ColumnQadir Khan

خلیج فارس کی لہریں، جنگ کے بعد کی خاموش کشمکش

خلیج فارس کی لہریں، جنگ کے بعد کی خاموش کشمکش
تحریر: قادر خان یوسف زئی
بحیرہ عرب کے کنارے کھڑا ایک بوڑھا ماہی گیر جب اپنی کشتی کا انجن اسٹارٹ کرتا ہے تو اس کی نظریں افق پر نہیں بلکہ اپنے موبائل فون کی اسکرین پر جمی رہتی ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آج آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق ہے یا نہیں، کیونکہ اسی پر اس کے خاندان کے چولہے کی آگ کا انحصار ہے۔ اس کا بیٹا بندرگاہ پر مزدوری کرتا ہے اور کئی ہفتوں سے آدھی اجرت پر گھر لوٹ رہا ہے، کیونکہ جہازوں کی تعداد اب بھی معمول سے کم ہے۔ یہ منظر صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ اس پوری دنیا کی عکاسی کرتا ہے جو ایک تنگ آبی گزرگاہ پر انحصار کرتی ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا بیس فیصد اور مائع قدرتی گیس کا ستائیس فیصد گزرتا ہے۔
فروری 2026ء میں جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے نام سے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تو اس کے پیچھے جو دلائل پیش کیے گئے وہ نہ تو ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی سے متعلق تھے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کے تنازع سے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس جنگ کا آغاز متوقع ایرانی جوابی حملے روکنے، ایران کے بیلسٹک میزائل ذخیرے کو تباہ کرنے، جوہری اسلحہ سازی کو ناکام بنانے اور تہران میں حکومتی تبدیلی لانے کے نام پر کیا تھا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جس جنگ کے آغاز کی وجوہات کچھ اور تھیں، اس کا اختتام اور اس کے بعد کی سفارتی کوششیں مکمل طور پر ایک دوسرے موضوع پر مرکوز ہو گئیں، یعنی آبنائے ہرمز کی بندش اور جوہری تنصیبات تک رسائی کا مسئلہ۔ یعنی کس طرح ایک بڑی جنگ کے مقاصد وقت کے ساتھ سکڑ کر ایک تنگ آبی راستے کے قانونی جھگڑے میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اور اس کھینچا تانی کی قیمت وہ عام انسان چکاتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔
جنگ کے پہلے بارہ گھنٹوں میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے قریب نو سو فضائی حملے کیے جن میں ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے، اور بندرعباس کے قریب مناب کے مقام پر لڑکیوں کے ایک اسکول پر میزائل حملے میں تقریباً ایک سو ستر بچیاں جان کی بازی ہار گئیں۔ یہ اعداد و شمار محض جنگی رپورٹس کا حصہ نہیں بلکہ ان گھروں کی کہانی ہیں جہاں آج بھی مائیں اپنی بچیوں کے بستے اور جوتے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں، اس امید میں کہ شاید یاد کا کچھ حصہ ہلکا ہو جائے۔ ان خالی کمروں میں لگی تصویریں بتاتی ہیں کہ جنگ کے اعداد و شمار پڑھنے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر نمبر کے پیچھے ایک چہرہ, ایک نام اور ایک نامکمل خواب پوشیدہ ہوتا ہے۔
ایران نے ان حملوں کا جواب اپنے روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنی جغرافیائی اہمیت سے دیا۔ چار مارچ 2026ء کو پاسدارانِ انقلاب نے ڈرون بیڑوں، تیز رفتار کشتیوں اور بحری بارودی سرنگوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تمام تعاون معطل کر دیا اور اپنی افزودگی کی تنصیبات تک رسائی روک دی۔ اس اقدام نے پوری دنیا کی توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا، اور بحری جہازوں کی بیمہ ( انشورنس) کی شرح میں چار سے چھ گنا اضافہ ہو گیا، جس کی وجہ سے امریکی حکومت کو بیمہ قانون برائے دہشت گردی کے خطرات کے تحت انشورنس کمپنیوں کو مالی مدد فراہم کرنا پڑی۔
اپریل کے مہینے میں تیرہ تاریخ کو ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے تمام تجارتی جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا، جس سے ایک ’’ دہری ناکہ بندی‘‘ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس صورتحال نے ایران کی تیل کی برآمدات کو شدید متاثر کیا، جن کا بڑا حصہ اسی آبنائے سے گزر کر چین جاتا ہے۔ اٹھارہ جون کو جب اسلام آباد میں طے پانے والا معاہدہِ مفاہمت صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان کے دستخطوں سے نافذ العمل ہوا تو امریکی بحریہ نے اپنی ناکہ بندی ختم کر دی۔ اس معاہدے کے پانچویں نکتے نے، جسے آرٹیکل فائیو کہا جاتا ہے، ایران کو ساٹھ روزہ مذاکراتی مدت کے دوران تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ گزرگاہ یقینی بنانے کی ذمہ داری دی، جبکہ تہران کی جانب سے تیس دن کے اندر بارودی سرنگیں اور فوجی رکاوٹیں ہٹانے کا وعدہ بھی شامل تھا۔
مگر کاغذ پر لکھے الفاظ اور سمندر کی حقیقت میں فرق ہونا ایک پرانی بات ہے۔ امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادی، جن میں سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں شامل ہیں، اس نکتے کو یوں پڑھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جہاں بین الاقوامی قانون ( حقِ راہداری) کے تحت کسی بھی قسم کا محصول عائد کرنا غیر قانونی ہے۔ یہ خلیجی ریاستیں اپنی تیل کی برآمدات کے تحفظ کی خاطر امریکی موقف کی حمایت کرتی ہیں، کیونکہ ان کی معیشتیں بھی اسی آبنائے کی بلاتعطل رسائی پر کھڑی ہیں۔ اسی بنیاد پر امریکی بحریہ کے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے عمان کے ساحل کے قریب ایک وسیع راہداری قائم کی ہے جس سے تجارتی جہاز ایرانی سمندری حدود سے گزرے بغیر آگے نکل سکتے ہیں۔ دوسری طرف تہران کا موقف یہ ہے کہ آرٹیکل فائیو اسے آبنائے کے انتظامی معاملات پر خصوصی اختیار دیتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ تمام جہاز جزیرہ لارک کے جنوب سے گزرنے والی شمالی راہداری استعمال کریں اور براہ راست ایرانی حکام سے رابطہ کریں، ورنہ غیر مجاز راستوں کو ’’ ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک‘‘ سمجھا جائے گا، جس کی تصدیق زمینی مانیٹرنگ رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔
یہ اختلاف صرف زبانی بیانات تک محدود نہیں رہا۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کھل کر امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ ایران اور عمان کو آبنائے کے انتظام پر خودمختار حق حاصل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ شق ایران کو ساٹھ دن کے دوران محفوظ گزرگاہ کی ذمہ داری دیتی ہے، جس کے لیے جہازوں کو ایرانی حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے بار بار خبردار کیا ہے کہ ایران بین الاقوامی جہازوں پر محصول یا پابندی عائد نہیں کر سکتا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ یکم جولائی کو سامنے آنے والے تازہ ترین واقعات کے مطابق، ایک غیر ملکی جہاز مقررہ راستے سے ہٹنے کے بعد آبنائے میں پھنس گیا، جس نے دونوں فریقین کی تشویش اور خطے میں تنائو کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس تمام کشمکش کے دوران وہ عام تاجر، ٹرک ڈرائیور اور بندرگاہوں پر مزدوری کرنے والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کا روزگار انہی جہازوں کی آمد و رفت سے جڑا ہے۔ کراچی سے لے کر دبئی اور بندرعباس تک، بندرگاہوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی آمدنی میں کمی واقع ہو رہی ہے، کیونکہ کم جہازوں کا مطلب ہے کم لدائی اور کم اجرت۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کا سیدھا اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے جہاں پہلے سے ہی معیشت دبا میں ہے، اور عام گھرانوں کو ہر مہینے بجلی اور پیٹرول کے بلوں میں یہی بحران دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے ثالث کا کردار نبھاتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے’’ تاریخی سفارتی کامیابی‘‘ کا نام دیا، اور اس میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا۔
یہ بات درست ہے کہ کچھ تجزیہ نگار اس بحران کو محض قانونی اصطلاحات کی موشگافی سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کے پاس اس تنازع کو مزید بڑھانے کی گنجائش کم ہے کیونکہ دونوں فریق جنگ کی تھکن کے بعد امن کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سمندری قانون کے واضح اصولوں کی روشنی میں یہ تنازع بالآخر سفارتی راستے سے ہی حل ہو جائے گا، جیسا کہ عمان اور دیگر خلیجی ریاستیں ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نقطہ نظر میں کچھ وزن ضرور ہے، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جب تک آرٹیکل فائیو کی تشریح پر دو متضاد موقف موجود ہیں، تب تک ہر گزرتا دن کسی نئے تصادم کا امکان اپنے ساتھ لاتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی لہریں آج بھی پرسکون نظر آتی ہیں، مگر ان کے نیچے وہ کشمکش موجود ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہی۔ وہی بوڑھا ماہی گیر آج بھی اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے کہ آج بندرگاہ پر کتنے جہاز آئے، اور جواب میں خاموشی ہی سب سے زیادہ بولنے والی چیز بن جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدے پر دستخط ہو گئے یا نہیں، بلکہ یہ کہ کیا الفاظ کی تشریح میں یہ فرق آخرکار عمل کی زبان میں تبدیل ہو کر ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ بنے گا۔ اس سوال کا جواب آنے والے دن ہی دیں گے، اور تب تک وہ ماہی گیر، وہ تاجر اور وہ بندرگاہوں کے مزدور، سب اپنی اپنی امیدوں کے ساتھ اس آبی گزرگاہ کی خاموشی کو غنیمت سمجھ کر گزار رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button