ColumnRoshan Lal

رانا ثنا اللہ کی باری؟ …. روشن لعل

روشن لعل
عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے اور وزیر اعظم بننے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو یہ طعنے دیتے رہے ہیں کہ انہوں نے حکومت کرنے کی باریاں لگائی ہوئی ہے۔ اپنی پہلی دو حکومتوں میں پی پی پی اور نون لیگ نے جو چھوٹی چھوٹی باریاں لیں عمران خان نے اس سے بڑی باری لینے کے بعد اب نئی اور زیادہ عرصہ کی حکومتی باری کے لیے پھر سے خود کو تیار کرنا شروع کردیا ہے۔ عمران خان کو اس کی تیاریاں مبارک ہوں مگر انہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ حکومت کی دوسری باری شروع ہونے سے پہلے یہاں ایک اور باری لینے کی روایت بھی موجود ہے۔ اگر ضیا مارشل لا کے بعد شروع ہونے والے چھوٹے بڑے جمہوری ادوار کو دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی 1988 میں قائم ہونے والی حکومت جب ختم ہوئی تو آصف علی زرداری سمیت کئی دوسرے لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد جب نون لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو اس کے کچھ اہم لوگوں کو گو زرداری سے بہت کم عرصہ کے لیے ہی سہی، مگر جیل ضرور جانا پڑا۔ اپنے دوسرے قتدار کے بعد پھر پیپلز پارٹی کے لوگوں کی جیل جانے کی نئی باری شروع ہوئی۔ پھر جب نون لیگ کی دوسری حکومتی باری ختم ہوئی تو اس مرتبہ جیل جانے کی باری میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف سمیت ان کے کئی اہم ساتھیوںکو بھی بھگتنا پڑی۔ 1988 کے بعد شروع ہونے والے حکومتی ادوار میں سے صرف مشرف کے اقتدار کے زمانے کو ایسا دور کہا جاسکتا ہے کہ جس میں حکومتی باری لینے والے کسی بندے کی بعدازاں جیل کی باری لینے کی نوبت نہیں آئی۔ آصف علی زرداری نے تو اپنے دور حکومت میں کسی سیاسی مخالف کو جیل میں نہ ڈالا مگر اپنی حکومت ختم ہونے اور نون لیگ کی حکمرانی شروع ہونے پر عمران خان کے دھرنے کے دوران نوازشریف کا ساتھ دینے کے باوجود بھی وہ ڈاکٹر عاصم جیسے اپنے قریبی ساتھیوں کو جیل کی باری لینے سے محفوظ نہ رکھ سکے ۔
نون لیگ کا دور حکومت ختم ہونے کے بعد میاں نوازشریف اور ان کے قریبی لوگوں سے عمران خان کی حکومت نے جیل جانے کی جو باری لی ہے، اسے کون بھول سکتا ہے۔ بھلایا تو یہ بھی نہیں جاسکتا کہ کس طرح آصف علی زرداری ، فریال تالپور اور ان کے ساتھیوں کو سندھ میں بنائے گئے کیسوں میں نہ صرف راولپنڈی کی جیلوں میں رکھا گیا بلکہ ان کیسوں کی سماعت بھی وہاں ہی کی گئی۔ اس دوران عمران خان نے فریال تالپور کو عید سے ایک روز پہلے جس طرح رات بارہ بجے کے بعد ہسپتال سے جیل بھیجنے کا حکم دیا اس پر توبے ضرر اور معتدل ترین سمجھے جانے والے آصف علی زرداری بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے تلملا اٹھے تھے۔
عمران خان کے دور حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین پر صحیح یا غلط جتنے بھی مقدمات قائم کیے گئے  ان کے ساتھ غیر شفافیت کی کوئی نہ کوئی کہانی ضرور جڑی نظر آئی۔ ان غیر شفاف کہانیوں میں جس قدر داغدار کہانی رانا ثنا اللہ کے خلاف بنائے گئے منشیات فروشی کے مقدمے سے برآمد ہوئی اس کی موجودہ دور میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ عمران خان کی حکومت کے دوران رانا ثنا اللہ کو جیل کی باری دینے کے لیے ان پر منشیات فروشی کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ قائم کرتے وقت نارکوٹکس کنٹرول کے سابقہ وزیر شہر یار آفریدی نے مذہبی حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جان عمران خان کو نہیں بلکہ اللہ کو دینی ہے اس لیے رانا ثنا اللہ کے خلاف جھوٹا کیس بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعد ازاں یہ دیکھا گیا کہ خدا کو حاظر ناظر جان کر دعویٰ کرنے والے شہر یار آفریدی اور عمران خان کی حکومت کے وکیل رانا ثنااللہ کے خلاف منشیات فروشی کے مقدمہ میں کوئی بھی خاطر خواہ ثبوت پیش نہ کرسکے۔ جن لوگوں نے رانا ثنا اللہ کو موٹر وے پر منشیات سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کے دعوے کیے تھے انہوں نے عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش کرنے کی بجائے تاخیری حربے استعمال کر تے ہوئے کیس کو لٹکانے کی بہت کوششیں کیں مگر ایسی کوششوں کے باوجودبھی جولائی 2019 میں گرفتار کیے گئے رانا ثنااللہ کی دسمبر 2019 میں ضمانت کوروکا نہ جا سکا۔آج کل ملک میں لوٹا کریسی کا بہت شور مچایا جارہا ہے مگریاد رہے کہ رانا ثنا اللہ نے ضمانت پر رہائی کے وقت یہ بیان دیا تھا کہ منشیات فروشی میں گرفتاری کے بعد یہ کیس ختم کرنے کے عوض ان پر لوٹا بننے اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے بہت زیادہ دبائو ڈالا جاتا رہا۔
رانا ثنا اللہ نون لیگ کی حکومتوں کا حصہ رہتے ہوئے جس طرز عمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اس پر کئی دیگر لوگوںسمیت ان کی آج کی اتحادی پیپلز پارٹی کے لوگ بھی برملا تحفظات کا اظہارکرتے پائے گئے۔ رانا ثنا اللہ کے خاص طرز عمل پر جو معقول لوگ پہلے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ان کی اکثریت نے ہی پھر ان پر بنائے گئے منشیات فروشی کے مقدمہ کی کہانی کو غیر شفاف ، مضحکہ خیز اور ناقابل قبول قرار دیا۔ اس مقدمے کی کہانی انتہائی مضحکہ خیز تصور کیے جانے کے باوجود ، منشیات کنٹرول محکمہ کے اس وقت کے افسران بالا نے عمران خان کی حکومت اور اس کے وزیر شہر یار آفریدی کے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے رانا ثنا اللہ کو جیل کی باری دلانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ جیل کی باری لینے کے بعد اب پھر سے رانا ثنا اللہ کی حکومتی باری شروع ہو چکی ہے ۔ رانا ثنا اللہ کی موجودہ حکومت میں باری کچھ اس طرح شروع ہوئی کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے سے بہت پہلے نہ صرف بلاول بلکہ آصف علی زرداری نے بھی شہباز شریف کو وزیر اعظم نامزد کرتے وقت رانا ثنااللہ کو آئندہ کا وزیر داخلہ قرار دے دیا تھا۔ اس وقت یہ تاثر عام ہے کہ عمران خان اور حکمرانی کی باری لینے والے ان کے ساتھیوں کو جیل یاترا کی باری دلانے کے لیے راناثنا اللہ، شہر یار آفریدی سے بھی زیادہ سفاک اور غیر لچکدار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے تبدیلی کا نعرہ تو لگایا مگر کچھ بھی تبدیل کرنے کی بجائے جو پہلے برا ہو رہا تھا اسے بدترین کر کے رکھ دیا۔ رانا ثنا اللہ کا ماضی جو بھی رہا ہو مگر وہ لوگ جنہوں نے ان پر منشیات فروشی کے مقدمہ کو بیہودہ قرار دیا تھا وہ اب ان سے نہ تو شہر یار آفریدی جیسے رویہ کی توقع رکھتے ہیں اور نہ ہی ایسے رویے کو برداشت کریں گے ۔ عمران خان کی حکومت کے ساتھ بدعنوانی اور قانون شکنی کی کئی کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔ان کہانیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آزادانہ کارروائیوںپرکسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اگر رانا ثنا اللہ نے حکومتی باری لیتے ہوئے ایک نیا شہر یار آفریدی بننے کی کوشش کی تو یاد رہے اس طرح کا کردار قانون کی حکمرانی کی خواہش رکھنے والوں نے نہ پہلے قبول کیا اور نہ ہی ان کے لیے اب قابل قبول ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button