مضبوط کسان ، خوشحال پاکستان

ذرا سوچئے
مضبوط کسان ، خوشحال پاکستان
امتیاز احمد شاد
پاکستان کو قدرت نے زرخیز زمین، چاروں موسم، دریاں کا وسیع نظام اور محنتی کسان عطا کیے ہیں۔ اسی وجہ سے قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا رہا۔ آج بھی ملک کی ایک بڑی آبادی کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی، سبزیاں اور پھل نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کا زرعی شعبہ گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ کسان، جو پورے ملک کے لیے خوراک پیدا کرتا ہے، خود معاشی بدحالی، قرضوں اور غیریقینی مستقبل کا سامنا کر رہا ہے۔
آج ایک عام کسان کی سب سے بڑی مشکل زرعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہے۔ چند سال پہلے جن اشیاء کی قیمت نسبتاً مناسب تھی، آج وہ عام کسان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ کھاد، معیاری بیج، زرعی ادویات، سپرے، ٹریکٹر کے پرزے، مشینری، ٹیوب ویل کے اخراجات اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایک ایکڑ زمین پر فصل اگانے کے لیے کسان کو پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے میں چھوٹے اور متوسط درجے کے کسان اکثر قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور اگر فصل کسی وجہ سے متاثر ہو جائے تو ان کے لیے قرض واپس کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔
زرعی لاگت بڑھنے کے باوجود کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر برسوں سے بحث جاری ہے۔ جب فصل تیار ہو کر منڈی میں پہنچتی ہے تو اکثر کسان کو اتنی کم قیمت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی لاگت بھی پوری نہیں کر پاتا۔ دوسری طرف یہی اجناس چند دن بعد صارفین کو کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منڈی کے نظام میں کسان سب سے کمزور فریق ہے، جبکہ درمیانی تاجر اور دیگر حلقے زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔ اگر کسان کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ نہ ملے تو وہ آئندہ فصل میں سرمایہ کاری کیسے کرے گا؟
پاکستان میں زرعی شعبے کو درپیش مشکلات میں حکومتی پالیسیوں پر بھی اکثر تنقید کی جاتی ہے۔ کسانوں کا مقف ہے کہ زرعی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ کبھی درآمدات اور برآمدات سے متعلق فیصلے اچانک تبدیل ہو جاتے ہیں، کبھی امدادی قیمتوں کے اعلانات میں تاخیر ہوتیہے، اور کبھی خریداری کے نظام میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس طرح کسان یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی فصل کاشت کرے اور کس حد تک سرمایہ کاری کرے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہوتا ہے کہ مختلف سبسڈی پروگرام، آسان قرضے اور زرعی ترقیاتی منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان سہولتوں کا فائدہ حقیقی معنوں میں چھوٹے کسان تک کس حد تک پہنچتا ہے۔
ہر سال قومی بجٹ پیش کیا جاتا ہے جس میں مختلف شعبوں کے لیے ترقیاتی فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ زراعت جیسے بنیادی شعبے کو تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، آبپاشی، کسانوں کی تربیت، زرعی تعلیم اور دیہی انفراسٹرکچر کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔ اگر زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری کم ہوگی تو بہتر بیج، جدید کاشتکاری اور موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موثر منصوبہ بندی بھی متاثر ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ جدید تحقیق، مشینی کاشتکاری اور کسان دوست پالیسیوں کے ذریعے کیا، جبکہ پاکستان ابھی بھی کئی شعبوں میں روایتی طریقوں پر انحصار کر رہا ہے۔
پاکستان کے زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلی نے بھی شدید متاثر کیا ہے۔ غیر معمولی بارشیں، شدید گرمی، خشک سالی، ژالہ باری اور تباہ کن سیلاب فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلاب نے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ کیں، جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ایسے حالات میں زرعی انشورنس، جدید موسمی پیش گوئی، پانی کے بہتر انتظام اور موسمی تبدیلی کے مطابق نئی اقسام کے بیج متعارف کرانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
پانی کی قلت بھی پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دئیے بغیر مستقبل میں زرعی پیداوار کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ڈرپ اریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم جیسے جدید طریقے اپنا کر کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان ٹیکنالوجیز کا استعمال ابھی محدود ہے۔
زرعی شعبے کی کمزوری صرف کسان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کا مسئلہ ہے۔ جب زرعی پیداوار کم ہوتی ہے تو خوراک مہنگی ہوتی ہے، غذائی تحفظ متاثر ہوتا ہے، دیہی بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور صنعتی شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے کیونکہ کئی صنعتیں زرعی خام مال پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے زراعت کی ترقی درحقیقت قومی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے جامع اور دیرپا اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے کسان کو سستی اور معیاری کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی دستیابییقینی بنائی جائے۔ زرعی قرضوں کا نظام آسان اور شفاف بنایا جائے تاکہ چھوٹے کسان بھی آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ فصلوں کی مناسب اور بروقت قیمت کا موثر نظام قائم کیا جائے تاکہ کسان کو اپنی محنت کا جائز معاوضہ مل سکے۔ زرعی منڈیوں میں شفافیت لائی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے غیر ضروری منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہو۔
اسی طرح زرعی تحقیق، جدید مشینری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والے بیج، کسانوں کی تربیت اور جدید آبپاشی کے نظام پر زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ حکومت، زرعی جامعات، تحقیقاتی اداروں اور نجی شعبے کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ جدید زرعی معلومات براہِ راست کسان تک پہنچ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت بھی بے حد ضروری ہے تاکہ کسان مستقبل کی منصوبہ بندی اعتماد کے ساتھ کر سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی خوشحالی کا راستہ مضبوط زرعی شعبے سے ہو کر گزرتا ہے۔ کسان صرف اپنی زمین پر محنت نہیں کرتا بلکہ پورے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو دیہی معیشت مضبوط ہوگی، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، خوراک کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور قومی معیشت بھی ترقی کرے گی۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ زراعت کو قومی ترجیحات میں اولین مقام دیا جائے، کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور ایسی پائیدار پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو اس شعبے کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ ایک مضبوط، خود کفیل اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ایک مضبوط اور خوشحال کسان ہی رکھ سکتا ہے۔





