الخدمت فائونڈیشن کا دورہ

الخدمت فائونڈیشن کا دورہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
اسلام میں بلاتفریق سب کی بھلائی کرنا عین عبادت ہے۔ حق تعالیٰ کی عبادت ہر انسان کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ مخلوق خدا کی فلاح و بہبود اور ان کی مدد کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ رسالت مآبؐ کا ارشاد ہے جب تک انسان اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ شامل حال رہتی ہے۔ آج کے دور میں کتنی جماعتیں ہیں جو انسانی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ماسوائے اقتدار کے حصول کی خاطر وہ کیا کچھ نہیں کرتیں عوام سے جھوٹے وعدے اور ووٹ لینے کے بعد عوام کو بھول جانا عام طور پر سیاست دانوں کا شیوہ ہے۔ آج میں ایک ایسی دینی جماعت کا ذکر کروں گا جس کی الخدمت فائونڈیشن نے ترکی کی طرز پر فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام شرو ع کر رکھا ہے۔ چند روز قبل مجھے ایک معروف تعلیمی درسگاہ صدیق پبلک اسکول کے سرپرست اعلیٰ راشد چیمہ کی ساتھ راولپنڈی میں کمیٹی چوک کے قریب ایک بلند وبالا عمارت میں قائم الخدمت فائونڈیشن کے دفاتر کا دور کرنے کا موقع ملاجہاں قائم مختلف شعبہ جات کا دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں رہ جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں الخدمت فائونڈیشن کے مختلف منصوبوں کی بات کروں میں سب سے پہلے نائب امیر جماعت اسلامی حلقہ پی پی 17سید ارشد فاروق او ر ان کے ہونہار بیٹے سید عمار ارشد جو الخدمت فائونڈیشن سے وابستہ ہیں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں فائونڈیشن کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ جیسا کہ یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے الخدمت فائونڈیشن کے زیراہتمام نوجوان نسل کو کمپیوٹر کی تعلیم سے روشناس کرانے کے لئے بنو قابل پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں اب تک کئی لاکھ نوجوان طلبہ اور طالبات رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی ہزار زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر فارغ ہو چکے ہیں۔ مادی دور میں بنو قابل پروگرام کا آغاز کرکے الخدمت فائونڈیشن نے طلبا اور طالبات کے غریب والدین کا مالی بوجھ کم کرنے کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس میں مخیر حضرات کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ انسان دنیا میں تو بڑے بڑے محلات تعمیر کرتا ہے جب کہ اس کے برعکس آخروی زندگی کے لئے سامان کرنے سے گریزاں ہے حالانکہ ہمیں سب کو دنیاوی لالچ و طمع سے بالاتر ہو کر اپنی ابدی زندگی کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔ درحقیقت اس وقت فلاحی منصوبے شروع کرنے کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، روزگار نہیں ہے شائد یہی وجہ ہے جرائم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پھر ایسے وقت میں ملک کے امراء طبقے کو آگے آنے کی ضرورت ہے وہ حاجت مندوں کی حاجت روی کرکے اپنے اللہ کو راضی کریں۔ رسالت مآبؐ کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین نے رسولؐ اللہ کے بتلائے ہوئے انسانی فلاح کے کاموں کو جاری رکھا۔ سیدنا عمر فاروقؓ کی مثال دیکھ لیں جو راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں اور محلوں میں حاجت مندوں کا پتہ چلایا کرتے تھے تاکہ اسلامی ریاست میں کوئی شخص بھوکا نہ رہ جائے۔ آج کتنے سیاست دان ایسے ہیں جو غریب عوام کا پتہ چلانے کی کوشش کرتے ہیں بالکل نہیں بلکہ وہ اندرون اور بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں بناتے ہیں۔ لوٹ مار کرنے والوں کو غریب عوام پر مسلط کیا جاتا ہے۔ میں الخدمت فائونڈیشن کی بات کر رہا تھا اگر میں اس کے ہسپتالوں کی بات نہ کروں تو بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے میں الخدمت فائونڈیشن کے کن کن منصوبوں کی بات کروں۔ الخدمت فائونڈیشن عین اسلامی ریاست کی طرز پر ضرورت مندوں کی حاجت روی کر رہی ہے جس کی جتنی تعریف کریں کم ہے۔ الخدمت فائونڈیشن کے ہسپتالوں میں کم سے کم اخراجات پر مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت میسر ہے ہاں وہ لوگ جو علاج معالجے کے اخراجات ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے انہیں مفت میں علاج کی سہولت مہیا کی جاتی ہے۔ مجھے خود اس کا تجربہ ہوا ہے چند ایسے افراد جو آنکھوں کے آپریشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے الخدمت رازی ہسپتال نے انہیں مفت میں آپریشن کی سہولت مہیا کی۔ اگر یہ نہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا عہد حاضر میں الخدمت فائونڈیشن مستحق لوگوں کی صحیح معنوں میں خدمات کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ الخدمت فائونڈیشن ہی کا ایک نیا پروگرام سامنے آیا ہے جس میں بے سہارا خاندانوں کو رہائش اور کھانے پینے کی سہولت ہو گی جس کے لئے اس منصوبے پر کام جاری ہے کم از کم تین سو خاندانوں کو قیام و طعام کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ الخدمت فائونڈیشن کی طرز پر مخیر حضرات اس طرح کے منصوبے شروع کریں تو لاکھوں بے سہارا خاندانوں کی کفالت ہو سکتی ہے۔ دور نبو ی پر غور کریں تو ہمیں زندگی کے ہر گوشے پر رہنمائی ملتی ہے لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ دنیاوی عیش و عشرت میں مگن ہے کسی آخرت میں جواب دہی کی فکر ہے بس مال دولت کا حصول لوگوں کا مطمع نظر ہے۔ آج ہمیں الخدمت فائونڈیشن ایسی بہت سی فلاحی تنظیموں کی اشد ضرورت ہے۔ آپ یقین کریں الخدمت فائونڈیشن کے دفاتر کے دورے کے موقع پر آئی ٹی کے شعبہ کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا بڑی تعداد میں طلبہ کمپیوٹر پر کام کر رہے تھے۔ شدید گرمی کے موسم میں انہیں ایئرکنڈیشن کی سہولت میسر تھی لیکن جو لوگ حق تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مخلوق خدا کی خدمت کرتے ہیں باری تعالیٰ ان کے لئے نئی نئی راہیں کھول دیتا ہے۔ مسلمان بھائیوں پر جب کبھی مشکل کی گھڑی آتی ہے جماعت اسلامی اور اس سے ملحقہ فلاحی تنظیمیں ان کی مدد کو پہنچتی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے جو کام بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے وہ جماعت اسلامی انجام دے رہی ہے سیاسی جماعتوں کو ماسوائے اقتدار کے حصول کے عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ آئیے! ہمیں سب کو مل کر الخدمت ایسی فائونڈیشن کا بھرپور ساتھ دے کر مستحق افراد کا سہارا بننے کی کوشش کریں تو ہماری دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔







