کیش لیس معیشت ناگزیر ہے

کیش لیس معیشت ناگزیر ہے
تحریر: رفیع صحرائی
پوری دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب ترقی یافتہ ممالک میں نقد رقم کے بجائے موبائل فون، بینک کارڈ، ڈیجیٹل والٹ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے خرید و فروخت معمول بن چکی ہے۔ ادائیگی کا یہ طریقہ محفوظ بھی ہے اور خریداری کے لیے ہر وقت کرنسی نوٹ جیب میں رکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ پاکستان بھی اس سفر کا آغاز کر چکا ہے اور حالیہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس تبدیلی کی رفتار کا واضح ثبوت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی ایک کیش لیس معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے اور اگر ہاں تو اس کے فوائد کیا ہیں؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیش لیس معیشت یا Cashless Economyسے مراد ایسی معاشی سرگرمی ہے جس میں لین دین نقد نوٹوں کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع سے کیا جائے۔ اس میں موبائل بینکنگ ایپس، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز، ڈیجیٹل والٹس، بینک ٹرانسفر، آن لائن ادائیگیاں، کیو آر کوڈ اور راست نظام جیسے ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ خریدار اپنی جیب میں نقد رقم رکھنے کے بجائے موبائل فون کے ذریعے چند سیکنڈ میں ادائیگی کر دیتا ہے جبکہ رقم براہ راست فروخت کنندہ کے بینک اکائونٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں اس حوالے سے پیش رفت کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی وصول کرنے والے تاجروں اور دکانداروں کی تعداد میں 300فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر 20لاکھ 3ہزار تک پہنچ گئی۔ اسی طرح موبائل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 9کروڑ 50لاکھ سے بڑھ کر 13کروڑ 70لاکھ ہو چکی ہے جبکہ جولائی 2025ء سے جون 2026ء تک 9.11ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام نئی ٹیکنالوجی کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیش لیس نظام کا سب سے بڑا فائدہ شفافیت ہے۔ جب ہر لین دین کا ریکارڈ ڈیجیٹل صورت میں موجود ہو تو بدعنوانی، رشوت، ٹیکس چوری اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نادرا کی 99فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور وہاں نقد ادائیگیوں کا تناسب 71فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔ اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستحقین کو رقوم براہ راست ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہیں جس سے نہ صرف شفافیت بڑھی بلکہ مستحق افراد کو بروقت اور آسان ادائیگی ممکن ہوئی۔
کیش لیس معیشت کا دوسرا بڑا فائدہ دستاویزی معیشت کا فروغ ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ کروڑوں روپے کا کاروبار روزانہ ہوتا ہے لیکن اس کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہی کہ حکومت کو ٹیکس وصول نہیں ہو پاتا اور ٹیکس کا بوجھ انہی محدود افراد اور اداروں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں۔
یہاں تاجروں اور دکانداروں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محلے کی چھوٹی کریانہ دکان سے لے کر بڑے شاپنگ مال اور ہول سیل مارکیٹ تک ہر تاجر کیش لیس ادائیگی وصول کرنے کا نظام اختیار کرے۔ ہر دکان پر کیو آر کوڈ نمایاں طور پر آویزاں ہو، موبائل بینکنگ اور راست نظام کے ذریعے ادائیگی وصول کی جائے اور ہر خریداری پر صارف کو پکی رسید جاری کی جائے۔
یہ رسید صرف خریدار کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ قومی معیشت کی شفافیت کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہر فروخت شدہ چیز کا اندراج کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل ایپ میں کیا جائے اور یہ ریکارڈ براہ راست ایف بی آر کے نظام سے منسلک ہو تو صارفین سے وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس مکمل شفافیت کے ساتھ قومی خزانے میں جمع ہو سکے گا۔ اس سے ایک طرف ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی جبکہ دوسری طرف حکومت کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔
دنیا کے کئی ممالک میں یہی نظام کامیابی سے رائج ہے۔ دکاندار جب کوئی چیز فروخت کرتا ہے تو اس کی تفصیل خودکار طریقے سے مرکزی ٹیکس نظام میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً نہ دکاندار کو الگ حساب کتاب کی پریشانی ہوتی ہے اور نہ حکومت کو محصولات جمع کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ پاکستان بھی اگر اس سمت میں پیش رفت کرتا ہے تو ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا، ریونیو بڑھے گا اور بجٹ خسارے میں کمی آئے گی۔
بعض لوگ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کیش لیس معیشت میں سائبر سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں یا دیہی علاقوں کے لوگ اس نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ یہ خدشات اپنی جگہ درست ہیں، تاہم ان کا حل بھی موجود ہے۔ مضبوط سائبر سکیورٹی، عوامی آگاہی، سادہ موبائل ایپس اور انٹرنیٹ کی بہتر سہولیات کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا 92فیصد حصہ پہلے ہی ڈیجیٹل ذرائع سے وصول کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ شرح سو فیصد تک پہنچ جائے اور ملکی کاروبار بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے جڑ جائے تو پاکستان کی مالیاتی شفافیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اس عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔
پاکستان کو آج جس معاشی استحکام، شفافیت اور دستاویزی نظام کی ضرورت ہے، اس کے حصول کا ایک مثر راستہ کیش لیس معیشت ہے۔ یہ صرف ادائیگی کا نیا طریقہ نہیں بلکہ ایک نئی معاشی سوچ، جدید طرز حکمرانی اور قومی دیانت داری کا تصور ہے۔ اگر تاجر پکی رسید جاری کریں، خرید و فروخت کا مکمل ریکارڈ محفوظ کریں اور ہر لین دین کو ایف بی آر کے نظام سے جوڑ دیا جائے تو شاید وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی دنیا کی جدید، شفاف اور دستاویزی معیشتوں کی صف میں کھڑا نظر آئے گا۔
یاد رکھیے! کسی بھی قوم کی ترقی صرف بڑی صنعتوں یا بلند و بالا عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی دیکھی جاتی ہے کہ اس کی معیشت کتنی شفاف، منظم اور دستاویزی ہے۔ پاکستان کے لیے اب سوال یہ نہیں کہ کیش لیس معیشت آئے گی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کو کتنی جلدی اور کتنی سنجیدگی سے قبول کرتے ہیں۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کو ٹیکس چوری، غیر دستاویزی کاروبار اور سیاہ معیشت سے نجات دلانی ہے تو کیش لیس ادائیگی اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ کو قومی عادت بنانا ہو گا۔






