اور مستحکم نظام کے تحت جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 33ہزار 20عازمین مکہ مکرمہ میں جبکہ 11ہزار 888عازمین مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔ یہ تقسیم اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ عازمین کو مرحلہ وار اور منظم طریقے سے ان کے مقدس مقامات تک پہنچایا جارہا ہے، تاکہ ان کی عبادات میں آسانی اور سہولت برقرار رہے۔ مزید یہ کہ آج مزید 14پروازوں کے ذریعے قریباً 2850عازمین کی روانگی بھی متوقع ہے، جو اس بڑی آپریشن کے تسلسل اور رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔ حج فلائٹ آپریشن کا 21مئی تک بلاتعطل جاری رہنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے اس عظیم مذہبی فریضے کی ادائیگی کو ہر ممکن حد تک آسان اور منظم بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ عازمینِ حج کو رہائش، خوراک، سفری اور طبی سہولتوں کی فراہمی کا مسلسل جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی دینی ذمے داریوں کی ادائیگی میں سہولت کاری کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ ایک اور اہم پہلو حج پیکیج میں شامل موبائل سم کی فراہمی ہے، جس کے ذریعے عازمین اپنے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ سہولت نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کی مثال ہے بلکہ اس سے عازمین اور ان کے خاندانوں کے درمیان اعتماد اور سکون کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اس اقدام نے حج کے دوران پیش آنے والی مواصلاتی مشکلات کو بڑی حد تک کم کردیا ہے۔ حج محض ایک عبادت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، مساوات اور روحانی یکجہتی کی عظیم علامت ہے۔ لاکھوں افراد کا ایک ہی لباس، ایک ہی مقصد اور ایک ہی نیت کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں سے جمع ہونا اسلامی اخوت کا عملی مظہر ہے۔ پاکستان کے عازمینِ حج بھی اس عالمی اجتماع کا حصہ بن کر نہ صرف اپنی روحانی ذمے داری ادا کررہے ہیں بلکہ اپنے ملک کی نیک نامی کا بھی باعث بن رہے ہیں۔ یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ حج انتظامات میں مسلسل بہتری لائی جارہی ہے، تاہم اس بڑے آپریشن کی وسعت کے پیش نظر مزید بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ خصوصاً رہائش، ٹرانسپورٹ اور ہجوم کے انتظامات ایسے پہلو ہیں جن پر مسلسل توجہ دینا ضروری ہے تاکہ عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حج 2026ء کا جاری آپریشن پاکستان کے انتظامی ڈھانچے، مذہبی ذمے داری کے احساس اور بین الاقوامی تعاون کی ایک مثبت مثال ہے۔ یہ نہ صرف ایک روحانی سفر ہے بلکہ ایک ایسی اجتماعی کوشش بھی ہے جس میں ریاست، ادارے اور معاشرہ سب مل کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام عازمینِ حج کا سفر آسان فرمائے، ان کی عبادات کو قبول کرے اور انہیں سلامت واپس اپنے گھروں تک پہنچائے۔







