Column

سحر پروگرام: پنجاب کی بیٹیوں کے روشن مستقبل کی نوید

سحر پروگرام: پنجاب کی بیٹیوں کے روشن مستقبل کی نوید
تحریر: رفیع صحرائی
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا راز اس کی خواتین کی تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کرکے نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط کیا بلکہ سماجی ترقی کے نئے باب بھی رقم کیے۔ وہاں آج خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر نہ صرف خودکفیل ہیں بلکہ ملکی معیشت میں اپنا گراں قدر حصہ ڈال رہی ہیں۔
پاکستان بالخصوص پنجاب میں خواتین کی ایک بڑی تعداد صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود مناسب مواقع سے محروم رہی ہے۔ تعلیمی میدان ہو، زراعت ہو یا صنعت ہو، پنجاب کی خواتین ہر ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں خواتین کو انتہائی محدود مواقع میسر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ایک بڑی تعداد باصلاحیت ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کے مظاہرے سے محروم رہی ہے۔ ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ’’ سکل انہانسمنٹ تھرو ہوم رینج پروگرام‘‘ یعنی ’’ سحر پروگرام‘‘ کا آغاز ایک قابلِ تحسین، دور اندیش اور انقلابی قدم ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو ان کے گھر کی دہلیز پر ہنر سکھانے اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے ایک منظم پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ قریباً 97کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ صوبے کی 5365خواتین کو جدید اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرے گا، جو بلاشبہ خواتین کی معاشی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اس اقدام سے صرف خواتین ہی معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوں گی، بلکہ ملکی معیشت کو بھی اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ ’’ پنجاب کی عورت معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو پنجاب اور پاکستان ترقی کرے گا‘‘، محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھنے سے ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اگر خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو غربت میں کمی، بچوں کی بہتر تعلیم اور خاندانوں کی خوشحالی ممکن ہو جاتی ہے۔
سحر پروگرام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف شہری خواتین ہی نہیں بلکہ دور دراز دیہی، نیم شہری اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں بیوہ، مطلقہ اور اقلیتی خواتین کو ترجیح دینا حکومت کی سماجی حساسیت اور انصاف پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح خواتین کا وہ طبقہ جسے بوجھ سمجھا جاتا ہے معاشی خودکفالت کے بعد مفید طبقے میں بدل جائے گا۔
آج کی دنیا میں ہنر ہی اصل سرمایہ ہے۔ سحر پروگرام کے تحت خواتین کو ہاسپیٹلٹی، بیوٹیشن اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت دینا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ہاسپیٹلٹی سیکٹر دنیا بھر میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ کلنری آرٹس، بیکنگ، فرنٹ ڈیسک اور ایئر لائن مینجمنٹ کی تربیت حاصل کرنے والی خواتین ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع حاصل کر سکتی ہیں۔ اسی طرح بیوٹیشن انڈسٹری پاکستان میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ خواتین کم سرمایہ سے اپنا بیوٹی سیلون قائم کرکے باعزت روزگار حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ شعبہ گھریلو کاروبار کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔
تاہم سحر پروگرام کا سب سے روشن پہلو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت ہے۔ ای کامرس، شاپیفائی، دراز، پروڈکٹ ریسرچ، انگلش لینگویج اور فنانشل لٹریسی کی تربیت خواتین کو صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔ فری لانسنگ اور آن لائن بزنس کے ذریعے خواتین گھر بیٹھے ڈالر کما سکتی ہیں اور ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
سحر پروگرام شروع کرنے سے پہلے پورا ہوم ورک کیا گیا ہے۔ ناکام حکومتی پروگرامز کی ناکامی کی وجوہات، راستے کی رکاوٹوں اور کامیابی کے امکانات کا مکمل جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پہلو کو خصوصی طور پر مدِنظر رکھا گیا ہے کہ اکثر تربیتی پروگراموں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ سہولیات کا فقدان ہوتا ہے۔ اس لیے سحر پروگرام میں ٹرینی خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ ڈیوائس، ڈیٹا پیکیج اور ماہانہ وظیفہ فراہم کرنا اس منصوبے کو دیگر پروگراموں سے ممتاز بناتا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی ضمانت ہے کہ خواتین نہ صرف تربیت حاصل کریں بلکہ اسے عملی طور پر استعمال بھی کر سکیں۔ اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے یہ بہت ضروری امر ہے۔ پنجاب حکومت نے یہ سہولت دے کر سحر پروگرام کی کامیابی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
اگر اس پروگرام پر مستقل مزاجی سے عمل کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہو سکتے ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں ہزاروں خواتین اپنے گھروں سے کاروبار شروع کر سکتی ہیں، فری لانسنگ کے میدان میں اپنا مقام بنا سکتی ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرام خواتین کے لیے خود اعتمادی، باوقار روزگار اور معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس سے گھریلو تشدد، مالی انحصار اور غربت جیسے مسائل میں بھی نمایاں کمی آنے کی امید ہے۔
سحر پروگرام کو مزید مثر بنانے کے لیے چند اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو بلاسود یا آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ہر ضلع میں ’’ ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹر‘‘ قائم کیے جائیں۔ آن لائن روزگار کے مواقع سے متعلق مستقل رہنمائی اور مینٹورشپ کا نظام بنایا جائے۔ صلاحیتوں کے اعتراف سے کام کرنے والوں کا حوصلہ بڑھتا ہے اور دوسروں میں جذبہ مسابقت پیدا ہوتا ہے جو اس شعبے کی ترقی اور بہتری کا سبب بنتا ہے۔ کامیاب خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ ایوارڈز اور خصوصی گرانٹس دی جائیں تو مطلوبہ نتائج توقع سے بھی جلد حاصل ہونے میں مدد ملے گی۔ حکومت پنجاب کو اس پہلو پر بھی توجہ دینا ہو گی کہ خواتین کی تربیت کے بعد روزگار کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔
اگر دیہی خواتین کی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے خصوصی ای کامرس پلیٹ فارم قائم کیا جائے تو یہ بہت مثبت نتائج کا حامل ہو گا۔ ایک اور بات بھی دھیان میں رہے کہ خواتین کے لیے ڈے کیئر مراکز اور کاروباری رہنمائی مراکز بھی قائم کیے جائیں۔
یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوم اپنی نصف آبادی کو پیچھے چھوڑ کر ترقی نہیں کر سکتی۔ سحر پروگرام دراصل خواتین کو معاشی خودمختاری، خود اعتمادی اور عزتِ نفس دینے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنی اصل روح کے مطابق جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پنجاب کی ہزاروں خواتین نہ صرف اپنے خاندانوں کی تقدیر بدلیں گی بلکہ ملکی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گی۔ وزیرِ اعلیٰ کا سحر پروگرام ایک نئے پنجاب کی بنیاد ثابت ہو گا۔
وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں، خصوصاً خواتین کو بااختیار بنانے سے آتی ہے۔ ’’ سحر‘‘ درحقیقت ایک پروگرام نہیں بلکہ پنجاب کی بیٹیوں کے روشن، خودمختار اور خوشحال مستقبل کی نوید ہے۔

جواب دیں

Back to top button