Column

انسان ہی انسان کا خاموش قاتل

انسان ہی انسان کا خاموش قاتل
تحریر: سید پرویز علی
انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کی جان کا تحفظ ہر معاشرے کی اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، مگر افسوس کہ آج کا انسان ہی اپنے مفادات، لالچ اور ناجائز منافع خوری کی خاطر دوسرے انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ قتل کسی ہتھیار، گولی یا دھماکے سے نہیں بلکہ ملاوٹ، جعلسازی اور غیر معیاری اشیائے خور و نوش کے ذریعے خاموشی سے کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز ہزاروں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ کئی لوگ وقت سے پہلے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
آج بازاروں میں فروخت ہونے والا جعلی دودھ، غیر معیاری اور مضرِ صحت کوکنگ آئل، مردہ جانوروں کا گوشت، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات، کیمیکلز سے تیار کی جانے والی مٹھائیاں، ناقص مشروبات، آلودہ آئس کریم، غیر معیاری چائے، جوسز اور سڑکوں پر کھلے عام فروخت ہونے والی غیر صحت بخش غذائیں عوام کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ ان اشیاء کی تیاری میں نہ صرف ناقص اور ممنوعہ اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ صفائی کے بنیادی اصولوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ غذائیں زہر سے کم ثابت نہیں ہوتیں۔
خاص طور پر بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان ان مضرِ صحت اشیاء کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ معدے کے امراض، جگر اور گردوں کی خرابیاں، دل کے امراض، شوگر، کینسر، ہیپاٹائٹس، فوڈ پوائزننگ اور دیگر پیچیدہ بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان بیماریوں کا علاج غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی باہر ہوتا جا رہا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ فوڈ اتھارٹیز، ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کریں، باقاعدگی سے مارکیٹوں، ہوٹلوں، بیکریوں، دودھ فروشوں، ریستورانوں اور کھانے پینے کے دیگر مراکز کی جانچ پڑتال کریں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں تاکہ عوام کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سستی اور غیر معیاری اشیاء خریدنے سے گریز کریں، صفائی کا خیال رکھنے والی دکانوں سے خریداری کریں، خوراک کے معیار پر سمجھوتہ نہ کریں اور جہاں کہیں ملاوٹ یا غیر معیاری اشیاء کی فروخت نظر آئے، متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع دیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ایک صحت مند قوم ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ملاوٹ، جعلسازی اور غیر معیاری خوراک کے خلاف مثر اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے، تاجر برادری اور عوام سب مل کر اس خاموش قتلِ عام کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہی وقت کی اہم ضرورت اور ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button