سٹیٹس خطرے میں

GSP+سٹیٹس خطرے میں
محمد مبشر انوار
کسی بھی ریاست کا خوشحالی و استحکام بنیادی طور پر دو عوامل پر ہوتا ہے کہ آیا اس کی دفاعی صلاحیت کیا ہے اور دوسرا اس کی معاشی حیثیت کیسی ہے؟ جبکہ دیگر تمام عوامل مل کر ان دو بنیادی عوامل کو مضبوط بناتے ہیں وہ خواہ ریاست کی داخلی صورتحال ہو یا خارجی تعلقات، ان کی دارومدار بہرحال ان دو بنیادی عوامل پر ہوتا ہے اگر کوئی بھی ریاست ان میں سے کسی ایک میں بھی کمی یا کمزوری کا شکار ہو، تو اس کی حالت انتہائی نازک ہوتی ہے۔ ریاست پاکستان کی حالت ویسے بھی ہم سب کے علم میں ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے، اسے نازک دور سے گزرتے دیکھ رہے ہیں جبکہ ہر حکمران کی جانب سے بلند و بانگ دعوے تو کئے جاتے ہیں کہ پاکستان کو نازک صورتحال سے نکال لیا جائے اور کبھی دن رات کوششوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو کبھی ’’ شبانہ روز‘‘ محنت کرنے کی وعید سنائی جاتی ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان آج تک اس نازک موڑ ؍ دور سے نکل نہیں سکا۔ البتہ یہ ضرور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے دعوے کرنے والوں کا نازک دور بڑی تیزی کے ساتھ دور خوشحالی میں بدل گیا ہے اور کل تک جن کی ذاتی معیشت کمزور ترین تھی، وہ انتہائی مستحکم ہو چکی اور اشرافیہ کی دوسری قسم ، جس کے متعلق بات کرنے پر، پر جلتے ہیں، اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد وہ بھی انتہائی متمول نظر آتے ہیں، خواہ وہ اعلی ترین عہدے پر بھی فائز نہ رہے ہو مگر شرط صرف اتنی ہے کہ ان کے تعلقات اعلی ترین عہدے پر رہنے والی شخصیت کے قریب ترین رہے ہوں اور وہ چیدہ چیدہ اسامیوں پر تعینات رہے ہوں، ایسی تقرریوں کے بعد، ان کی ذاتی معیشت بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کی منازل طے کرکے، عام پاکستانیوں کی نسبت کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے جبکہ عام پاکستانی کی حالت مزید دگر گوں او کسمپرسی سے دوچار ہو جاتی ہے ۔ دوسری طرف دیگر اقوام یا ریاستوں کی طرف نظر دوڑائیں ، تو انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ دوسری ریاستوں نے اتنی ترقی کیسے حاصل کر لی، ہیں تو وہ بھی ہم جیسے انسان ہی!! بے شک وہ بھی ہم جیسے انسان ہی ہیں، لیکن ان میں ’’ قومیت‘‘ کا عنصر و جذبہ ہم سے کہیں زیادہ ہے، اور وہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دیتے، ان کی نظر میں ریاست کی ترقی و خوشحالی میں ہی ان کی ترقی و خوشحالی ہے، جبکہ ریاست پاکستان میں یہ سوچ، یہ جذبہ اور یہ ترجیح برعکس ہے کہ یہاں بالعموم، خواص میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذاتی ترقی سب سے پہلے، ریاست یا عوام بھاڑ میں جائے۔ اس فلسفہ کو مد نظر رکھتے ہوئے، ریاستی مشینری کی اکثریت بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی، بلکہ اشرافیہ کی ایسی حرکتیں ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ اگر ریاستی مشینری، اشرافیہ کے لئے سقم تلاش کرکے، ان کی ذاتی معیشت چمکانے میں معاون ہوتی ہے تو کہیں نہ کہیں، ان کی ذاتی معیشت بھی ان کی ترجیح دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی مشینری کی اکثریت ، جسے اس ریاست کا نظام ، عوامی فلاح کے لئے بہتر سے بہترین کرنا چاہئے تھا، اس نظام کو چھیڑے بغیر، اسی نظام سے اپنے مفادات بھی کشید کرتے دکھائی دیتی ہے اور بدقسمتی دیکھئے کہ اعلیٰ عدالت کی جانب سے ریاستی مشینری کے دہری شہریت والے معاملے پر بھی اب خاموشی چھائی نظر آتی ہے، یعنی ریاستی مشینری کے کل پرزے، جو پاکستان کے نظام چلانے کے ذمہ دار ہیں، وہی اس پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں اور دہری شہریت حاصل کرکے بیٹھے ہیں، یعنی ڈوبتی کشتی سے سب سے پہلے نکلنے والوں نے اس کشتی کے پتوار سنبھال رکھے ہیں، کشتی کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ جاننے کے لئے کہ کب کشتی ڈوبے گی۔ ایسی ہی صورتحال اصل حکمرانوں کی بھی نظر آتی ہے گو کہ سرحدوں پر گزشتہ برس ان کی کارکردگی قابل ذکر اور ستائش رہی، مگر ماضی میں ایسی کارکردگی کا ذکر بالعموم ’’ مطالعہ پاکستان ‘‘ کے صفحات پر ہی پڑھنے کو ملا۔ بہرکیف آج اگر دفاعی صلاحیت قابل ذکر ہو چکی تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست نازک دور سے نکل چکی کہ آج بھی حکمرانوں کی جانب سے یہی الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ ہم اس وقت بھی نازک بلکہ ’’ نازک ترین دور‘‘ سے گزر رہے ہیںکہ ریاست کی مضبوطی و استحکام کا دوسرا عنصر ’’ معیشت‘‘، بقول خواجہ آصف، انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہے، لیکن جیسا پہلے لکھا کہ ان احباب کی ذاتی معیشت کو پر لگے ہیں، اور وہ دن بدن اوپر جارہی ہے۔
گو کہ پاکستان میں پیداواری لاگت، بوجوہ انتہائی بڑھ چکی ہے اور مقامی صنعتکار اور ہنر مند، اپنا سرمایہ یہاں سے لے جا چکا یا صنعت بند کرکے بیٹھ رہا تو دوسری طرف ہنرمندوں کے لئے کوئی مواقع ہی باقی نہ رہے کہ پاکستان کی حیثیت آج ایک پیداواری ملک کی بجائے ایک صارف ملک کی بن چکی ہے اور یہاں اشیائے ضروریہ دیگر ممالک سے منگوائی جاتی ہیں، جو بہرحال مقامی پیداوار سے کم قیمت پر میسر ہوتی ہیں البتہ اس مشق میں پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ ضرور اس تجارت میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کے باوجود ، یورپی یونین اور دیگر چند اہم ترین ممالک کی جانب سے پاکستانی صنعت کو زندہ رکھنے، حکمرانوں کو صحیح پالیسیاں بنانے اور عوام کی فلاح کے لئے ایک خصوصی حیثیت دے رکھی تھی، جس کے تحت پاکستان کو ان ممالک میں اپنی مصنوعات برآمد کرنے میں خصوصی رعایت دے رکھی تھی تا کہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں کسی حد تک مقابلہ کر سکیں۔ پاکستان ایک زمانے تک عالمی منڈی میں ٹیکسٹائل مصنوعات، آلات جراحی، پنکھا سازی، ظروف سازی کے علاوہ کئی ایک مصنوعات برآمد کیا کرتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اور حکمرانوں کی ناعاقبن اندیشانہ پالیسیوں کے باعث، پاکستان کا عالمی منڈیوں میں حصہ سکڑتا چلا گیا اور آج پاکستان کی چند ایک مصنوعات میں سرفہرست افرادی قوت باقی بچی ہے، جو پاکستان خلیجی ممالک کو برآمد کرکے، جوکثیر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے، اسے بیرون ممالک سے اشیائے ضروریہ کی درآمد پر واپس ترقی یافتہ ممالک کو دے کر، ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جاتا ہے جبکہ اپنے امور مملکت چلانے کے لئے، کبھی اس در تو کبھی اس در کشکول اٹھائے، قرضوں کی بھیک مانگتا نظر آتا ہے، جو اسے انتہائی سخت شرائط پر تو ملتی ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان اپنے رہے سہے اثاثوں سے بھی ہاتھ دھو رہا ہے۔ نتیجہ بدقسمتی سے وہی نکلنے کا شدید اندیشہ ہے کہ جب کشتی، نعوذ باللہ، خاکم بدہن، ڈوبتی نظر آئی تو یہی حکمران طبقہ و ریاستی مشینری، جو اپنے بندوبست پہلے سے کئے بیٹھے ہیں، عوام کو ڈوبتا چھوڑ کر، اپنے اپنے آبائی ممالک کو کوچ کر جائیں گے، کہ پاکستان کو صرف حکمرانی کے لئے آتے ہیں، جبکہ ان کا اپنا سارا سرمایہ بیرون ملک موجود ہے، دور حکمرانی میں مزید مال اکٹھا کرکے، اپنے کاروبار مزید بڑھا لیتے ہیں۔ بہرحال آتا ہوں جی ایس پی پلس سٹیٹس کی جانب، یورپی یونین کمیٹی، جو چند ماہ پہلے اس کا جائزہ لینے کے لئے پاکستان کے دورے پر تھی، نی اپنی 2023۔2025ء کی پاکستان سے متعلق رپورٹ یورپی یونین کو پیش کر دی ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی برمحل ہے کہ جب پاکستان جیسی ریاست کو ایسی کوئی رعایت ملتی ہے تو اس کے بدلے میں بھی کچھ مانگا بھی جاتا ہے، اور آپ سب جانتے ہیں کہ یورپی یونین جیسی باڈی کے لئے سب سے اہم چیز، انسانی حقوق ہی ٹھہرتے ہیں کہ وہ ان آسائشوں کے بدلے چاہتے ہیں کہ پاکستان جیسی ریاست، اپنے ملک میں انسانی حقوق کو بہتر بنائے، وہ خواہ اقلیتوں سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ کمیٹی بھی پاکستان میں ان تمام امور کا جائزہ لیتی رہی اور حکمرانوں کو آگاہ بھی کرتی رہی، لیکن حکمران طاقت کے زعم میں، اس آگاہی کو اہمیت دینے کو تیار نہیں تھی، حالانکہ میڈیا نے اس کے مضمرات سے بھی آگاہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی مگر بے سود۔
اب اس رپورٹ میں انسانی حقوق کی پامالیوں، سیاسی قیدیوں کو فئیر ٹرائل نہ ملنے بالخصوص سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے حوالے سے فئیر ٹرائل سے محرومی، اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت، ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق دی گئی امداد کے صحیح استعمال سے گریز، لاپتہ افراد کی گمشدگیاں، سویلین کو فوجی عدالتوں سے سزائوں کا معاملہ، عدلیہ کی آزادی پر قدغن بالخصوص26؍27ویں ترمیم سے پر کاٹنے کی واردات، میڈیا کے حوالے سے پیکا قانون اور پنجاب میں بنائے گئے قانون پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اور پاکستان کو اس GSP+سٹیٹس کی رعایت کے عوض مجوزہ شرائط پوری نہ کرنے پر اس سٹیٹس کو برقرار رکھنے پر دوبارہ غور کرنے یا ان تحفظات کو دور کرنے پر مشروط کیا گیا ہے، بالخصوص عمران خان اور سیاسی اسیران کی رہائی، دیکھتے ہیں ریاست کیا کرتی ہے ؟؟







