ColumnRoshan Lal

بھارت کیوں پاکستان کا پانی ہڑپ کرنا چاہتا ہے ؟

بھارت کیوں پاکستان کا پانی ہڑپ کرنا چاہتا ہے ؟
روشن لعل
پہلگام میں دہشت گردی کا واقعہ 22اپریل 2025ء کو ہوا تھا۔ اس واقعہ کے فوراً بعدبھارت نے پہلے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا اور پھر پندرہ دن بعد 7مئی 2025ء کو پاکستان پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کردیا ۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے اکثر مبصروں کے تبصروں کا موضوع سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور کشمیر کا تنازع تھا لیکن بھارتی حملے کے بعد تجزیہ نگاروں کی توجہ جنگ کے نتیجے پر مبذول ہو گئی۔ جنگ کا نتیجہ تبصروں کا موضوع بننے کے بعد اس معاملہ پر نہ ہونے کے برابر توجہ دی گئی کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے بھارت کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا پاکستانی لیڈر ہو جس نے تسلسل کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ، اس بات کا برملا اظہار کیا کہ بھارت ، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنی کا اختیار نہیں رکھتا اور پاکستان اپنے پانی کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری حکومت کے حمایتی ضرور ہیں لیکن ان کے پاس نہ کوئی حکومتی عہدہ اور نہ ہی کوئی انتظامی ذمہ داری ہے۔ بلاول کی بجائے ہمارے وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کی یہ زیادہ ذمہ داری تھی کہ وہ نہ صرف سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے والی بھارتی حکومت کے آئندہ ممکنہ اقدامات پر نظر رکھتے بلکہ دنیا کو یہ باور بھی کراتے کہ پاکستان کو اس کے پانی کے تسلیم شدہ حق سے محروم کرنے کا اعلان کرنے والے بھارت نے اصل میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان کے پانی کے حق کے تحفظ کے لیے کوئی متاثر کن سرگرمی دکھانے کی بجائے ہماری حکومت اور مقتدرہ، اٹھارویں ترمیم ختم کرانے، اٹھائیسویں ترمیم منظور کرانے ، پاکستان کو چھوٹے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرانے اور این ایف ایوارڈ میں ردوبدل کرانے کے لیے کوششیں کرنے میں مصروف رہی۔ جب پاکستان میں مذکورہ کوششیں ہو رہی تھیں اس وقت بھارتی حکومت ایک ایسی سرنگ بنانے کا منصوبہ تیار کر رہی تھی جس کے ذریعے وہ ہمارے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس میں ڈال کر اپنے استعمال میں لا سکے۔
بھارت نے پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے بعد خود ہی مدعی، منصف اور جج بن کر سندھ طاس معاہدہ معطل کرتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے ساتھ کیا گیا پانی کی تقسیم کا معاہدہ معطل کرنے کا اس کا اقدام بلاجواز نہیں ہے۔ ایسا کرتے ہوئے بھارت نے جو تصویر پیش کی اس کا دوسرا رخ دنیا کو دکھانا ہماری ذمہ داری تھی مگر افسوس کہ ہماری حکومت یہ کام بروقت کرنے میں ناکام رہی۔
راقم کی تحریروں میں قبل ازیں بیان کردہ یہ بات پھر دہرائی جارہی ہے کہ بظاہر ، بھارت بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ملک ہے لیکن اس کا 65فیصد سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا انحصار کوئلے جیسے اس ماحول دشمن ذریعے پر ہے ، جس سے وہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت 2030ء تک دستبردار ہونے کا اقرار کر چکا ہے۔ کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کو گرین انرجی کے متبادل ذرائع پر منتقل کرنے کے لیے بھارت کو زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بھارت نے آنے والے وقتوں میں صنعتی ترقی کے جو اہداف مقرر کر رکھے ہیں ان کے مطابق اسے آئندہ تقریباً سات برسوں کے دوران ستر فیصد تک زیادہ توانائی کی ضرورت ہوگی۔ فی الوقت بھارت کی قریبا 470گیگا واٹ بجلی کی کل پیداوار میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ قریبا65فیصد، پن بجلی کا حصہ 21فیصد، سولر بجلی کا 7فیصد، ہوائی ٹربائین کا 4فیصد اور نیوکلیئر بجلی کا 3فیصد ہے۔ گوکہ فی الوقت بھارت میں توانائی کے حصول کا بڑا انحصار ماحول دشمن کوئلہ جلا کر حاصل کی جانے والی بجلی پر ہے لیکن بھارت میں تیزی سے ایسے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں کوئلے کی بجائے سورج اور پانی جیسے ماحول دوست ذرائع سے بجلی حاصل کی جائے گی۔ اس سلسلے میں بھارت نے پہلی ترجیح کی طور پر سولر منصوبوں پر کام کیا، ان سولر منصوبوں پر تیزی سے جاری کام کی بدولت بھارت میں آنے والے وقت میں سولر سے کل بجلی کا 22فیصد حصہ پیدا ہونے لگے گا۔
سولر کے بعد بھارت کی دوسری ترجیح پن بجلی کی پیداوار ہے۔ بھارت کی سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی کے مطابق اس کے زیرانتظام علاقوں میں 133گیگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان 133گیگا واٹ میں سے قریبا 40فیصد بجلی پہلے سے جاری منصوبوں سے حاصل کی جارہی ہے۔ بھارت کے سات شمال مشرقی صوبوں میں چین سے بھارت اور بنگلہ دیش کی طرف بہنے والے برہم پترا دریا کے پانی سے 55929میگا واٹ بجلی حاصل کرنے کے لیے مختلف مقامات کی نشاندہی کی گئی ہی مگر ابھی تک وہاں کی کل ممکنہ استعداد میں سے صرف تین فیصد بجلی حاصل کی جا سکی ہے۔ بہت زیادہ استعداد کے باوجود صرف تین فیصد بجلی حاصل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چین برہم پترا دریا کے پانی کا رخ موڑ کر اسے اپنے استعمال میں لانے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے ۔ چین کے اس ارادہ کو دیکھتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاروں کی اکثریت بجلی کی پیداوار کے لیے برہما پترا کے پانی پر انحصار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بھارت کے صوبے ہماچل پردیش میں 18305میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں سے 56.16فیصد بجلی، اتر کھنڈ کی 13481میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں سے 29.93فیصد اور کشمیر کی 12264میگاواٹ استعداد میں سے 27.4فیصد پن بجلی پہلے سے حاصل کی جارہی ہے۔
بھارت کو ملک کی 65فیصد ماحول دشمن تھرمل بجلی کی پیداوار کو سولر اور پن بجلی پر منتقل کرنے کے لیے 2032 ء تک 300بلین ڈالر بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے دریائے برہم پترا کے پانی پر پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری سے انکار کے بعد بھارت نے ان کے سامنے پاکستان کے حصے میں آنے والا پانی پیش کرنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا۔ بھارت نے جب سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ، اس وقت پاکستان میں بعض لوگوں نے اسے گیدڑ بھبکی کا نام دیا۔ بھارتی حکومت کا یہ اعلان اب گیدڑ بھبکی نہیں رہا کیونکہ وہاں دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس میں منتقل کرنے ، اور 4000میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کے لیے 2352کروڑ، بھارتی روپے کی لاگت سے تقریباً نو کلو میٹر لمبی سرنگ بنانے کے منصوبے پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی مخالفت میں پاکستان نے اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان صرف اس طرح کے سیمینار منعقد کرنے پر اکتفا کرے گا یا اس نے بھارت کو پاکستانیوں کا پانی ہڑپ کرنے سے روکنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ پن بجلی پیدا کرنے کے علاوہ بھارت جس دوسرے سرمایہ دارانہ منصوبے کے لیے پاکستان کا پانی ہڑپ کرنا چاہتا ہے اس کا ذکر آئندہ کسی تحریر میں کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button