ہاتھ کاٹ دیں گے

ہاتھ کاٹ دیں گے!!
محمد مبشر انوار
انسانی زندگی کے لئے پانی ایک لازمی جزو ہے،جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں رہتی اور اللہ کریم نے کرہ ارض پر قریبا تین چوتھائی وسائل ہی پانی کے رکھے ہیں،جو کرہ ارض پر زندگی کو رواں رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اللہ کی اس نعمت کو انتہائی احتیاط اور سنبھال کر استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے کہ بلاوجہ پانی کو ضائع نہ کیا جائے بلکہ اس کا استعمال ضرورت کے مطابق اور محدود ہونا چاہئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت انگریز کی بدنیتی کے باعث جموں و کشمیر کا فیصلہ، مسلم اکثریت ہونے کے باوجود، اس کے ڈوگرہ راجہ کے ہاتھ چھوڑ دیا گیا، جس نے کشمیر کو بنئے کے ہاتھ فروخت کرکے ایک مستقلا تنازع کھڑا کر دیا، جبکہ اگر انگریز تقسیم کے فارمولے کے مطابق اس مسلم اکثریتی وادی کو بھی پاکستان کا حصہ بنا دیتا تو یہ تنازع جنم ہی نہ لیتا۔ پاکستان کی طرف بہنے والے دریائوں کا منبع و ماخذ، کشمیر کے پہاڑ ہیں جہاں سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہوا، پاکستان کے میدانوں تک پہنچتا ہے، اور یہاں کے کسان اپنی کھیتی باڑی اسی پانی سے کرتے ہیں لیکن اب چونکہ یہ پانی مناسب مقدار میں پاکستانی کاشتکاروں کا میسر نہیں، تو زیادہ پانی زمین سے حاصل کیا جاتا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ جس مقدار میں ہم پانی کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ضائع کرتے رہے ہیں، زیر زمین پانی اب مزید گہرائی میں جا چکا ہے، جس سے اس کا حصول قدرے مشکل ہورہا ہے۔ بہرحال تقسیم کے وقت، اگر فارمولے پر نیک نیتی سے عمل کیا جاتا، تو کشمیر کے ساتھ ساتھ، مشرقی پنجاب کے بہت سے علاقے بھی پاکستان کو ملتے، جس سے بھارت کا تعلق ہی اس پورے نظام سے کٹ جاتا، کشمیر سے آنے والے پانی پر پاکستان بلا شرکت غیرے اپنا حق رکھتا اور اسے کسی قسم کی مشکل پیش نہ آتی لیکن تقسیم کے بعد، بھارت کی جانب سے شر پسندی کا مظاہرہ کیا گیا اور اس پانی کو روکنے کی کوششیں ہوئی۔ پانی بند کرنے کی ان کوششوں کے جواب میں پاکستانی عالمی اداروں کے پاس گیا اور عالمی اداروں کی ثالثی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ وجود میں آیا، جس کے مطابق ثالثوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائوں کی تقسیم کر دی، البتہ اس معاہدے کی شقوں کے مطابق ،دونوں ممالک کے لئے لازم تھا کہ پانی کے زیاں کو روکیں نہ کہ پانی سمندروں میں جا کر گرتا رہے۔ اس کی وجہ انتہائی سادہ اور سامنے کی ہے کہ ساری دنیا میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ،ذخائر تعمیر کئے جاتے ہیں، جن کے باعث پانی سارا سال میسر رہتا ہے اور بوقت ضرورت اس پانی کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ اس پانی کا استعمال صرف زراعت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس پانی کو استعمال کرکے انتہائی سستی بجلی بھی بنائی جاتی ہے، جو صنعتی پہیے کو رواں رکھتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر مجرمانہ غفلت برتی گئی ، کہ ایک طرف پاکستان کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے، جو حقیقت بھی ہے، کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا 70%انحصار زراعت پر ہے، جو کل تک تو حقیقت تھا مگر بدقسمتی سے آج یہ دعویٰ اتنا مبنی برحقیقت نہیں رہا، اس کی کیا وجوہات ہیں، وہ الگ موضوع ہے لیکن آج کی تلخ حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی کی معیشت آج نہ زراعت پر منحصر ہے اور نہ ہی صنعت پر بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی معیشت کا انحصار ،ان جنگوں پر رہا ہے ،جس کا ایندھن پاکستانی فوج و عوام رہی ہے۔ بہرحال اس دوران بھارت مسلسل کشمیر میں ہی آبی ذخائر تعمیر کرتا رہا جبکہ پاکستان آبی ذخائر تعمیر کرنے میں ناکام رہا کہ یہاں حکومتیں، عوام کو اس کے فوائد و ثمرات سے کماحقہ آگاہ کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور جو جذبہ آزادی کے وقت یا اس کے کچھ عرصہ بعد تک تھا، وہ بتدریج ماند پڑتا چلا گیا۔
جو آبی ذخائر بنے، ان کے حوالے سے عوام کی شکایات دور نہیں کی گئی، جن میں سرفہرست معاوضہ کا معاملہ رہا، متبادل زمینوں کی فراہمی رہا اور سب سے بڑھ کر جس چیز نے مزید آبی ذخائر کی تعمیر میں رکاوٹ کھڑی کی، وہ ایسے بے بنیاد خوف رہے، جو لاعلمی کی بنیاد پر عوام کے کچے ذہنوں میں بو دئیے گئے، جو آج بھی ان کے اذہان میں موجود ہیں اور سیاسی قیادتیں ان کو ذاتی مفادات کے لئے ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ اس وقت جو معاملہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا ہے اس میں یہ نکتہ بنیادی ہے کہ بھارت نشیب کے ملک کا پانی نہیں روک سکتا، پاکستان کے اس موقف کو عالمی سطح پر نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر میں پانی کے حوالے سے یہی اصول لاگو ہوتا ہے کہ پانی زندگی ہے اور کسی بھی نشیبی علاقے کا پانی کسی بھی صورت نہیں روکا جا سکتا جبکہ سندھ کے بیشتر سیاسی رہنماؤں نے عوام کے اذہان میں یہ بات ڈال رکھی ہے کہ اگر آبی ذخائر تعمیر ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سندھ کا پانی روکا جارہا ہے، جو سراسر بے بنیاد ہے۔ البتہ انتظامی طور پر اگر ایسی کوئی بے قاعدگی یا بے ضابطگی ہوتی بھی ہے تو اس کا علاج بہرطور کیا جاسکتا لیکن صرف اس ایک نکتے پر اربوں ڈالر کے قیمتی پانی کو سمندر میں ڈالنے کی مجرمانہ غفلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس وقت بھی یہی صورتحال ہے کہ پاکستان ،اپنے حق کے لئے عالمی سطح پر مسلسل عالمی اداروں کے سامنے اس مسئلے کو رکھ کر انصاف کا متلاشی ہے کہ کسی طرح بھارت کو قانونی طریقوں سے پاکستان کا پانی روکنے سے باز رکھے لیکن تاحال بھارت اس معاملے پر ٹس سے مس نہیں ہو رہا اور عالمی ثالثی عدالت کے احکامات پر بھی عمل درآمد کرنے سے آناکانی کر رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ برس مئی میں، بھارت کی جارحیت کے جواب میں، بھارت کو یہ باور کروا چکا ہے کہ طاقت یا کسی بھی اور زعم میں نہ رہے کہ پاکستان، بھارت کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے اور اپنے دفاع اور حق کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے گو کہ پاکستان کی طرف سے اس موقف کا بارہا اعادہ کیا جا چکا ہے کہ پانی روکنے کا بھارتی عمل اعلان جنگ کے مترادف سمجھا جائیگا لہذا اس آگ سے کھیلنا بند کیا جائے لیکن اعلان جنگ کرنے سے قبل پاکستان وہ تمام قانونی راستے اختیار کرنا چاہتا ہے کہ جس سے نہ صرف بھارت بلکہ عالمی برادری بھی سمجھ جائے کہ پہل پاکستان کی جانب سے نہیں ہوئی اور نہ ہی پاکستان نے اپنے پانیوں کے حصول میں کوئی غیر قانونی کام کیا ہے بلکہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اور بھارتی خواہش کو پورا کرتے ہوئے، اس سے اپنا حق حاصل کیا ہے بشرطیکہ بھارت قانونی راستوں سے پاکستان کا حق نہیں دیتا۔ عالمی برادری کو اس امر کا بخوبی احساس ہے اور میری ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ بھارت خواہ کچھ بھی کرے، گزشتہ برس مئی کے بعد سے، بھارت میں اب اتنی جرات اور دم خم نہیں کہ معاملات کو اس حد تک لے جائے کہ پاکستان اور بھارت ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے کھڑے ہوں اور نہ یہ دونوں ممالک کے لئے مناسب ہو گا، اس لئے قوی امید ہے کہ اس معاملے میں بھارت جتنا بھی تاخیری حربے استعمال کر لے، آخر کار اسے پانی کھولنا پڑے گا۔ بصورت دیگر کیا ہوگا، اس کے متعلق سوچ کر ہی پریشانی ہوتی ہے مگر دوسری طرف یہ امید بھی ہے کہ اب پاکستان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ محدود پیمانے پر صرف اپنے مقاصد کے حصول تک ہی، دشمن کو بھرپور نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور ضروری نہیں کہ بھارت سے پانی چھڑوانے کے لئے پورے بھارت کو ہی نیست و نابود کرنا پڑے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اگر اس مرتبہ پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو کیا پاکستان کے لئے یہ ممکن ہو گا کہ پاکستان کشمیر کو بعینہ چین کی مانند، بھارت سے چھین کر اپنا حصہ بنا لے کہ پاکستان کا شروع سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور گو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی تقدیر کا فیصلہ بہرطور کشمیری استصواب رائے سے ہونا ہے لیکن بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد،اب کشمیر کی حیثیت متنازعہ کی بجائے فری زون لینڈ کی بن چکی ہے، اور اسی کی بنیاد پر چین نے کشمیر کا بڑا حصہ بھارت سے چھین لیا ہے، کیا پاکستان بھی کشمیر کو بھارت سے اسی طرح واگزار کرائے گا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کبھی کہا تھا کہ اگر تم ہمارا پانی روکو گے تو ہم تمہاری سانس روک دیں گے، اتنا بڑا دعویٰ یونہی نہیں کیا گیا ہو گا البتہ دیکھتے ہیں کہ وہ موقع کب آتا ہے جب پاکستان بھارت کا سانس روکتا ہے کہ اس نے ہمارا پانی تو روکا ہوا ہے اور اب بہرحال وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنی پریس کانفرنس میں ببانگ دہل کہا تھا کہ جس نے ہمارے پانیوں پر ہاتھ ڈالا، اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔





