دنیا

نتن یاہو کی جنگی کابینہ ایران کو جواب دینے کے معاملے پر منقسم

ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے پر کیسا ردعمل دیا جائے کے معاملے پر غور و فکر کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جنگی کابینہ کا 24 گھنٹوں میں دو مرتبہ اجلاس ہوا اور اس دوران یہ افواہیں گرم رہی کہ ایران کو کسی قسم کا جوابی ردعمل دینا ناگزیر ہے۔ لیکن اب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کابینہ اس معاملے پر منقسم ہے مگر یہ کیسے اور کب تقسیم ہوئی۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت بھرپور جنگ چھیڑے بغیر حملے کے لیے ایران کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ میڈیا نے کہا ہے کہ وزرا بھی امریکہ کے ساتھ مشاورت کر کے ردعمل دینا چاہتے ہیں۔

امریکی حکام نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ اگرچہ ابھی ایران کے اسرائیل پر حملے کو صرف دو دن ہی گزرے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت میں سیاسی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

اسرائیل کے قائد حزب اختلاف یائیر لپید نے نتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ ’وہ اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔‘

نتن یاہو نے بعدازاں چند اپوزیشن رہنماؤں کو سیکورٹی بریفنگ کے لیے بلایا لیکن لیپد ان میں شامل نہیں تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button