ہاں خریدا ہے جہاز

ہاں خریدا ہے جہاز
میری بات
روہیل اکبر
پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ پوری تقریر پر بھاری پڑ جاتا ہے، کچھ جملے اخبارات کی سرخی بنتے ہیں، کچھ ٹی وی ٹاک شوز کی زینت بنتے ہیں، اور کچھ عوام کی روزمرہ گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ’’ ہاں خریدا ہے جہاز!‘‘ بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں بحث، طنز اور مزاح کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا، مجھے تو یوں لگا جیسے ملک کے تمام مسائل اچانک رخصت ہو گئے ہوں۔ نہ مہنگائی کا ذکر رہا، نہ بے روزگاری کا، نہ بجلی کے بلوں کا، نہ ٹیکسوں کا، ہر طرف صرف ایک ہی سوال تھا ’’ ہاں جہاز خرید لیا؟‘‘۔
پاکستانی قوم بھی کمال کی قوم ہے۔ دکھ میں بھی مسکرانے کا ہنر جانتی ہے۔ سوشل میڈیا کھولا تو ایسا لگا جیسے ہر شخص کامیڈین بن گیا ہو اور پاکستان کے ہر چائے خانے، ہر دفتر، ہر رکشے اور ہر سوشل میڈیا گروپ کو ایک نیا موضوع مل گیا ہو، عوام نے بھی دل کھول کر اس جملے کا خیر مقدم کیا کسی نے کہا ’’ جہاز خریدا ہے تو شاید اب ٹریفک جام سے نجات مل جائے‘‘۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اگر جہاز آ ہی گیا ہے تو محلے کے بچوں کو بھی ایک چکر لگوا دیا جائے، ہمارے ملک میں تو آج بھی عام آدمی موٹر سائیکل کی قسط پوری نہیں کر پاتا، لیکن سیاسی بیانات ایسے آتے ہیں جیسے ہر دوسرے گھر کے باہر ایک طیارہ کھڑا ہو، غریب آدمی بجلی کا بل دیکھ کر بے ہوش ہونے کے قریب ہوتا ہے گیس کا بل ہاتھ میں آتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، آٹے، چینی اور دال کی قیمتیں سن کر جیب خود ہی خالی محسوس ہونے لگتی ہے، مگر سیاست کی دنیا میں گفتگو کا معیار کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ یہی تو ہماری سیاست کا حسن بھی ہے اور المیہ بھی یہاں اصل مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ایک جملہ پوری سیاست پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، انصاف اور امن جیسے موضوعات انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ قوم ایک بیان کے معنی اور اس کے پس منظر پر بحث کرتی رہتی ہے۔
ویسے اگر جہاز خریدنا کوئی اتنی عام بات ہے تو پھر عوام کو بھی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بجلی کے بل کا جواب صرف ایک جملے میں دیں ’’ ہاں نہیں بھر سکتے!‘‘، شاید اس کے بعد واپڈا والے بھی مسکرا کر کہیں ’’ کوئی بات نہیں!‘‘۔ ہمارے ہاں عجیب رواج ہے عوام سے کہا جاتا ہے کہ صبر کریں، قربانی دیں، مشکل وقت ہے، کفایت شعاری اپنائیں لیکن جب طاقتور طبقے کی بات آتی ہے تو انداز بدل جاتا ہے تب وضاحتیں بھی اعتماد سے دی جاتی ہیں اور فیصلے بھی۔ اصل سوال جہاز کا نہیں ترجیحات کا ہے قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ اگر وسائل موجود ہیں تو ان پر پہلا حق کس کا ہے؟۔ ایک نئی سواری کا یا ایک نئے سکول کا؟۔ ایک نئے جہاز کا یا ایک ایسے ہسپتال کا جہاں مریض کو دوا خریدنے کے لیے اپنا موبائل نہ بیچنا پڑے؟۔ سیاست میں بیانات آتے رہیں گے، وضاحتیں بھی ہوتی رہیں گی، مگر عوام کے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ گردش کرتا رہے گا آخر وہ دن کب آئے گا جب کوئی رہنما پورے اعتماد سے یہ کہے ہاں مہنگائی کم کی ہے، ہاں نوجوانوں کو روزگار دیا ہے، ہاں سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنایا ہے۔ اس دن شاید قوم بھی تالیاں بجائے گی، سوشل میڈیا پر لطیفے کم ہوں گے اور ’’ جہاز‘‘ نہیں بلکہ عوام کی امیدیں پرواز کریں گی۔
لیکن بدقسمی سے ہمارے ہاں سوچ کا فرق ہے، ایک طرف وہ پاکستان ہے، جہاں لاکھوں لوگ مہینے کے آخری دس دن ادھار پر گزارتے ہیں، جہاں والدین بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے زیور بیچ دیتے ہیں، جہاں مریض سرکاری ہسپتالوں میں دوائی نہ ملنے پر پریشان ہوتے ہیں، جہاں نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک ایسا پاکستان بھی ہے، جہاں بعض اوقات ایسے بیانات دٗیے جاتے ہیں جن سے لگتا ہے جیسے معاشی مشکلات صرف عام آدمی کے لیے ہیں، اگر کسی نے واقعی جہاز خریدا ہے اور وہ قانونی طور پر خریدا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اعتراض اس احساس پر ہے جو ایسے بیانات عوام میں پیدا کرتے ہیں، سیاست دان جب عوامی نمائندہ بنتا ہے تو اس کے ہر لفظ کی قیمت ہوتی ہے، اس کے لہجے میں بھی عوام کے دکھوں کی جھلک ہونی چاہیے، اور دوسری طرف ہمارے معاشرے کی خوبصورتی بھی ہے کہ ہم روتے بھی ہیں تو ہنس کر اور ہنستے ہیں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
عوام کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر بجٹ کے بعد مزید کفایت شعاری سیکھتے ہیں، پہلے گوشت ہفتے میں تین بار پکتا تھا پھر ایک بار رہ گیا، اب بعض گھروں میں عید کا انتظار ہوتا ہے، پہلے بچے ہر سال نئے کپڑے لیتے تھے، اب بڑے بہن بھائیوں کے کپڑے چھوٹوں کو منتقل ہوتے ہیں، پہلے خاندان سیاحت کا پروگرام بناتے تھے، اب بازار جانے سے پہلے بھی حساب لگاتے ہیں کہ جیب اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بااثر شخصیت پورے اعتماد سے کہے ’’ ہاں خریدا ہے جہاز!‘‘، تو پھر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاست کا ایک عجیب مزاج ہے، یہاں الفاظ کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں، ایک بیان کئی مہینوں کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے، اور ایک جملہ پوری حکومت کی ترجمانی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اسی لیے عوامی عہدے پر بیٹھے لوگوں کو صرف فیصلوں ہی نہیں، بلکہ اپنے الفاظ کی بھی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کو اپنی ذاتی کامیابی یا خریداری پر شرمندہ ہونا چاہیے، لیکن جب ملک کا بڑا حصہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے نبرد آزما ہو تو عوامی احساسات کا خیال رکھنا بھی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ قوم کو جہازوں سے کوئی دشمنی نہیں، قوم تو صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کے بچوں کا مستقبل بھی پرواز کرے۔ کاش کوئی لمحہ ایسا بھی آئے جس دن کوئی حکمران پورے اعتماد سے یہ کہے گا’’ ہاں ہم نے غربت کم کی ہے، ہاں ہم نے عوام کی زندگی آسان بنائی ہے، ہاں ہم نے ریاست کو عوام کے لیے آسان بنا دیا ہے‘‘۔
اس دن شاید کسی کو یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کہ ’’ جہاز خریدا ہے یا نہیں؟‘‘، کیونکہ اس وقت عوام خود کہیں گے کہ اصل پرواز تو ملک نے کی ہے، کسی ایک شخص نے نہیں۔






