
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کی جانب سے یو ایف اوز سے متعلق خفیہ فائلیں جاری کیے جانے کے بعد امریکی رکنِ کانگریس نے حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلینز دراصل بائبل میں ذکر کیے گئے گرے ہوئے فرشتے ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر حکومت نے پراسرار فضائی مظاہر سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنا شروع کی ہیں، جن میں ایف بی آئی، ناسا اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس بھی شامل ہیں۔
اسی معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ریپبلکن رکنِ کانگریس لارین بویبرٹ نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ یو ایف اوز کا تعلق گرے ہوئے فرشتوں اور نیفیلم سے ہو سکتا ہے، جن کا ذکر بائبل کے عہد نامہ قدیم میں موجود ہے۔
لارین بویبرٹ نے کہا ہے کہ خدا پوری کائنات کا خالق ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ صرف ہم ہی موجود ہوں، لیکن جتنا میں اس معاملے کا مطالعہ کرتی ہوں، اتنا ہی بائبل میں بیان کیے گئے گرے ہوئے فرشتوں اور نیفیلم کی باتیں ذہن میں آتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بائبل میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ یہ مخلوقات ختم ہو گئیں، اس لیے ممکن ہے کہ آج دیکھی جانے والی پراسرار چیزیں انہی کا ایک پہلو ہوں۔
امریکی رکنِ کانگریس کا کہنا ہے کہ بعض مشاہدات پورٹلز یا دوسرے جہانوں کے دروازوں جیسے محسوس ہوتے ہیں اور یہ کہنا کہ صرف یہی دنیا موجود ہے، ایک محدود سوچ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ جاری کی گئی فائلوں میں شامل تمام کیسز غیر حل شدہ ضرور ہیں، تاہم اب تک کسی بھی تحقیق میں زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا حتمی ثبوت نہیں ملا۔
امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں پرانی خفیہ رپورٹس، ناسا کے خلائی مشنز کے ٹرانسکرپٹس، ایف بی آئی ریکارڈز اور پراسرار فضائی مظاہر کی تصاویر و ویڈیوز شامل ہیں۔







