Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnImran Riaz

آج کا سیاسی دنگل اور ملکی معیشت .. عمران ریاض

عمران ریاض

 

سیاست میں اخلاقیات نہیں ہوتیں، سیاست ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کرنے کا نام ہے اور بدترین مخالف حالات کو اپنے حق میں کرنا اسی آرٹ کو سیاست کہتے ہیں، ضابطے،اصول اور اخلاقیات سیاست کے اپنے وضع کردہ ہوتے ہیں، سیاست نام ہے اپنے ٹارگٹ کے حصول کا ،اس لیے جو بھی طریقہ اپنایا جائے وہی اس کا اصول،ضابطہ اور اخلاق ہوتا ہے،پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج نہ صرف توقع کے برخلاف آئے بلکہ ان نتائج نے پنجاب اسمبلی کی ہیت بھی تبدیل کردی یعنی اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوگئی جبکہ اقلیت اکثریت میں،اوپر سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے پہلے سے ہی وزیراعلیٰ پنجاب کے ری الیکشن کے لیے آج کا دن مقرر کر رکھا تھا تو لہٰذا نون ن لیگ کے لیے سر منڈاتے ہی اولے برسنے لگے جیسی کیفیت ہوگئی، پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے قریباً مستعفی ہونے کا ارادہ کر لیا تھا کہ حکومتی اتحاد کے سربراہوں کا اجلاس لاہور میں طلب کرلیا گیا

 

تاکہ آئندہ حکمت عملی اتفاق رائے سے وضع کر لی جائے اس اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ آصف علی زرداری ،بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمن ، اے این پی،بی این پی اور ایم کیو ایم کے وفود نے خصوصی شرکت کی اجلاس کے آغاز میں ہی وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے صاحبزادے اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے کہا کہ آپ وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہوجائیں جس پر فوراً آصف علی زرداری نے نے کہا کہ حمزہ کو مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں ہم مقابلہ کریں گے اور پوری جان لڑائیں گے کہ حمزہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب یہ اب کیسے ممکن ہے جبکہ پی ٹی آئی کی اب واضح اکثریت پنجاب اسمبلی میں ہوچکی ہے جس پر زرداری صاحب نے کہا کہ کل میری چودھری شجاعت سے ملاقات ہے، مجھے ان سے مل لینے دیں میں کوئی راستہ نکالتا ہوں، پی ٹی آئی جوکہ پنجاب کے ضمنی انتخابات کو وجہ بنا کر مرکزی حکومت کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی ان کو حکومتی اتحاد کے اس جواب نے بالکل بوکھلاکر رکھ دیا کہ مرکز کو چھوڑو،ہم تو پنجاب میں بھی حکومت نہیں تم آؤ اور وزارت اعلیٰ پنجاب کے الیکشن ہمیں اپنے پورے کر کے دکھاؤ اس کے بعد زرداری کی چودھری شجاعت سے ملاقات کے بعد رانا ثناء کا یہ بیان آگیا کہ ووٹنگ کے روز پی ٹی آئی کے پانچ سات ممبران غائب بھی تو ہوسکتے ہیں اور پھر آگے ہی رحیم یارخان سے پی ٹی آئی کے ایک رکن اچانک ووٹنگ سے دو روز قبل خاموشی سے ترکی روانہ ہوگئے یہ خبر جیسے ہی پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے پاس پہنچی تو کھلبلی مچ گئی اور انھوں سارا الزام آصف علی زرداری کے سر دھر دیا کہ آصف زرداری نے 40 کرو ڑدے کر ہمارے ایم پی اے کو خرید لیا ہے یہ ہارس ٹریڈنگ شروع کردی گئی ہے، یہ لوٹا ازم شروع ہوگیا ہے، یہ زیادتی ہے، یہ غیر اخلاقی ہے،

 

پی ٹی آئی یہاں تک خوفزدہ ہو گئی کہ انہوں نے اس مبینہ ہارس ٹریڈنگ کیخلاف رات کو لاہور کے لبرٹی چوک میں ایک احتجاجی ریلی نکال دی جس میں آصف علی زرداری کے خلاف خوب نعرہ بازی کی گئی، ابھی ضمنی الیکشن سے ایک روز قبل نون لیگ کے ایم پی اے جلیل شرقپوری نے اپنا استعفیٰ سپیکر چودھری پرویز الٰہی کو دیتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ساتھ ہی ایک آڈیو لیک ہوگئی جس میں شیخ رشید جلیل شرقپوری کو دی گئی رقم کا زکر کررہے تھے جس سے واضح ہوگیا کہ جلیل شرقپوری کا استعفیٰ انہیں خاصی رقم دیکر دلایا گیا تب نون لیگ نے اس پر ہلکاپھلکا ردعمل دیا پر اتنا واویلا نہ مچایا جتنا چودھری مجید ایم پی اے کی ترکی روانگی پر عمران خان سے لیکر انکی پنجاب کی لیڈر شپ نے مچایا،

 

قبل ازیں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے موقع حکومتی پارٹی نے اقلیت میں ہوتے ہوئے جب اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کرایا تب عمران خان کہتے تھے کہ لوگوں کا ضمیر جاگا ہے اور جب کوئی رکن اسمبلی کوئی دوسری پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرتا تو عمران خان کہتے ہیں کہ ہم نے مخالف کی ایک اور وکٹ اڑا دی جب کوئی دوسرا یہی کام کرے تو اس کا ضمیر مردہ ہوگیا یاد رہے جب کوئی تحریک انصاف میں جائے تو اسکا ضمیر زندہ ہوگیا اور جب کوئی انہیں چھوڑے تو اسکا ضمیر مردہ ہوگیا۔کیا بات ہے جیسے میں کالم کے آغاز میں کہا ہے کہ سیاست کے اصول نہیں ٹارگٹ ہوتے ہیں،ان کو جس طرح حاصل کرو وہ اس کے اصول ٹھہرتے ہیں، اب اس سارے کھیل سے بالا تر ہوکر زرا ملکی معیشت پر ایک نظر ڈال لیں ڈالر اوپن مارکیٹ میں جس کا جو دل کرتا ہے وہ ریٹ وہ لے رہا ہے چونکہ سٹیٹ بنک کا ڈالر کی قیمت کے تعین میں کوئی کردار نہیں رہا بلکہ اس کو مارکیٹ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اس لیے اس کی کی قیمت منٹوں میں تبدیل ہورہی ہے، پاکستان دنیا کے متوقع پر ڈیفالٹ کے قریب پہنچے ہوئے ممالک میں چوتھے نمبر آگیا ہے ہمارے اور سری لنکا کے درمیان صرف تین نمبروں کا فرق رہ گیا ہے، معاشی استحکام سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، کوئی سیاستدان جس کو ملکی حالات پر تشویش ہو، جو یہ چاہتا ہو کہ ملک میں سیاسی استحکام آئے تاکہ معیشت میں بہتری ہو کوئی بھی ہر کوئی اقتدار کے حصول میں مرے جا رہا ہے انہیں فکر بھی کیوں ہو،یہ آرام سے جہاز پکڑیں گے کوئی انگلینڈ،کوئی فرانس اور کوئی کہیں چلا جائے گاجہاں پہلے سے ہی ان کے اربوں ڈالر پڑے ہیں ملکی معیشت کی تباہی کے زمہ دار بھی یہی ہیں اور ابھی ملک کی بربادی بھی انہی کے ہاتھوں ہو رہی ہے، افسوس کہ ایسے میں ملکی سلامتی کے ضامن خاموشی سے یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!