Column

منافع کی ہوس میں انسانی صحت پر حملہ

منافع کی ہوس میں انسانی صحت پر حملہ

تحریر: رفیع صحرائی

صحت مند قوم ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے اور جو معاشرہ اپنی خوراک محفوظ نہ رکھ سکے، وہ اپنی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی بازاروں میں تربوز، خربوزے اور دیگر رسیلے پھلوں کی بہار آ جاتی ہے۔ جھلستی دھوپ، لو کے تھپیڑوں اور شدید گرمی میں تربوز کو قدرت کا ایک حسین تحفہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری کرتا ہے بلکہ انسانی جسم کو توانائی، تازگی اور ٹھنڈک بھی فراہم کرتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں کہ جگر کے لیے تربوز کی بہت افادیت ہے مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ناجائز منافع خوری کا ناسور اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اب لوگ انسانی جانوں سے کھیلنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ چند سکوں کی خاطر قدرتی نعمتوں کو زہر میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور انہی خطرناک رجحانات میں ایک تشویشناک عمل تربوز اور دیگر پھلوں میں ’’ آکسی ٹوسن‘‘ انجکشن کا استعمال ہے۔ یہ صرف ایک غیر قانونی حرکت نہیں بلکہ پوری قوم کی صحت پر حملہ، اخلاقی دیوالیہ پن اور اجتماعی بے حسی کی بدترین مثال ہے۔ ایسے عناصر معاشرے میں خاموش موت بانٹ رہے ہیں۔

آکسی ٹوسن دراصل ایک ہارمون ہے جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ طبّی دنیا میں اس کا استعمال مخصوص حالات میں کیا جاتا ہے، خصوصاً زچگی کے دوران ولادت کے عمل کو آسان بنانے اور دودھ کے اخراج میں مدد کے لیے۔ میڈیکل سائنس میں اس دوا کی اپنی اہمیت مسلم ہے لیکن ہر دوا کی طرح اس کا استعمال بھی ماہر ڈاکٹر کی نگرانی اور مخصوص مقدار میں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون کی کمزوری اور اخلاقی گراوٹ نے اس دوا کو منافع خوروں کے ہاتھوں ایک خطرناک ہتھیار بنا دیا ہے۔

دیہی علاقوں میں عرصہ دراز سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض دودھ فروش زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے گائے اور بھینسوں کو آکسی ٹوسن کے انجکشن لگاتے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر دودھ کی مقدار تو بڑھ جاتی ہے مگر جانور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کی قدرتی جسمانی ساخت متاثر ہوتی ہے، تولیدی نظام خراب ہوتا ہے اور بعض اوقات جانور وقت سے پہلے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایسے جانوروں کا دودھ انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اب اس سے بھی زیادہ خطرناک رجحان یہ سامنے آ رہا ہے کہ بعض منافع خور افراد تربوز اور دیگر پھلوں میں یہی انجکشن لگا کر انہیں مصنوعی طور پر جلد بڑا، سرخ اور رس دار ظاہر کرتے ہیں تاکہ خریدار دھوکا کھا جائیں اور زیادہ قیمت ادا کریں۔ انجکشن کی مدد سے بظاہر خوبصورت نظر آنے والا یہ پھل درحقیقت اپنی قدرتی غذائیت سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی مٹھاس مصنوعی، رنگ غیر فطری اور اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق ایسے پھل انسانی جسم کے ہارمونل نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بچوں میں جسمانی نشوونما کے مسائل، معدے کی خرابیاں، پیٹ درد، الرجی، ہاضمے کی کمزوری اور ہارمونز میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔ خواتین کے لیے اس کے مضر اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ آکسی ٹوسن براہِ راست ہارمونل نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مسلسل مضر کیمیکلز اور غیر ضروری ہارمونز والی غذائوں کے استعمال سے جگر، گردے اور دل کے امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض طبی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ہارمونز کا بی جا استعمال مستقبل میں پیچیدہ بیماریوں اور جسمانی کمزوریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں خوراک پہلے ہی ملاوٹ، کیمیکل، ناقص اشیاء اور جعلی مصنوعات کی زد میں ہے۔ دودھ سے لے کر مصالحوں تک، شہد سے لے کر گھی تک اور پھلوں سے لے کر سبزیوں تک ہر چیز میں ملاوٹ کی شکایات عام ہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں لوگ پہلے ہی ذیابیطس، بلڈ پریشر، گردوں اور جگر کے امراض میں مبتلا ہوں، وہاں خوراک میں زہر شامل کرنا دراصل قومی صحت کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور دین کا بھی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ پاکیزہ، حلال اور صحت بخش غذا پر زور دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں فساد فی الارض سے منع کیا گیا ہے۔ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا، دھوکہ دہی کے ذریعے زہریلی اشیاء فروخت کرنا اور ناجائز منافع کمانا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔

حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’’ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔

افسوس کہ آج یہی دھوکہ ہماری منڈیوں، بازاروں اور خوراک کے نظام میں سرایت کر چکا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس معاملے کو محض ایک وقتی خبر سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ قومی ایمرجنسی کے طور پر لے۔ غذا کو زہریلا کرنے والوں کے خلاف فوڈ اتھارٹیز، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو مشترکہ کارروائیاں کرنی چاہئیں۔ عوام کو خالص خوراک کی دستیابی اور زہر بانٹنے کے عمل کی روک تھام کے لیے سرکاری اداروں کی طرف سے منڈیوں میں چھاپے، لیبارٹری ٹیسٹ، موبائل فوڈ ٹیسٹنگ یونٹس اور سخت نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔ جو عناصر انسانی صحت سے کھیلتے ہوئے پکڑے جائیں، ان پر صرف معمولی جرمانے نہیں بلکہ سخت قانونی سزائیں نافذ ہونی چاہئیں تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت اور مثال بن سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مساجد اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو بتایا جائے کہ قدرتی اور مصنوعی طریقے سے تیار کیے گئے پھلوں میں فرق کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔ غیر معمولی طور پر چمکدار، بے حد سرخ، حد سے زیادہ نرم یا غیر فطری سائز کے پھل مشکوک ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ معتبر دکانداروں سے خریداری کریں اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک معاشرے میں حلال رزق، دیانت داری اور خوفِ خدا کا شعور بیدار نہیں ہوگا، ایسے جرائم مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں گے۔ چند افراد کی ہوسِ زر پورے معاشرے کو بیماریوں کی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی خوراک کے تحفظ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں کمزور جسم، پیچیدہ بیماریوں اور ناقص صحت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی۔

وقت آ گیا ہے کہ ریاست، معاشرہ اور عوام سب مل کر اس خاموش زہر کے خلاف کھڑے ہوں۔ کیونکہ صحت مند قوم ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے اور جو معاشرہ اپنی خوراک محفوظ نہ رکھ سکے وہ اپنی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

جواب دیں

Back to top button