ColumnNasir Sherazi

خان پھر وزیراعظم …. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

(گذشتہ سے پیوستہ)
سابق وزیراعظم اور میرے سابق محبوب رہنما کے خلاف ایک سازش تو وہ تھی جس کے حوالے سے انہوں نے مجمع عام میں خط لہرایا، دوسری سازش لاہور کے جلسہ عام میں کی گئی جس کے بارے میں قوم کو علم نہ ہوسکا۔ اب ملک و قوم کے وسیع مفاد میں اس سے پردہ اٹھانا ضروری ہے۔ یہ سازش اپوزیشن کی طرف سے کی گئی ہے جس نے دیکھ لیا تھا کہ پہلے دو جلسوں میں لاکھوں افراد ملک کے کونے کونے سے شرکت کے لیے پہنچے تھے لہٰذا یہ بات قرین از قیاس تھی کہ مینار پاکستان کے وسیع سبزہ زار میں لاکھوں افراد پہنچیں گے، لہٰذا اس جلسے کو ناکام بنانے کے لیے عرق ریزی شروع ہوگئی، جلسے سے ٹھیک ایک رات قبل محکمہ ریونیو کے عملے یعنی پٹواریوں کو بلاکر مینار پاکستان کی حدود سے باہر کا علاقہ بھی مینار پاکستان گرائونڈ کا حصہ بنادیاگیا، اس طرح اگر اس گرائونڈ کا رقبہ پانچ ہزار مربع میٹر تھا تو جلسے کی رات یہ رقبہ پندرہ ہزار مربع میٹر کردیا تھا تاکہ لاکھوں کا جم غفیر ہزاروں کا مجمع لگے، یوں یہ بہت بڑا جلسہ بلکہ تاریخی جلسہ صرف جلسہ نظر آیا، اپوزیشن کی طرف سے کی جانے والی سازشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کچھ امور توجہ طلب ہیں، ضروری ہے کہ خان صاحب وزارت عظمیٰ کے زمانے میں سلوائے گئے نئے دو درجن شلوار قمیص بکسوں میں بند کردیں، مختلف رنگوں کے شلوار سوٹوں کے ساتھ میچنگ کوٹ اور چپلیں بھی پیک کرکے کہیں رکھ دیں اور پرانے گھسے پٹے لباس نکالیں اور پرانی چپل پہن کر جلسہ عام میں شرکت کریں تاکہ تاثر ملے کہ وہ انتہائی غریب آدمی ہیں اور غریبوں کے غم میں خاصے دبلے ہوچکے ہیں، ہوسکے تو ایسی قمیص پہن کر آئیں جس میں کہیں کہیں سوراخ نظر آئیں، گریبان یا گلے کا ایک آدھ بٹن ٹوٹا ہوا ہو تو زیادہ اچھا ہے، اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوسکتے ہیں، ایک تو ان کا عام آدمی ہونے کا تاثر گہرا ہوگا دوسرا دیکھنے والوں کو پیغام جائے گا کہ اب کوئی بٹن لگانے والا گھر پر نہیں ہے، ہاں اگر کوئی امریکی یا یورپی شخصیت ملنے کے لیے آئے تو اس وقت ماڈرن لباس یعنی جینز ٹی شرٹ پہنیں تاکہ وہ سمجھیں کہ یہ تو ہم جیسا ہی ہے، اس بات کا خیال رکھیں کہ غیر ملکیوں سے ملاقات کے دوران ہاتھ میں تسبیح اور چیچی انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئے، تسبیح کو مُٹھی میں چھپالیں البتہ اس کے پھندنے سے کھیلتے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کھیل کو ان کی لاشعوری حرکت سمجھا جائے گا، جیسے شوبز سے وابستہ خواتین دوران گفتگو اپنے بالوں سے یوں کھیلتی رہتی ہیں جیسے وہ بال نچوڑ رہی ہیں یا جیسے نامور بالر’’بال سکریچ‘‘ کرتا رہتا ہے،

ہر جلسہ عام میں اپنی پیدائش کا تاریخی واقعہ ضرور سنائیں کہ وہ میوہسپتال میں کب کہاں اور کس وارڈ میں پیدا ہوئے اور ان کے والدین نے انہیں بتایا کہ وہ تو غلام ملک میں پیدا ہوئے تھے لیکن خان صاحب آزاد ملک میں جنم لے رہے ہیں، ہسپتال میں اپنی ولادت کا قصہ بار بار سنانے سے یہ پیغام جائے بھی جائے گا کہ آپ کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا، آپ کے والدین اس زمانے میں بھی ہسپتال کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے تھے، جب وہاں بچے کی پیدائش اسی روپے میں جبکہ گھر کے اندر بذریعہ دائی ’’ہوم ڈیلیوری‘‘ صرف دس روپے میں ہوتی تھی۔ ہر جلسہ عام میں اپنے چاہنے والوں سے اپیل کریں کہ دانے مک گئے ہیں، چندے کی اشد ضرورت ہے تاکہ چارٹر فلائٹ سے سفر کیا جاسکے، زیادہ بہتر ہوگا غریب عوام سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنی سائیکلیں اور موٹر سائیکلیں بیچ کر پارٹی فنڈ میں پیسہ جمع کرادیں تاکہ کم ازکم چھوٹے سفر کے لیے ایک ہیلی کاپٹر اور لمبے سفر کے لیے ایک ماڈرن جیٹ خریدا جاسکے، پاکستان میں کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے پاس تو اپنے جہاز ہیں لیکن کسی سیاسی شخصیت کے پاس جدید جیٹ موجود نہیں۔ جہانگیر ترین کا جہاز بھی چھکڑا ہوچکا ہے، دوران پرواز اس کے شیشے، دروازے پرانی ویگن کی طرح ٹھک ٹھک کرتے ہیں، یوں بھی بڑا لیڈر مانگے تانگے کے جہاز میں سفر کرتا اچھا نہیں لگتا، اس سے تو بہتر ہے کہ بندے کے پاس تانگہ ہو مگر اپنا ہو، جیسا پاکستان فلم انڈسٹری کے ابتدائی دور کی فلمی ہیروئن مینا شوری کے پاس ہوا کرتا تھا، اپنی کنوینس ہونا کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی، اس کا بڑا رعب ہوتا ہے۔

میرے سابق محبوب رہنماسترے بہترے ہونے کے باوجود خوب سمارٹ ہیں لہٰذا غریب غربا اور دیسی قسم کی خواتین ان پر ڈورے ڈالنے کے پروگرام بنارہی ہیں، وہ لاکھ اشارے کریں رو دھوکر دکھائیں، پارٹی رنگوں کا سنگھار کرکے آئیں یا پارٹی پرچم کا لباس پہن کر آئیں ان کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھیں، ایسا کرنے سے غریب طبقے میں آپ کی شرافت کے خوب چرچے ہوں گے اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اگر آپ کی نظر غلطی سے ایک مرتبہ کسی طرف اٹھ بھی جائے تو آپ دوسری مرتبہ اُسے نظر بھر کر نہیں دیکھتے، ہاں معاملہ کسی متمول اور غیر ملکی خاتون کا ہو تو پھر آپ ’’جیسا دیس ویسا بھیس‘‘ والا معاملہ اور رویہ اختیار کرسکتے ہیں کیوں کہ غیر ملکی خواتین سازش اور مداخلت سے بے نیاز ہوتی ہیں۔ بعض کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ مداخلت پسند ہوتی ہیں اس حوالے سے آپ کو مشورہ دینا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، آپ تو خود زندگی کا نصف حصہ یورپ میں گذار کر آئے ہیں اور یورپ کو یورپین سے زیادہ سمجھتے ہیں، ایک عالم نے میرے سابق محبوب رہنما کو مشہور ساحلوںکے کنارے ریاضت کرتے دیکھا ہے، انہیں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، اب خواہ مخواہ ایک نیا ٹنٹا کھڑا کیا جارہا ہے کہ بنی گالہ سے دفتر آنے اور جانے کے لیے دن میں متعدد مرتبہ ہیلی کاپٹر استعمال کرکے قریباً ایک ارب روپیہ برباد کردیاگیا ہے، اب بے وقوفوں کو کیا پتا کہ سابق وزیراعظم نے ایک دو قریباً یتیم بچوں کی کفالت کا ذمہ اٹھارکھا تھا، ہیلی کاپٹر انہیں سکول لانے لے جانے اور ان کی دل جوئی کے لیے استعمال ہوتا تھا، سابق وزیراعظم تو سائیکل پر دفتر آتے جاتے تھے، میں نے دو بچوں کے لیے ’’قریباً یتیم‘‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ ان کے والد موجود تو تھے لیکن ان کے سرپر نہیں تھے کسی اور شہر میں تھے لہٰذا یہ بچے ’’قریباً یتیم‘‘کے زمرے میں آتے ہیں، باقی رہا معاملہ تحفے بیچنے کا تو اس رقم سے کئی سڑکیں تعمیر کرائی گئی ہیں جو کوئی جرم نہیں، اسی طرح فارن فنڈنگ سے غریب لوگوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کرنے کے لیے جگہ جگہ واٹر کولر لگوائے گئے ہیں، پیاسے کو ٹھنڈا پانی پلانے کا ثواب تو اتنا ہے جتنا ستر اونٹوں کی قربانی کا گوشت تقسیم کرنے سے ملتا ہے، مجھے یہ بات بچپن سے کتابوں، اخباروں میں پڑھائی گئی ہے، کسی نے اس پر آج تک اعتراض نہیں کیا تو یہ ٹھیک ہی ہوگی۔

میرے سابق محبوب رہنمانے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کی تو میں مارے خوشی کے کئی راتیں سو نہ سکا کیوں کہ میں کئی برس سے ان کے اقدامات کو گہری نظر سے دیکھ رہا تھا پھر طویل عرصہ بعد کچھ فرصت ملی تو دن کی روشنی میں شہر کے کوچہ و بازار کا جائزہ لیا تو دودھ دہی بیچنے والوں کی دکانیں، کریانہ سٹوروں، تندوروں، درزیوں حتیٰ کہ بیوٹی پارلرز کے بورڈز دیکھ کر حیران رہ گیا، بہت کام ہوچکا تھا پس اک آنچ کی کسر رہ گئی تھی اُسی ایک آنچ کی جو سنیاسیوں کے سونا بنانے کے کام میں ہمیشہ رہ جاتی ہے اور قریباً بنا بنایا سونا مٹی ہوجاتا ہے۔ خان کی محبت کے اسیروں نے انہیں وزیراعظم پاکستان بنادیا، یہاں میری مراد اُن کے ووٹروں سے نہیں ہے لیکن اب دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے خان اپنے ووٹرز کی طرف دیکھ رہا ہے جو اُسے وزیراعظم بنانے سے زیادہ قائد اعظم بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کسی بھی لمحے وہ اپنے محبوب کو ٹی بی ہوجانے کا اعلان کرسکتے ہیں پھر ان کا انحصار شوکت خانم ہسپتال پرہوگا پھر اس کی رپورٹیں گھر گھر ڈسکس ہوں گی، اصل ہیں کہ جعلی ہیں، انہیں چاہیے کہ قائد اعظم بننے کی کوشش نہ کریں، وزیراعظم بننے کی کوششیں بے شک جاری رکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button