Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Editorial

وزیراعلیٰ کا انتخاب ! جمہوریت ہوٹل کے کمروں میں بند

سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں آج وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہورہا ہے۔ حکمران اتحاد کی طرف سے حمزہ شہبازوزیراعلیٰ کے لیے امیدوار ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو اُن کے مدمقابل میدان میں اُتارا ہے۔ زیادہ اراکین اسمبلی کے ووٹ حاصل کرنے والے قائد ایوان منتخب قرار پائیں گے اور اس کے بعد اُنہیں ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا ۔ حالیہ ضمنی انتخابات کے انعقاد اور نو منتخب اراکین اسمبلی کے حلف اٹھانے کے بعد آج کانٹے دار مقابلہ متوقع ہوگا لیکن قابل توجہ امریہ ہے کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ہارس ٹریڈنگ کے سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں۔

 

پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ارکان کو 50کروڑروپے تک کی پیشکش ہے،لاہور میں سندھ ہاؤس کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے تو دوسری طرف سے بھی مسلم لیگ نون کے اراکین اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنہیں پیسے کی آفر کی جارہی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ قاف کے اراکین صوبائی اسمبلی کو سخت نگرانی میں ایک مقامی ہوٹل میں ٹھہراتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کی دھمکی کے بعد اراکین کی حفاظت ضروری تھی ۔ آج کے انتخاب میں کامیابی کے لیے دونوں جانب سے بھرپور جوڑ توڑ کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چودھری پرویز الٰہی اور میاں حمزہ شہباز کی یقین دہانی کے بعد جو صورتحال حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آرہی ہے اِس کی قطعی گنجائش نہیں تھی، چونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے جارہے ہیں اس لیے عامۃ الناس ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا اراکین اسمبلی اسی لیے منتخب ہوتے ہیں کہ وہ وفاداریاں تبدیل کرکے پیسہ کمائیں اور کیا سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے ایسے حربے ہی استعمال کرتی ہیں ، اس سوچ کو تقویت سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل اسلام آباد میں واقع سندھ ہائوس میں ہونے والی سرگرمیوں سے مل رہی ہے جہاں تحریک انصاف کے منحرف اراکین اسمبلی کو ٹھہرایاگیا تھا اور بالکل ویسا ہی پہرہ تھا جیسا گذشتہ دنوں سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے بٹھایا نظر آتا ہے،

 

کوئی بھی سیاسی جماعت ہو منتخب اراکین اسمبلی کو کئی کئی روز تک نگرانی میں ہوٹل کے کمروں میں رکھنا جمہوریت اور نظام کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں۔ قبل ازیں ماہ اپریل میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی میدن جنگ بنی، اجلاس شروع ہوتے ہی ایوان میںہاتھا پائی اور کھینچا تانی ہوئی اور اس دوران وزارت اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی زخمی بھی ہوئے اور پھر انہوںنے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کردیا تاہم اسمبلی میں موجود مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں، آزاد اراکین اسمبلی اور منحرف اراکین نے 197ووٹ دیکر میاں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کرلیا اور اس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کے نتیجے میں آج ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب عمل میں لایا جارہا ہے مگر تکلیف دہ امریہی ہے کہ دونوں جماعتوں کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے جارہے ہیں جو یقیناً جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے جن اراکین صوبائی اسمبلی نے پارٹی پالیسی سے انحراف کیا عدالت نے انہیں ڈی سیٹ کرکے اِن حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے کا حکم دیا اور اب اُن منحرف اراکین اسمبلی کی جگہ نو منتخب اراکین ایوان کا حصہ بن چکے ہیں۔

 

بلاشبہ ہماری ملکی سیاست ہمیشہ سے ہارس ٹریڈنگ کی وجہ سے بدنام رہی ہے، مخالف جماعت کے اراکین اسمبلی کی خریدوفروخت کے ذریعے ایوانوں میں پانسے پلٹے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے کوئی بھی انتخاب ہو اُس کی شفافیت پر سوالات بھی اُٹھتے ہیں اور ہارس ٹریڈنگ کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں جو جمہوری معاشروں میں انتہائی بری نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، کوئی بھی سیاسی جماعت ہو اُس پر اخلاقی طور پر لازم ہونا چاہیے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے اور عوام جسے بھی مینڈیٹ سے نوازے اُسے تسلیم کیا جائے اور کام کرنے کا پورا موقع دیاجائے مگر اراکین قومی اسمبلی کا انتخاب ہو یا سینیٹ کا یا پھر کسی بھی صوبائی اسمبلی کا،ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کے لین دین کے الزامات کے بغیر مکمل نہیں ہوتے، تمام سیاسی پارٹیاں ہارس ٹریڈنگ اور سیاست میں پیسے کے خلاف بات بھی کرتی ہیں مگر اِس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات یا قانون سازی کرنے سے گریزاں بھی رہتی ہیں حالانکہ جب سیاست میں پیسے کا استعمال یعنی ہارس ٹریڈنگ سبھی کے نزدیک انتہائی بری چیز قرار ہے تو سبھی جماعتوں کو چاہیے کہ اِس حربے کے تمام راستے بند کردیں، اگرچہ سپریم کورٹ نے آج ہونے والے انتخاب کے لیے خصوصی احکامات جاری کئے ہیں مگر پھر بھی جیسی الزام تراشی اور صورتحال نظر آرہی ہے اِس سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت فی الحال اِس معاملے کو جوں کا توں جاری رکھنا چاہتی ہے۔

 

ایک دوسرے کے اراکین کو خرید کر اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہمارے نزدیک انتہائی افسوسناک امر ہے کیونکہ جب ایک رکن اسمبلی کسی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوتا ہے تو اس کو حلقے کی عوام کی طرف سے ملنے والے ووٹ میں بڑا حصہ پارٹی کے ٹکٹ کا بھی شامل ہوتا ہے مگر جب وہ فلور کراسنگ کرتا ہے ، چونکہ اُس کے ووٹرز نے پارٹی ٹکٹ اور امیدوار کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دیا ہوتا ہے اِس لیے جب وہ اپنی پارٹی پالیسی کے خلا ف کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ سیاسی عدم استحکام پیدا ہونے کی وجہ بھی بنتا ہے۔ آج وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب صاف و شفاف طریقے سے منعقد ہو اور تمام تر الزامات اور خدشات غلط ثابت ہوں یہی ملک و قوم اور جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے وگرنہ خریدوفروخت کی روایت تقویت پکڑ گئی تو مدنظر رہنا چاہیے کہ یہ رحجان ملکی سیاست اور جمہوریت کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہوگا، لہٰذا سیاسی جماعتوں کو ہارس ٹریڈنگ کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا وگرنہ ملکی سیاست پر اِس کے انتہائی گہرے نقوش مرتب ہوں گے اور پھر ووٹ کا تقدس بھی مجروح ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!