Column

26اپریل یوم امتناع قادیانیت ایکٹ .. مولانا محمد وقاص حیدر

مولانا محمد وقاص حیدر

وطن عزیز پاکستان کا وجود روز اوّل سے ہی طاغوتی طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح لگتا ہے۔ 1947میں تقسیم برصغیر ہوئی تو ایک سازش کے تحت یہودی گماشتوں نے قادیانیوں کو قادیان سے پاکستان کی طرف ہجرت کروائی اور پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مشہور زمانہ قادیانی موسیو ظفر اللہ خاں نے ربوہ میں چند کوڑیوں کے عوض ایک بہت وسیع رقبہ لیز پر قادیانیوں کے نام الاٹ کیا جہاں انہوں نے ریاست در ریاست کا ماحول بنا رکھا ہے اور ملکی سلامتی پر وار کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس وقت سے ہی وہ پاکستان مخالف سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ ان کی سازشوں سے تنگ آکر 1953 میں تحریک ختم نبوت چلائی گئی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت نے قربانی دے کر حضورپُرنور خاتم النبیین محمد کریمﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کیااور پھر یہی تحریک چلتے چلاتے 1974میں داخل ہوئی اور شہدائے ختم نبوت کا مقدس خون بے گناہی رنگ لایا اور پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں لاہوری و قادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس کے بعد قادیانیوں کی مکروہ کارروائیاں پہلے سے زیادہ بڑھنے لگیں اور کچھ واقعات کے پیش نظر 1984 میں ایک اور تحریک چلائی گئی کہ قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا جائے جس پر26اپریل 1984ء کو صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے آرڈیننس نمبر 20 موسومہ امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت مرزائیوں کے ہر دو گروپ لاہوری و قادیانی کو ان کی خلافِ اسلام سرگرمیوں سے روک دیا گیا۔

آرڈیننس کے ذریعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298بی اور سی کا اضافہ کیا گیا۔اس آرڈیننس کے تحت پاکستان پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 میں بھی ترمیم کر دی گئی، جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے، اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یا اخبار پر قبضہ کرے جس کی چھپائی یا اشاعت پر اس دفعہ کی رُو سے پابندی ہے۔اس آرڈیننس کے ذریعے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی اور سی کے تحت لکھا گیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلا سکتا اورجناب ر سول اللہﷺ کے اصحاب کے سوا کسی کے ساتھی مثلاً مرزا غلام ملعون کے ساتھیوں کو صحابی کا خطاب، یا امیر المؤمنین کے القابات سے موسوم نہ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح سوائے رسول اللہﷺ کی ازواج کے کسی دوسرے کی بیوی مثلا مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی بیوی وغیرہ کو امہات المئومنین کا لقب بھی نہیں دیا جا سکے گا اوررسول اللہﷺ کے خاندان یا فرد کے سوا کسی اور کے خاندان یا فرد مثلاً مرزا قادیانی کے خاندان و فرد وغیرہ کے لیے اہلبیت کا لقب استعمال کرنے کی بھی اجازت نہ ہو گی۔ اسی طرح مسلمانوں کی عبادت گاہ کے سوا کسی بھی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینا بھی جرم قرار دیا گیااور قادیانی اذان بھی نہیں دے سکیں گے اور کسی بھی ایسی چیز کے استعمال سے روک دیا گیا

جس سے قادیانی مسلمان ظاہر ہوں اور ان کے کھلے عام تبلیغ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کا یہ کارنامہ قادیانیت پر ایک ایسی نقب تھی جس کی تکلیف وہ آج تک بھلا نہیں پائے اور آئے روز کسی نہ کسی سازش کا حصہ بن کر پاکستان دشمنی کر رہے ہیں اور یہ سب کرنے کی جرأت ان میں اس وجہ سے ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ہمارے ادارے امتناع قادیانیت ایکٹ پر مؤثر عمل درآمد نہیں کروا رہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ہر حکومت آنے سے پہلے یقین دہانی کرواتی ہے کہ ہم اس آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو لگام ڈالیں گے لیکن جب وہ حکومت میں آجاتے ہیں تو قادیانیت نوازی ان کا وتیرہ بن جاتا ہے حکومتی نمائندے اپنی اس حرکت سے صرف عوام کو دھوکہ نہیں دے رہے بلکہ حضور پُرنورﷺ کا دل دکھا رہے ہیں اور ذرا سوچئے کہ ایسا شخص جو حضور سرور کائنات خاتم النبیینﷺ کے دشمنوں کی پشت پناہی کر رہا ہو تو وہ قیامت کے روز آقاﷺ کا سامنا کیسے کر سکتا ہے۔

اگر آج ہی امتناع قادیانیت ایکٹ پر مؤثر عمل درآمد شروع ہو جائے تو قادیانیوں کے لیے وطن عزیز پاکستان میں رہنا مشکل ہو جائے۔بانی احراربطل حریت حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے شہدائے ختم نبوت 1953کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں عطاء اللہ شاہ ان شہدا کا وارث ہوں ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 1974میں ان شہداء کی قربانی رنگ لائی اور قادیانی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیئے گئے اور اسی مجلس احرار اسلام پاکستان اور باقی ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں کی محنت اور کاوش سے 26 اپریل1984میں امتناع قادیانیت ایکٹ وجود میں آیااور اس وقت سے لے کر اب تک مجلس احرار اسلام ہر آنے والی حکومت سے مطالبہ دہراتی ہے کہ امتناع قادیانیت ایکٹ پر عمل درآمد کروایا جائے 2022کے اپریل میں بھی بننے والی پی ڈی ایم کی نئی حکومت سے بھی مطالبہ کرتی ہے (کیوں کہ ناامیدی تو کفر ہے اور ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے اس قوم کے بارے میں کیا خوب کہا تھا کہ

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

امتناع قادیانیت ایکٹ پر عمل درآمد کروایا جائے تا کہ قادیانیوں کی ملک کے خلاف سرگرمیوں کو روکا جاسکے اور یہ مطالبہ بھی دہرایا جاتا ہے کہ چناب نگر (ربوہ) میں ریاست در ریاست کا ماحول ختم کیا جائے اور وہاں کے قادیانیوں کو قومی دہارے میں رکھا جائے تاکہ ملکی سلامتی محفوظ رہ سکے۔ علاوہ ازیں متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے 26اپریل (کل) پورے ملک میں یوم امتناع قادیانیت ایکٹ منانے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ تمام مکاتب فکراپنے اپنے ماحول اور مراکز میں امتناع قادیانیت ایکٹ پر روشنی ڈالیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button