تازہ ترینخبریںدنیا سے

250 ارب کی جائیداد وراثت میں پانے والے کی وفات دو کمرے کے فلیٹ میں ہوگئی

ماضی کی نظام شاہی سلطنت حیدرآباد کے آٹھویں نظام نواب میر برکت علی خان والاشان مکرم جاہ بہادر رواں ہفتے استنبول میں وفات پا گئے ہیں۔

مکرم جاہ کی عمر 89 برس تھی اور انھیں گذشتہ روز یعنی بدھ کی شام مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کے کھنڈاری قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

ان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انتہائی دُکھ کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حیدرآباد کے آٹھویں نظام محترم نواب میر برکت علی خان والاشان مکرم جاہ بہادر ترکی کے شہر استنبول میں انتقال کر گئے ہیں۔ اُن کی آخری خواہش کے مطابق انھیں ان کی جائے پیدائش یعنی حیدرآباد میں دفن کیا جائے گا۔‘

نظام شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے نجف علی خان نے جو پریس نوٹ ارسال کیا ہے اس کے مطابق ’تلنگانہ حکومت نے مکمل پولیس اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کیں۔‘

آخری رسومات ادا کرنے کے تمام انتظامات تلنگانہ حکومت، نظاہ ہشتم کے اہلخانہ اور ٹرسٹیز کے تعاون سے کیے گئے۔

مکرم جاہ حیدرآباد پر حکومت کرنے والے آخری نظام میر عثمان علی خان بہادر کے پوتے تھے۔ میر عثمان علی خان نے 1948 تک حیدرآباد پر حکومت کی۔ وہ ساتویں نظام تھے۔

انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق عثمان علی خان نے اپنے بیٹوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے پوتے مکرم جاہ کو اپنا جانشین قرار دیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق اپریل سنہ 1967 میں تاجپوشی کی تقریب کے بعد مکرم جاہ باقاعدہ طور پر آٹھویں نظام بن گئے۔ تاج پوشی کی یہ تقریب چومحلہ محل میں ہوئی۔

اس کے بعد وہ انڈیا سے آسٹریلیا چلے گئے۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد انھوں نے ترکی کو اپنا مسکن بنایا۔ بعد ازاں وہ مستقل طور پر وہاں آباد ہو گئے۔

حیدرآباد سے شائع ہونے والے روزنامہ ’سیاست‘ کے مطابق ساتویں نظام کے جانشین کے طور پر مکرم جاہ دنیا کے ’سب سے بڑے خزانے‘ کے مالک بن گئے۔

لیکن پرتعیش طرز زندگی، جائیدادوں اور شاہی محلات کی دیکھ بھال میں غفلت اور مہنگے زیورات پر بے دریغ خرچ کرنے کی عادت کے باعث ان کی تمام دولت خرچ ہو گئی۔

مکرم جاہ کو لگ بھگ 25 ہزار کروڑ روپے کی جائیداد وراثت میں ملی تھی اور جب یہ وراثت ان کو منتقل ہوئی تو اُس وقت اُن کی عمر صرف 30 سال تھی۔ زندگی بھر بیٹھ کر کھانے کی عادت اور اپنے پرتعیش طرز زندگی پر بےتحاشہ اخراجات کرنے کی وجہ سے انھیں زندگی کے آخری دنوں میں دو کمروں والے ایک فلیٹ میں رہنا پڑا۔

بہرحال، مکرم جاہ کی وفات سے ایک تاریخی وراثت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

حیدرآباد میں نظام شاہی سلطنت کا آغاز سنہ 1724 میں نظام الملک سے ہوا۔ نظام خاندان نے حیدرآباد دکن پر سنہ 1724 سے 1948 تک حکومت کی۔

ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ نے مکرم جاہ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے آفس کی جانب سے ٹویٹ کیا گیا کہ ’آٹھویں نظام غریبوں کے لیے کام کرتے تھے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں ان کے کام کے اعزاز میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔‘

آصف جاہ مظفر الملک سر عثمان علی خان، جو برطانوی حکومت کے بہت وفادار تھے، سنہ1911 میں حیدرآباد کی شاہی ریاست کے حکمران بنے۔

22 فروری 1937 کو ٹائم میگزین میں میر عثمان علی پر ایک کور سٹوری شائع ہوئی جس میں انھیں ’دنیا کا امیر ترین آدمی‘ قرار دیا گیا تھا۔

ساتویں نظام کے پاس 282 کیرٹ والا ایک ہیرا بھی تھا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے ہیروں میں سے ایک ہے۔ اسے دیکھنے والوں کے مطابق یہ ہیرا ایک چھوٹے لیموں کے سائز کا تھا۔

نظام اسے چوروں سے بچانے کے لیے صابن کے ڈبے میں چھپا کر رکھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ اس بڑے ہیرے کو پیپر ویٹ کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔

حیدرآباد ان تین شاہی ریاستوں میں سے ایک تھی جنھوں نے ہندوستان کی آزادی کے بعد انڈیا کے ساتھ الحاق سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم حکومت ہند نے 1948 میں پولیس ایکشن کے بعد اس ریاست کو اپنے ساتھ ضم کر لیا۔

حیدرآباد میں نظام کی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد حکومت ہند نے نظام کے حامیوں قاسم رضوی اور لئیق احمد کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ لئیق احمد حراست سے فرار ہو کر بمبئی (اب ممبئی) ہوائی اڈے پر پہنچ گئے اور وہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان چلے آئے۔

حکومت ہند نے ساتویں نظام اور ان کے خاندان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ ساتویں نظام میر عثمان علی خان اور ان کے خاندان کو ان کے اپنے محل میں رہنے کی اجازت دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button