
جگائے گا کون؟
روزانہ پٹرولیم بمباری، حکومتی ترجیح؟
تحریر : سی ایم رضوان
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے ( پٹرول 5.44روپے اور ڈیزل 31.05روپے مہنگا) اور اوگرا کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کی ذمہ داری دینے کے فیصلے نے ملک میں ایک بار پھر ایک شدید معاشی اضطراب اور ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیرِ پٹرولیم کے مطابق یہ فیصلہ ایران امریکہ جنگ کے باعث خلیجِ فارس میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھا کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ عوام کو بڑے پیمانے پر احتجاج پر آمادہ کرے گا یا نہیں۔ جواب یہ ہے کہ عوامی غصے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہو گی کہ عوام کو روزانہ کا ذہنی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ جبکہ اب تک عوام کو ہر 15 دن بعد پٹرولیم قیمتوں کے جھٹکے کی عادت تھی۔ اب روزانہ قیمتیں بدلنے سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کے لئے بجٹ بنانا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ ’’ روزانہ کا پٹرول بم‘‘ عوام میں مسلسل فرسٹریشن ( مایوسی) پیدا کرے گا۔ کیونکہ اب مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ ڈیزل کی قیمت میں ایک ساتھ 31روپے سے زائد کا اضافہ مال برداری کو مہنگا کر دے گا۔ جس کا تازہ ترین نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے اس اضافے کے اعلان کے دوسرے روز ہی کرایوں میں یک لخت پندرہ فیصد اضافہ کر دیا ہے جبکہ منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے کرایوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ٹول ٹیکس میں کمی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے لیکن یہ طے ہے کہ ان اعلانات کے اگلے ہی دن سے دودھ، سبزیاں اور روزمرہ کی اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی، یہ امر غریب اور متوسط طبقے کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن شاید عوام میں اب یہ سکت بھی نہیں رہی۔ البتہ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں نے اس نوعیت کے اقدام میں بھی پہل کر دی ہے اور کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ یونینز اور تاجر برادری روزانہ کی بنیاد پر کرائے اور قیمتیں تبدیل نہیں کر سکتے اس فیصلے سے اگر ان کا کاروبار متاثر ہوا تو وہ پہیہ جام ہڑتال یا شٹر ڈائون احتجاج کی طرف جا سکتے ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ اس قدر معاشی دبائو کے باوجود عوام احتجاج کیوں نہیں کرتے تو اس ضمن میں احتجاج کی راہ میں چند رکاوٹیں اور بھی ہیں جن کی وجہ سے عوام سڑکوں پر نہیں آ رہے۔ شدید غصے کے باوجود، پاکستان میں فوری طور پر ملک گیر عوامی احتجاج کے امکانات کو ایک طرف تو عالمی حالات کی مجبوری نے روک رکھا ہے اور حکومت بھی اس فیصلے کا ملبہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور عالمی منڈی پر ڈال رہی ہے یعنی جب عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی نہیں بین الاقوامی مجبوری ہے، تو احتجاج کی شدت وہ نہیں رہتی جو کسی داخلی ٹیکس کے خلاف ہوتی ہے۔ احتجاج نہ ہونے کی ایک دیگر وجہ سیاسی قیادت کی کمی بھی ہے کیونکہ کوئی بھی بڑا احتجاج تب تک ممکن یا کامیاب نہیں ہوتا جب تک کوئی مضبوط سیاسی جماعت یا اپوزیشن اس کی قیادت نہ کرے۔ اس وقت اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی کالز تو دے رہی ہیں لیکن عوامی سطح پر وہ متحرک سٹریٹ پاور نظر نہیں آ رہی۔ پاکستانی عوام گزشتہ چند برسوں میں اتنی مہنگائی دیکھ چکے ہیں کہ اب ان میں ایک طرح کی ’’ تھکن‘‘ آ چکی ہے۔ لوگ احتجاج میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے روزگار اور بقا کی فکر میں زیادہ مگن رہتے ہیں۔ لہٰذا ملک گیر سطح پر کسی بڑے سیاسی انقلاب یا دھرنے کے بجائے، مقامی اور سیکٹرل احتجاج دیکھنے کو ملیں گے۔ ٹرانسپورٹ یونینز، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیورز، اور تاجر برادری شہروں میں جزوی ہڑتالیں اور سڑکیں بلاک کر سکتے ہیں البتہ شدید سوشل میڈیا ردعمل: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حکومت کے اس فارمولے کے خلاف شدید عوامی غصہ دیکھنے کو ملے گا، جو حکومت پر سیاسی دبائو بڑھائے گا۔ دوسری طرف پٹرول پمپس مالکان روزانہ قیمت بڑھنے کی امید پر رات کے وقت پٹرول کی سپلائی روک سکتے ہیں، جس سے شہروں میں پٹرول کی مصنوعی قلت اور لائنیں لگ سکتی ہیں، اور یہ صورتحال امن و امان کا مسئلہ بن سکتی ہے۔ ہاں اوگرا کو یہ نیا اختیار دینے کا فارمولا بارود کے ڈھیر پر چنگاری کا کام ضرور کر رہا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں نیچے نہ آئیں اور روزانہ پٹرول مہنگا ہوتا گیا، تو آنے والے دنوں میں ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کی قیادت میں ہونے والا احتجاج حکومت کے لئے ایک بڑا سردرد بن سکتا ہے۔
ایسے حالات میں عطاء تارڑ اور حکومت کا یہ موقف کہ ان کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، انتہائی بھونڈا مذاق معلوم ہوتا ہے اور عوامی سطح کے تنقیدی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومتی پالیسیاں عوام کے لئے ریلیف کی بجائے ’’ تکلیف‘‘ کا باعث بن رہی ہیں۔ اس امر کا حقیقت پسندانہ اور معروضی جائزہ لیا جائے، تو یہ کسی دانستہ ترجیح کی بجائے سخت معاشی مجبوریوں اور پالیسیوں کے منفی اثرات کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ چونکہ حکومت نے ریونیو بڑھانے کے لئی ڈائریکٹ ٹیکسز ( جو امیروں پر لگتے ہیں) کے بجائے ان ڈائریکٹ ٹیکسز ( بالواسطہ ٹیکس) اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا ہے۔ جب روزمرہ کی اشیائ، موبائل فون اور دیگر بنیادی ضرورتوں پر ٹیکس بڑھتا ہے، تو اس کا سیدھا اثر غریب اور مڈل کلاس طبقے کی جیب پر پڑتا ہے، جسے عوام ’’ تکلیف‘‘ تصور کرتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گردشی قرضے کو روکنے کے لئے قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے۔ لیکن عوام کے نقطہ نظر سے، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ جب بنیادی یوٹیلٹیز عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں، تو حکومت کے ریلیف کے دعوے حقیقت سے دور دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھائو کے علاوہ، حکومت پٹرول اور ڈیزل پر بھاری لیوی وصول کرتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے ملک میں ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہوتی ہے، جس سے ہر کھانے پینے کی چیز کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ عوام اسے حکومت کی طرف سے ریلیف کے بجائے معاشی ہدف پورا کرنے کی ترجیح سمجھتے ہیں۔
ایک اور بڑی قومی مجبوری یہ ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سبسڈیز ( رعایتیں) ختم کرنا اور قیمتیں بڑھانا لازمی ہے۔ حکومت اسے ’’ طویل مدتی فائدے کے لئے کڑوی گولی‘‘ کہتی ہے، لیکن عام شہری کے لئے یہ کڑوی گولی فوری طور پر شدید معاشی تکلیف کا سبب بن رہی ہے۔ اگرچہ حکومت کا مقصد دانستہ طور پر عوام کو تکلیف دینا نہیں ہوتا ( کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنی مقبولیت کھونا نہیں چاہتی)، لیکن حکومت کی ترجیح اس وقت عوامی ریلیف سے زیادہ معاشی استحکام، آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا اور خسارے کم کرنا بن چکی ہے۔ جب حکومت معیشت کو بچانے کو پہلی ترجیح بناتی ہے، تو اس کے نتیجے میں اٹھنے والے سخت اقدامات عوام کے لئے ’’ ریلیف‘‘ کے بجائے ’’ تکلیف‘‘ کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔
اب جیسا کہ حکومت نے زندگی کے پہیے کو رواں دواں رکھنے والی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو بیس جولائی تک ناقابل تبدل کہا ہے اور اکیس جولائی کو اس نے اضافہ کرنے کا اخلاقی جواز خود ہی گھڑ لیا ہے۔ روزانہ یا بہت ہی قلیل مدت کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی یقینی طور پر عوام کے اندر معاشی اضطراب اور بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔ جب تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، تو اس کے معیشت اور عام آدمی پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سے کسی بھی کاروباری منصوبہ بندی میں دشواری عام ہو جاتی ہے۔ کسی بھی چھوٹے یا بڑے کاروبار کے لئے اخراجات کا تخمینہ لگانا بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹیشن اور پیداواری لاگت روز بدل رہی ہو، تو تاجر اور صنعتکار اپنے سامان کی حتمی قیمت کا تعین نہیں کر پاتے۔ اس بے یقینی کی وجہ سے مینوفیکچررز اور سرمایہ کار مارکیٹ میں بڑا قدم اٹھانے سے کتراتے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھائو کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ کے بعض عناصر ’’ مصنوعی مہنگائی‘‘ پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر پٹرول کی قیمت میں تھوڑا سا اضافہ متوقع ہو، تو ٹرانسپورٹرز اور دکاندار کرایوں اور اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا زیادہ اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب قیمتیں کم ہوتی ہیں، تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے جبکہ صارفین کا اعتماد اور قوتِ خرید بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب عام شہری کو یہ معلوم نہ ہو کہ اگلے ہفتے یا اگلے پندرہ دن میں پٹرول کتنا مہنگا ہو جائے گا، تو وہ غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس خوف سے لوگ اپنی رقم بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور بازار میں خریداری کم کر دیتے ہیں۔ جب لوگ خریداری کم کرتے ہیں، تو پوری مارکیٹ کا پہیہ سست ہو جاتا ہے۔ معاشرے پر مہنگائی کا ایک نفسیاتی اثر بھی ہوتا ہے۔ معاشی اضطراب صرف جیب تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ نفسیاتی تنا کا باعث بنتا ہے۔ روزمرہ کی بحث، خبروں کا دبا اور کل کی قیمتوں کا خوف عوام میں مایوسی اور بے چینی پھیلاتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے معاشی امن کے لئے نقصان دہ ہے چونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر تیل باہر سے خریدتا ہے، اس لئے وہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کے مطابق قیمتیں ایڈجسٹ کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق، اگر وہ قیمتیں فوری طور پر نہ بدلیں تو حکومت پر سبسڈی کا بوجھ بڑھ جاتا ہے جو ملکی خزانے کے لئے قابلِ برداشت نہیں ہوتا۔ تاہم، معاشی ماہرین کا موقف ہے کہ قیمتوں میں مستقل اتار چڑھائو کے بجائے اگر حکومت پٹرولیم لیوی یا ٹیکسز کو اس طرح مینیج کرے کہ قیمتیں کم از کم کچھ مہینوں کے لئے مستحکم رہیں، تو معاشی اضطراب کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔







