Column

تعلیمی ایمرجنسی یا قومی غفلت؟

تعلیمی ایمرجنسی یا قومی غفلت؟
تحریر: رفیع صحرائی
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے قدرتی وسائل، بلند و بالا عمارتوں یا معاشی اشاریوں میں نہیں بلکہ اس کے تعلیمی نظام اور انسانی سرمائے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ دنیا کی وہ تمام اقوام جو آج ترقی، خوشحالی اور استحکام کی علامت سمجھی جاتی ہیں، انہوں نے اپنی ترجیحات میں تعلیم کو ہمیشہ اولین مقام دیا۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں تعلیم کو آئینی حق تو قرار دیا گیا مگر اسے قومی ترجیح بنانے میں مسلسل ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا۔
حال ہی میں سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے تیار کی گئی جامع تقابلی پالیسی جائزہ رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر ملک کے تعلیمی بحران کی سنگینی کو آشکار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے دہائیوں سے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ناکافی فنڈنگ، کمزور طرز حکمرانی، غیر مربوط نظام اور ناقص عملدرآمد اس بحران کی بنیادی وجوہات قرار دی گئی ہیں۔
صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد قریباً دس کروڑ کے قریب ہے، مگر ان میں سے قریباً پچیس فیصد یعنی ہر چار میں سے ایک بچہ اسکول سے باہر ہے۔ اگر پانچ سال سے سولہ سال یعنی سکول جانے کے قابل بچوں کی شرح کے حساب سے دیکھیں تو یہ تعداد ہر تین میں سے ایک بچہ بنے گی۔ یہ محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی یافتہ معاشرہ نہیں بن سکتی جب اس کا ہر تیسرا یا چوتھا بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہو۔
آئین کے آرٹیکل 25۔ اے کے تحت ریاست پانچ سے سولہ سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، مگر افسوس کہ آئینی ضمانت اور زمینی حقائق کے درمیان ایک وسیع خلیج موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والا ملک بن چکا ہے۔
دو سال قبل وفاقی حکومت نے بڑے زور و شور سے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کو قومی سطح پر سراہا بھی گیا کیونکہ کسی بھی مسئلے پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا مقصد اس سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنا ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ اس اعلان کے بعد نہ کوئی غیر معمولی بجٹ مختص کیا گیا، نہ اساتذہ کی بڑے پیمانے پر بھرتیاں ہوئیں، نہ انفراسٹرکچر کی تعمیر کا کوئی انقلابی پروگرام شروع کیا گیا اور نہ ہی صوبوں کی کارکردگی جانچنے کا کوئی موثر نظام وضع کیا گیا۔ بلکہ اس کے برعکس انصاف آفٹرنون اسکولز کو ہی سرے سے ختم کر دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی ایک عملی پروگرام کے بجائے محض ایک سیاسی نعرہ ثابت ہوئی۔
سب سے زیادہ تشویشناک صورت حال پنجاب میں ہے جہاں قریباً ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق چونسٹھ لاکھ بچوں نے کبھی اسکول کا منہ ہی نہیں دیکھا جبکہ اکتیس لاکھ سے زائد بچے تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف داخلوں کا نہیں بلکہ بچوں کو نظام تعلیم میں برقرار رکھنے کا بھی ہے۔ اسکولوں میں آنے کے بعد اتنی بڑی تعداد کا اسکول چھوڑ جانا تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
پنجاب میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی پالیسی پر تیزی سی عمل کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم کی ترجیحات پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ ایک طرف سرکاری اسکول آئوٹ سورس کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف سرکاری اساتذہ کی مستقل بھرتی گزشتہ نو برس سے تقریباً بند ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ کی کم از کم تعلیمی قابلیت عموماً ایم اے اور بی ایڈ ہوتی ہے جبکہ ان میں بڑی تعداد ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز پر مشتمل ہے۔ اس کے برعکس آٹ سورس یا کم لاگت نجی اسکولوں میں اکثر میٹرک یا ایف اے پاس غیر تربیت یافتہ اساتذہ کو انتہائی کم مشاہرے پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر استاد کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی قابلیت اور معاشی تحفظ کو نظرانداز کر دیا جائے تو پھر معیاری تعلیم کیسے ممکن ہوگی؟
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم محض عمارتوں، میز کرسیوں یا انرولمنٹ کے اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ، باصلاحیت اور باوقار استاد ہی تعلیمی نظام کی اصل روح ہوتا ہے۔ دنیا کے کامیاب تعلیمی نظاموں کی بنیاد استاد کے مقام اور معیار پر استوار ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں اساتذہ کو اکثر انتظامی دبائو، غیر تدریسی ذمہ داریوں اور تادیبی کارروائیوں کے ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے۔
تعلیم کے بحران کی ایک بڑی وجہ وسائل کی کمی بھی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنی مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم چار سے چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے، جبکہ پاکستان میں تعلیمی اخراجات مسلسل کم ہوتے ہوئے قریباً ایک فیصد کے قریب رہ گئے ہیں۔ یہ شرح جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے بھی کم ہے۔ جب تک تعلیم کو دفاع، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں کی طرح قومی ترجیح نہیں بنایا جائے گا، اس بحران سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔
غربت، مہنگائی، بچوں سے مشقت، تیز رفتار آبادی میں اضافہ، دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی کمی، بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سماجی رکاوٹیں اور ناقص تعلیمی گورننس بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ بلوچستان میں فاصلوں اور غیر فعال اسکولوں کا مسئلہ ہے، خیبرپختونخوا میں جغرافیائی دشواریاں اور بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال رکاوٹ بنتی ہے جبکہ سندھ موسمیاتی آفات اور ثانوی تعلیم کے بحران سے دوچار ہے۔ اس لیے ہر صوبے کے لیے الگ حکمت عملی اور الگ ترجیحات ناگزیر ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کو کاغذی اعلانات سے نکال کر عملی میدان میں لایا جائے۔ تعلیم کا بجٹ کم از کم چار فیصد تک بڑھایا جائے، خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو یقینی بنایا جائے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی باقاعدہ ٹریکنگ کا نظام بنایا جائے اور ہر ضلع کے لیے الگ اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور غریب خاندانوں کے لیے مشروط مالی معاونت کے پروگرام بھی ناگزیر ہیں تاکہ والدین بچوں کو محنت مزدوری کے بجائے اسکول بھیجنے کی طرف راغب ہوں۔
تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کو اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا، کیونکہ آج جو بچہ اسکول سے باہر ہے، کل وہ یا تو بے روزگاری، غربت اور جرائم کے دائرے میں داخل ہوگا یا پھر ریاست کے لیے معاشی بوجھ بن جائے گا۔ ایک ناخواندہ نسل کسی بھی ملک کے لیے ٹائم بم سے کم نہیں ہوتی۔
پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ آج ہماری کلاس رومز میں ہونا ہے، نہ کہ کل کے کسی منصوبے میں۔ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کو قلم، کتاب اور استاد نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب قوم کا مستقبل اسکولوں سے باہر کھڑا تھا تو ریاست، حکومتیں اور پالیسی ساز آخر کہاں تھے؟۔

جواب دیں

Back to top button