Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnRoshan Lal

یورپ میں گرمی کی لہر .. روشن لعل

روشن لعل

 

19 جو لائی 2022 کو لندن میں ریکارڈ 40.3ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت نے و ہاں گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس سے قبل برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ 38.7 سینٹی گریڈ درجہ حرارت 25 جولائی 2019 کو کیمبرج کے مقام پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وہاںکا تیسرا بڑا درجہ حرارت 36.5 سینٹی گریڈ ہے جس کی پیمائش کینٹ کائونٹی کے علاقے فیورشم میں 10 اگست 2003 کوکی گئی تھی۔ گزشتہ 19 برسوں کے دوران برطانیہ میں سات مرتبہ ایسا ہوا جب مختلف شہروں میں درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا ۔ وہاں 2003 تک کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ 16 برس بعد 2019 میں ٹوٹا تھا مگر اب یہ ہوا ہے کہ جو ریکارڈ 16 سال بعد قائم ہوا تھا وہ محض تین برس بعد ٹوٹ گیا۔ گرمی کی جو لہر اس وقت برطانیہ میں اپنا اثر دکھا رہی ہے ،اس نے یورپ کے دیگر ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یورپ کے دیگر ملکوں میں صورتحال یہ ہے کہ جہاں فرانس کی حکومت نے اپنے ملک میں گرمی کی شدید ترین لہر جاری رہنے کا انتباہ جاری کر رکھا ہے وہاں ہالینڈ میں رواں ماہ کو تاریخ کا گرم ترین جولائی قرار دیا جا چکا ہے ۔

 

سپین ، پرتگال اور فرانس میں گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے ایک سے زیادہ مقامات پر جنگلوں میں آگے لگنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ آگے لگنے کے واقعات میں صرف سرکاری و غیر سرکاری املاک ہی نہیں بلکہ کئی انسانی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ جرمنی میں وہاں کے شہریوں کو صرف گرمی کی شدید لہر سے ہی متعلق آگاہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کے سبب جو بحران پیدا ہو سکتا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے از سر نو تیاریاں اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمنی کی حکومت نے اپنے عوام کو یہ بھی باور کرایا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے صرف گرمی پڑنے کے سابقہ ریکارڈ ہی نہیں ٹوٹ رہے بلکہ قحط نمودار ہونے اور سیلاب آنے کا خطرہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔ یورپ میں جاری گرمی کی حالیہ لہر کے دوران وہاں سینکڑوں لوگوں کی اموات کی غیر مصدقہ خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے لوگوں کی موت کی اطلاع بھی ہے جو شدید گرمی کی وجہ سے کسی جھیل یا تالاب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔

 

یہ اطلاعات تو ابھی غیر مصدقہ ہیں مگر برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کی مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ ان کے ملک میں شدید گرمی کی وجہ سے 2021 میں 1600 اور 2020 میں 2500 لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ ایجنسی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگردرجہ حرارت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ہر برس گرمی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 7000 تک پہنچ سکتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس وقت جو گرمی برطانیہ اور یورپ میں برس رہی ہے وہ کوئی ناگہانی آفت نہیںبلکہ اس کی پیش گوئی بہت پہلے کر دی گئی تھی۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی تھیوری تو بیسویں صدی کے وسط میں ہی پیش کر دی گئی تھی مگر 1988 تک سرمایہ دارانہ مفادات کی وجہ سے اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا رہا۔ گلوبل وارمنگ کو گرین ہائوس افیکٹ(اثر پذیری) کا نام بھی دیا گیا ہے ۔گرین ہائوس افیکٹ پر غور کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے2500 سائنسدانوںپر مشتمل آئی پی سی سی( Intergovernmental Panel On Climat Change) قائم کیا ۔اس پینل میں شامل سائنسدانوںنے گرین ہائوس افیکٹ کا جائزہ لینے کے بعد جو خوفناک پیش گوئیاںکی تھیں ان میں شدید گرمی کی اس لہر کا بھی ذکر کیا تھا جو بتدریج شدت اختیار کرتے ہوئے یورپ میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ سائنسدانوں کے مذکورہ پینل نے گلوبل وارمنگ کے سیارہ زمین اور انسانی زندگیوں پر ظاہر ہونے والے ممکنہ مضر اثرات کے تدارک کے لیے جو سفارشات پیش کی تھیں ان پر عمل درآمد کے لیے دسمبر 1997ء میں جاپان کے شہر کیوٹو میں اقوام متحدہ کے ادارے UNFCCC ( United Nation Framework Convention On Climate Change) کے تحت ایک کنونشن ہوا جس میں گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے معاہدہ تیار ہوا جسے کیوٹو پرٹو کول ( Kyoto Protocol) کا نام دیا گیا ۔ اس پرٹو کول میں کہا گیا تھا کہ دنیا اور اس پر بسنے والے انسانون کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ 2010 ء تک پوری دنیا میں گرین ہائوس گیسوںکے فضاء میں اخراج کی شرح کو 1990 ء کی سطح تک لایا جائے۔ دنیا کے دو بڑے ملکوں امریکہ اور آسٹریلیا نے آغاز میںہی کیوٹوپروٹو کول پر عملدرآمد سے انکار کر دیا جس کے بعد وہ ملک بھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے جنہوں نے قبل ازیںاس معاہدے پر عمل کا عزم کا ظاہر کیا تھا۔ یوں یہ پروٹوکول جس سے دنیا میں ماحولیاتی توازن قائم ہونے کی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں بری طرح ناکام ہوگیا۔

کیوٹو پروٹوکول کی ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کی کوششوں سے اس کے196 رکن ممالک نے گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کے لیے 2015 میں ایک نیا معاہدہ کیا جسے پیرس ایگریمنٹ (The Paris Agreement)کا نام دیا گیا۔ پیرس معاہدے میں بھی کیوٹوپروٹوکول کی طرح یہ طے کیا گیا کہ دنیا میں ان گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کو 1990 کی سطح تک لایا جائے جن کے اخراج میں 1990 سے 2019 تک 53 فیصد اضافہ ہوا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے سلسلہ میںابھی تک کوئی حوصلہ افزا کام سامنے نہیں آسکا۔اس معاہدے کے حوالے سے امریکی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اس نے 2017 میں اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد 2021 میں دوبارہ اس میں شمولیت اختیار کی۔ واضح رہے کہ امریکہ قدرتی ماحول میں گرین ہائوس گیسیں خارج کرنیوالا چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ دنیا میں کل خارج ہونے والی گرین ہائوس گیسوں میں چین کا حصہ26.4فیصد،امریکہ کا12.5فیصد،انڈیاکا 7.06 فیصداور یورپی یونین میں شامل ملکوں کا 7.03فیصد ہے۔ ان ملکوں کے بعد روس، جاپان، برازیل، انڈونیشیا، ایران اور کینیڈا گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں بتدریج اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔دنیا میں ہونے والی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں ان دس ملکوں کا حصہ68 فیصد اور دیگر 186 کا 32 فیصد ہے۔

امریکہ اپنے حصے کی گرین ہائوس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی ۔ امریکہ کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے کوئی بھی دوسرا ملک اس معاملے میں سنجیدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ یہ غیر سنجیدگی اگر اسی طرح برقرار رہی تو گلوبل وارمنگ کے جو اثرات اس وقت یورپ میں ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں انہیں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!