Column

معرکہ حق: پاکستان کے لیے گیم چینجر

معرکہ حق: پاکستان کے لیے گیم چینجر

محمد اعجاز الحق ( صدر پاکستان مسلم لیگ ضیاء الحق شہید)

جنوبی ایشیائی دشمنی کی طویل اور تلخ تاریخ میں بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے، نیچا دکھانے اور اسے گھٹنے ٹیکنے کا ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، دونوں ممالک کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی، نئی دہلی کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہی ہے، جب بھی ممکن ہو، پاکستان کو دنیا سے الگ تھلگ کرو اور اسے تقسیم کرو۔ بھارت کے ان عزائم کے باوجود تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق اس طرح کی ہر کوشش بالآخر خود بھارت پر ہی پلٹ گئی۔ اور معرکہ حق ، ایک سچائی کی اس جنگ میں پاکستان صرف زندہ جاوید ہی نہیں رہا بلکہ پاکستان نے علاقائی طاقت کا اسکرپٹ دوبارہ لکھا ہے۔ تاریخ کا سب سے تاریک باب1971ء کی یاد ابھی بھی تازہ ہے۔ جب کہ دنیا دیکھ رہی تھی، بھارت نے پاکستان کو توڑنے کے لیے باقاعدہ انجینئرنگ کی جس کے لیے اس نے مکتی باہنی کو مسلح کیا اور اسے تربیت دی اور اسے اس کام کے لیے آزادانہ ماحول بھی دیا، جس کے باعث مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہوئی اور یہاں غداری نے جنم لیا، نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، خاندان کے خاندان بکھر گئے، اور عالمی برادری کی نظروں کے سامنے ایک خودمختار مسلم قوم کا جراحی عمل ہوا۔ وہ زخم آج بھی پاکستان کی اجتماعی یاد داشت کی چیر پھاڑ کرتا ہے۔ لیکن پاکستان زندہ ہے، اسی طرح1987 ء میں پھر ایک بار ہندوستان نے ناک آئوٹ کرنے اور دھچکا دینے کی کوشش کی اس نے آپریشن براسٹیکس کے تحت طاقت دکھانے کی کوشش کی، اور سرحدوں کے ساتھ اپنی افواج کو متحرک کیا، اس امید کے ساتھ کہ وہ پاکستان کو تیاری اور چوکس ہونے کا ایک متوازن موقع نہیں دینا چاہتا تھا اس کوشش اور سازش کے باوجود پاکستان نہیں ٹوٹا۔ صدر جنرل ضیاء الحق شہید نے سفارتی تاریخ کے سب سے بے باک ماسٹر اسٹروک یعنی کرکٹ ڈپلومیسی کے ساتھ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ ایک بھارتی کرکٹ کلب ( حکومت کی نہیں) کی دعوت کے سائے میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق دہلی گئے اور وہاں پاک بھارت ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے جے پور چلے گئے۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی اگرچہ ابتدا ء میں ہچکچاتے تھے، لیکن پھر وہ اپنے مشیروں سفارتی آداب مشورے کی وجہ سے پاکستان کے رہنما کا استقبال کرنے پر مجبور ہوئے اور انہیں رخصت کرنے کے لیے بھی موجود تھے، ان کے ساتھ مختصر ملاقات میں جنرل ضیاء الحق نے مخمل میں لپٹے فولاد کا پیغام پہنچایا انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہندوستانی فوجیں نہ ہٹائی گئیں تو پاکستان کی طرف سے پہلا جواب فائر ہوگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے غیر واضح طور پر بھارت کو اشارہ دیا تھا کہ وہ بھی ایٹمی ریاست بن چکا ہے۔ جیسا کہ بعد میں راجیو گاندھی کے خصوصی مشیر بہرامینم نے اپنے ایک اہم ترین مضمون میں یہ واقعہ بیان کیا، ہندوستانی وزیر اعظم کو کسی بھی مہم جوئی کے تباہ کن نتائج کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ اور یوں امن لانے کی حکمت غالب آگئی اور یوں بحران کم ہو گیا، اور کرکٹ نے وہ کر دیا جو روایتی سفارت کاری نہیں کر سکتی تھی، اس نے پورا منظر ہی بدل دیا اور جنگ ٹل گئی، اس کے بعد معقول دو طرفہ برابری سامنے آئی، پاکستان کی جوہری قوت قائم ہوئی، جس دن پاکستان ایٹمی طاقت بنا اور کھیل کے اصول ہمیشہ کے لیے بدل گئے۔ بھارت کا روایتی برتری کے ذریعے دائمی تسلط کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ نئی دہلی اب پاکستان کو دھمکی نہیں دے سکتا۔ یوں یہ بم طاقتور کے خلاف کمزوروں کی ڈھال بن گیا، وہ حتمی ڈیٹرنٹ جس نے انتہائی متکبر پڑوسی کو بھی دو بار سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے باوجود بھارت اپنے مفاداتی حربوں پر قائم رہا، اور اپنی ریاست کی سطح حقائق سے بہت دور دھوکے بازی کی کارروائیوں جسے فالس فلیگ کا نام دیا جاتا ہے، پاکستان کے خلاف کیں اور ابھی تک کر رہا ہے بھارت پاکستان کو رد عمل پر مجبور کرنے کے لیے یہ سب کچھ ڈیزائن کرتا ہے کئی دہائیوں سے، ہندوستانی سرزمین پر ہونے والے ہر جھوٹے واقعے اور بھارت اپنی ریاست کی نگرانی اور منصوبہ بندی کے تحت فالس فلیگ کارروائی کرکے فوری طور پر الزام اسلام آباد پر لگایا جاتا تھا، اور دنیا، جو اکثر بھارت کی سفارت کاری اور میڈیا مہم سے متاثر ہوتی ہے، تائید میں اپنا سر ہلاتی رہتی ہے، جب پہلگام کا وقعہ ہوا تو اس بار بھی بھارت اپنی سرتوڑ کوششوں کے باوجود دنیا کو قائل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کا بیانیہ اپنے ہی تضادات کے بوجھ تلے دب گیا۔ عالمی رائے عامہ نے اس کے پاکستان مخالف اسکرپٹ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور جب بھارت نے اپنے غصے اور مایوسی میں پاکستانی شہریوں کو بلاجواز نشانہ بنایا تو نقاب پوری طرح سے اتر گیا، ننگی جارحیت کے جواب میں اس لمحے، پاک فضائیہ نے شان و شوکت کا ایک نیا باب رقم کیا۔ پاک فضائیہ نے فضائی جنگ میں ایک ماسٹر کلاس اعلی اور عمدہ ترین بہادری والا کردار ادا کیا اور بھارتی طیارے زمین بوس کر دئیے، گرنے والے بھارتی طیاروں کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے، پاکستان کے ہوا بازوں اور تکنیکی ماہرین نے بر وقت جواب دے کر بھارتی جارحیت کو پلٹا کر رکھ دیا، حتیٰ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے، انہوں نے بار بار دنیا کو یاد دلایا ہے کہ پاکستان نے ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا تھا، تعداد سات سے گیارہ تک بتائی گئی۔ ان کے بار بار حوالہ دئیے جانے کی بات محض واقعات کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی طاقت کے بلند ترین ستون سے اٹھنے والی توثیق کرنے والی آواز تھی۔ اس غیر معمولی تبدیلی کے حقیقی معمار چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر تھے۔ ان کی فوجی حکمت عملی شاندار تھی، یہ حکمت عملی ان کی، بصیرت انگیز، اور جراحی کی مہارت کے ساتھ انجام دی گئی۔ انہوں نے دفاع کو ڈیٹرنس کو حقیقی دفاعی قوت میں بدل دیا، ان کی کمان میں مسلح افواج نے دشمن کو محض جواب نہیں دیا۔ انہوں نے میدان جنگ کی نئی تعریف وضع کی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلیٰ ترین طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا ، پرسکون، سفارت کاری میں پرعزم، اور قومی عزت کے دفاع میں غیرمتزلزل کاوش دکھائی، دونوں نے مل کر ثابت کر دیا کہ جب تلوار اور قلم کے فیصلے ایک ساتھ چلتے ہیں تو کوئی دشمن غالب نہیں آ سکتا۔ بھارت کو آخری اور فیصلہ کن دھچکا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلی ملاقات میں لگا اور پھر سب کچھ ہی بدل گیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی یقین اور حقائق پر مبنی قیادت اور کمان نے امریکی لیڈر شپ کے ذہن کو پوری طرح قائل کیا۔ اس لمحے سے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک نئے، مضبوط مرحلے اور نئے باب میں داخل ہوئے۔ آج پاکستان صرف علاقائی معاملات میں فیصلہ کن پوزیشن کے ساتھ شریک ہے اور یہ عالمی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر ایک اعلی اور اہم کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان کو احترام کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے اور پاکستان کی بات پوری توجہ کے ساتھ سنی جاتی ہے، اور ہمارے موقف کی تائید کی جاتی ہے۔ دریں اثنا، بھارت کی اپنی غلطی اسے بہت مہنگی پڑی ہے۔ اسرائیل کو کھلے عام گلے لگا کر اور غیر جانبداری ختم کرکے، نئی دہلی نے خود کو مسلم دنیا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر خود کو الگ تھلگ کرلیا ہے۔ اس کے ترجمان بے تکی ہانک رہے ہیں، لاپرواہی سے بولتے ہیں اور احتیاط نظر انداز کرکے کھلے عام غزہ پر درجنوں بموں کی بارش کرنے کا مطالبہ کیا ہی اور سیکڑوں ایران پر، اس طرز عمل نے، بھارتی پالیسی کے خطرناک نئے چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک ایسی قوم جو کبھی خود کو گلوبل سائوتھ کی آواز کہتی تھی اور دعوی کرتی تھی، اس نے خود کو ایران اور فلسطینی کاز کے خلاف جارحیت کے ساتھ نتھی کرلیا ہے، اور اخلاقیات کی آخری رمق بھی کو بہا دیا ہے۔ معرکہ حق یہ کبھی بھی محض فوجی کارروائی تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جھوٹے پروپیگنڈے پر سچ کو فتح ملی اور بہترین حکمت عملی نے تکبر پر فتح حاصل کی اور غلبہ پایا، اور پاکستان نے دہائیوں پر جھوٹ پر فتح حاصل کی۔ بھارت کے حصے میں ذلت آئی اور وہ پیٹھ دکھا کر شرمندگی سے منہ چھپائے واپس ہوا، پاکستان ایک مضبوط، قابل فخر اور قابل احترام کے ساتھ ابھرا ہے۔ یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے، سے نئی دہلی جارحوں نے نہیں، بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے دفاعی محافظوں نے لکھا ہے۔ تاریخ لکھے گی کہ معرکہ حق کی بہار میں پاکستان نے محض اپنا دفاع نہیں کیا۔ اس نے اپنے دفاع کی اپنی تقدیر دوبارہ حاصل کی اور آخر کار دنیا اس جانب پورے انہماک کے ساتھ متوجہ ہوئی۔

جواب دیں

Back to top button