Column

نئے صوبوں کی بازگشت اور سیاسی بے یقینی

نئے صوبوں کی بازگشت اور سیاسی بے یقینی
حروف بے زباں
مرزا رضوان
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ موڑ سے گزر رہا ہے۔ ملک کا مجموعی سیاسی، معاشی اور انتظامی ڈھانچہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے، جہاں عام آدمی سے لے کر سنجیدہ تجزیہ کار تک یہی پکار اٹھ رہے ہیں کہ’’ پورا سسٹم تباہ ہو گیا ہے‘‘ ۔ مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور توانائی کے بحران نے 2024 میں قائم ہونے والی حکومت سے امیدیں توڑ دی ہیں۔ عوام کا اس نظام سے دل اس قدر بھر چکا ہے کہ اب تبدیلی کے نعروں پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے، اور خود سیاستدانوں کے اندر ایک نا معلوم خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ملک میں جاری اس سیاسی و انتظامی کھینچاتانی کے درمیان ایک بار پھر ’’ نئے صوبوں کے قیام‘‘ پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ، جو کہ چند بڑے صوبوں پر مشتمل ہے، اب اِس خطے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کے تقاضوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آتا ہے۔ پنجاب اور سندھ جیسے بڑے صوبوں کے اندرونی اضلاع ( خصوصاً جنوبی پنجاب یا اندرون سندھ کے پسماندہ علاقے) دہائیوں سے ترقیاتی فنڈز اور بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔ ہر دورِ حکومت میں نئے صوبوں کی بازگشت صرف انتخابی نعروں تک محدود رہتی ہے۔ جب حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو الگ صوبے کی حمایت کی جاتی ہے، اور جب اقتدار ملتا ہے تو فائلیں بند کر دی جاتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو سکے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ سیاسی اشرافیہ اپنے ہی اختیارات کو محدود کرنے کی یہ قیمت چکانے کو تیار ہے؟۔
عوام کے ذہنوں میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا اس بوسیدہ اور ناکام نظام کو ری سیٹ کرنے کا کوئی موقع باقی ہے؟ اب تک کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ روایتی سیاست اور پرانے ہتھکنڈوں کے ساتھ اس نظام کی مرمت ممکن نہیں۔ نظام کا ری سیٹ ہونا تبھی ممکن ہے جب انصاف کے دروازے سب کے لیے یکساں ہوں۔ ملکی وسائل کی لوٹ مار بند ہو اور ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو۔ جمہوریت صرف نام کی نہ ہو بلکہ عوام کے ووٹ کی اصل طاقت بحال ہو۔ اگر یہ اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو نظام کی یہ اندرونی کھوکھلاہٹ کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس سے سیاستدانوں کا خوف حقیقت میں بدل سکتا ہے۔
اس تمام سیاسی منظر نامے میں ایک انتہائی دلچسپ اور زیر بحث موضوع مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف ہے۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے اندرونی حصوں میں، بالخصوص معاشی دبائو اور مہنگائی کی وجہ سے، ن لیگ کی مرکزی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ عوام کے ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ موجودہ ملکی حالات اور مہنگائی کے بوجھ نے ن لیگ کے سیاسی بیانیے کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے برعکس، آزاد جموں و کشمیر کے خطے میں ن لیگ کی پوزیشن اور سیاسی مقبولیت بظاہر بہتر دکھائی دیتی ہے، تاہم اس پر بھی سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی (IPP)کی جانب سے ن لیگ پر کشمیر الیکشن میں بدترین دھاندلی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں، جن کا موقف ہے کہ وہاں ن لیگ کی برتری دراصل عوامی مقبولیت کا نہیں بلکہ انتخابی بے ضابطگیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ اس تضاد کی درج ذیل وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں، کشمیر کے عوام روایتی طور پر بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کے جال بچھانے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے ادوارِ حکومت کو یاد رکھتے ہیں، کشمیر میں قبائلی اور برادری سسٹم کے ساتھ ساتھ وفاقی جماعتوں کا اثر و رسوخ الگ نوعیت کا ہوتا ہے جہاں مقامی رہنماں کی ذاتی شخصیت بھی ووٹ بینک پر اثر انداز ہوتی ہے پاکستان کے مقابلے میں کشمیر کے اندر وفاقی جماعتوں کے ساتھ وابستگی کو خطے کے امور سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں ن لیگ کو نسبتاً زیادہ سیاسی گنجائش اور پذیرائی ملتی ہے، اگرچہ مخالف جماعتیں اس تمام عمل کو دھاندلی کا رنگ دیتی ہیں۔
آج پاکستان کو محض بیانات یا وقتی وعدوں کی نہیں بلکہ ایک حقیقی ’’ قومی مکالمے‘‘ اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اگر سیاستدان اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتے اور ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ نظام کی خرابی کو دُور کرنے کا وقت اب آ چکا ہے، بصورت دیگر حالات اس نہج پر چلے جائیں گے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

جواب دیں

Back to top button