
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کے خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایک نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ’ٹرمپ کے ساتھ ’کوئی بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطہ نہیں‘ ہوا۔
ذرائع کے مطابق ’جب انھوں نے سنا کہ ہمارے اہداف میں مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھر شامل ہوں گے تو انھوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں







