Column

حکومت کا بروقت اور موثر اقدام

اداریہ۔۔

حکومت کا بروقت اور موثر اقدام

کسی بھی ملک میں پٹرولیم مصنوعات محض ایک تجارتی شے نہیں ہوتیں بلکہ معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور روزمرہ زندگی کا قریباً ہر شعبہ ایندھن سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں خلل، مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی کی خبریں سامنے آتی ہیں تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشی نظام متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مصنوعی قلت پیدا کرنی والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان ایک ضروری قدم ضرور ہے، لیکن اصل سوال اس اعلان پر موثر عمل درآمد کا ہے۔ پاکستان ماضی میں کئی مرتبہ ایسے حالات دیکھ چکا ہے جب پٹرولیم مصنوعات کی قلت نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ لمبی قطاریں، بند پٹرول پمپ، نقل و حمل کا تعطل، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اور مصنوعی مہنگائی نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر مواقع پر قلت حقیقی کم اور مصنوعی زیادہ ثابت ہوئی۔ بعض عناصر نے ناجائز منافع کے لالچ میں ذخیرہ اندوزی کی، سپلائی روک لی یا عوام میں خوف پیدا کر کے منافع کمانے کی کوشش کی۔ ایسے رویے نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ قومی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق سپلائی کو بھی یقینی بنایا جا چکا ہے۔ اگر واقعی صورت حال یہی ہے تو پھر کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت ناقابلِ قبول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نگرانی، انتظامی کمزوری یا ناجائز منافع خوری کا ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ اداروں کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور سپلائی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔ مصنوعی قلت کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کو پہنچتا ہے۔ ایک مزدور، رکشا ڈرائیور، ٹیکسی چلانے والا یا موٹر سائیکل پر روزگار کمانے والا شخص اگر گھنٹوں پٹرول کے انتظار میں کھڑا رہے تو اس کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔ یہی صورت حال ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کرایوں میں اضافے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید مہنگائی کا باعث بنتی ہے۔ یوں چند افراد کا ناجائز منافع لاکھوں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ حکومت نے صوبائی انتظامیہ کے تعاون سے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ درست سمت میں ایک قدم ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کارروائیاں نمائشی نہ ہوں بلکہ قانون کی عمل داری ہر سطح پر یکساں نظر آئے۔ اگر چند دن کی مہم کے بعد نگرانی کمزور پڑ جائے تو ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سپلائی چین کی مسلسل نگرانی، پٹرول پمپوں کا باقاعدہ معائنہ، ذخائر کا شفاف ریکارڈ اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کا موثر نظام قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ افواہوں کی بنیاد پر غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ قلت کی خبروں کے بعد لوگ ضرورت سے زیادہ ایندھن خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے وقتی دبا پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر حکومتی معلومات شفاف اور بروقت ہوں تو ایسی افواہوں کی گنجائش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ معاشی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خطے میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور سپلائی چین کے خدشات کے پیش نظر حکومت کو ہنگامی منصوبہ بندی ہر وقت تیار رکھنی چاہیے۔ تاہم ان بیرونی عوامل کا فائدہ اٹھا کر مصنوعی قلت پیدا کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ توانائی کے موثر استعمال اور کفایت شعاری کو قومی رویہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ غیر ضروری ایندھن کے استعمال میں کمی، توانائی کی بچت اور متبادل ذرائع پر توجہ مستقبل میں درآمدی دبائو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، مگر یہ تمام اقدامات اس وقت موثر ہوں گے جب مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی شفاف، مسلسل اور بلا تعطل رہے۔ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ قومی معیشت کا اعتماد صرف بڑے معاشی منصوبوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ ضروریات کی بلا رکاوٹ دستیابی سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یقین ہو کہ حکومت ہر حال میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تو نہ صرف بے یقینی ختم ہوگی بلکہ بازار میں اعتماد بھی بحال ہوگا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ ایسے عناصر جو ذاتی مفاد کے لیے عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وقتی اقدامات کے بجائے ایسا مثر نظام تشکیل دے جو ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کا مستقل سدباب کر سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کو ریلیف، معیشت کو استحکام اور ریاست کو اعتماد فراہم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شذرہ۔۔

مودی اور بھارتی معیشت کے بڑھتے چیلنجز

بھارت گزشتہ چند برسوں سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حالیہ بین الاقوامی اور علاقائی حالات نے اس دعوے کو کئی نئے امتحانات سے دوچار کر دیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی، عالمی تجارتی کشیدگی اور سفارتی دبائو نے مودی حکومت کی معاشی حکمت عملی پر متعدد سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر سخت تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف سے متعلق تجاویز سامنے آئی ہیں، جن سے بھارت کی توانائی کی درآمدات اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگر ایسی تجاویز عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر پہلے ہی مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری، صنعتی شعبے کی سست روی اور عام آدمی کی قوتِ خرید میں کمی جیسے مسائل نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ عالمی معاشی حالات اور بین الاقوامی تنازعات نے تمام بڑی معیشتوں کو متاثر کیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ داخلی پالیسیوں اور بروقت فیصلوں کی کمی نے ان چیلنجز کو مزید گہرا کیا۔ سفارتی محاذ پر بھی بھارت کو متعدد پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اتحاد اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نئی دہلی کے لیے خارجہ پالیسی کے کئی امتحان پیدا کر دئیے ہیں۔ ایک بڑی معیشت کے طور پر بھارت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی اقتصادی اور سفارتی حکمت عملی میں ایسا توازن پیدا کرے جو قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ عالمی شراکت داروں کے اعتماد کو بھی برقرار رکھ سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی صرف بلند دعوں سے نہیں بلکہ مضبوط پالیسیوں، شفاف حکمرانی، موثر سفارت کاری اور عوامی اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت اصلاحات نافذ نہ کرے تو ترقی کے دعوے عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتے۔ بھارت کے لیے بھی یہی وقت ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق اپنی معاشی اور سفارتی حکمت عملی کا ازسرِنو جائزہ لے تاکہ مستقبل میں مزید مشکلات سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button