CM RizwanColumn

،وزیراعظم فیلڈ مارشل میں سانجھ کمال ہے‘‘

’’ وزیراعظم، فیلڈ مارشل میں سانجھ کمال ہے‘‘

تحریر : سی ایم رضوان

’’ روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر‘‘، اردو کا ایک مشہور اور دلچسپ محاورہ یا کہاوت ہے۔ پرانے صحافی یا مطالعہ کے شوقین تو اس محاورے سے بخوبی واقف ہوں گے لیکن نوجوان قارئین کے لئے اس محاورے کا سادہ سا مطلب عرض کئے دیتے ہیں کہ جو انسان محنتی، ہنر مند، چالاک یا جفاکش ہو، وہ حالات جیسے بھی ہوں، کہیں نہ کہیں سے اپنے لئے روزی روٹی کا بندوبست کر ہی لیتا ہے۔ وہ بھوکا نہیں مرتا۔ یہ جملہ کسی شخص کی صلاحیت، خود اعتمادی، یا اس کے بارے میں دوسروں کے اس یقین کو ظاہر کرتا ہے کہ ’’ یہ بندہ مار نہیں کھائے گا، اپنا پیٹ پال ہی لے گا‘‘۔ اس محاورے کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ ’’ مچھندر‘‘ دراصل ہندوستان کے ایک مشہور تاریخی اور نیم افسانوی کردار مچھندر ناتھ (Matsyendranath)سے ماخوذ ہے۔ وہ نویں یا دسویں صدی کے ایک بڑے جوگی، جادوگر اور ہٹ یوگ کے بانی مانے جاتے ہیں، جو پراسرار صلاحیتوں کے مالک تھے۔ لوک کہانیوں کے مطابق، وہ اتنے چالاک اور شعبدہ باز تھے کہ کسی بھی مشکل صورتحال سے نکل جاتے تھے اور اپنا کام نکالنا بخوبی جانتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ان کا نام اردو اور ہندی لوک ادب میں ایک ایسے کردار کے طور پر پکا ہو گیا جو بہت ہوشیار ہو اور اپنا راستہ بنانا جانتا ہو۔ اب آ جاتے ہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جہاں ہر دور میں دونوں قسم کے بینچوں پر اسی طرح کے لیڈران براجمان ہوتے ہیں۔ اب چونکہ بظاہر تو اپوزیشن رہنماں کی چمک دمک کے لئے کوئی سیدھا سادہ راستہ نہیں ہے لیکن اس محاورے کے مصداق حکومتی خزانہ سے کچھ سہولیات لینے کی خاطر گزشتہ روز ان رہنمائوں کی جانب سے ٹریژری بنچز سے التفات بڑھا ہوا محسوس ہوا تو موقع کو غنیمت جان کر وزیر اعظم شہباز شریف جھٹ سے اپوزیشن کرسیوں کی جانب چلے گئے اور مفاہمت پر ایک مختصر لیکچر دے کر ایک مرتبہ پھر گیند پی ٹی آئی کے کورٹ میں پھینک دی۔ دوسری جانب سے بھی موقع کو غنیمت جان کر ہاں کر دی گئی اب اندر کھاتے ان اپوزیشن رہنماں کے رکے ہوئے جائز کام اور فائلیں محکمہ خزانہ کی منظوری کے باوصف رواں دواں ہو جائیں گی اور حکومت کے لئے روٹی تو کسی کما کھائے مچھندر کا سلسلہ یوں رواں ہو جائے گا کہ روایتی چور چور کے نعرے لگانے کی بجائے یہ اپوزیشن لیڈر قدرے سلجھائو، جمہوری قدروں کے ساتھ، آسانی سے بجٹ منظور ہونے دیں گے۔ یاد رہے کہ اسی موقع پر اپوزیشن کے دو ایک رہنمائوں نے بانی کی صحت، سہولیات، ملاقات یا ممکنہ رہائی کی بات کی تھی تو رانا ثنا اللہ نے اس حوالے سے کوئی وعدہ وعید کرنے کی بجائے واضح طور کہہ دیا تھا کہ ان معاملات میں عدالتیں جو فیصلہ کریں گی وہی تسلیم ہو گا۔ ہاں جہاں تک سہیل آفریدی کی وفاق کو گرانٹ نہ دینے کی دھمکی کا تعلق ہے تو اس نوعیت کی دھمکی پچھلے سال بجٹ کے موسم میں سابق انقلابی وزیر اعلیٰ گنڈا پور نے بھی دی تھی مگر بغیر بانی کی رہائی کے پچھلے سال بھی وفاق اور کے پی کے دونوں کے بجٹ منظور ہو گئے تھے۔ اب بھی حکومت نے پچھلے دنوں پہلے ہی پی پی قیادت کی انقلابی گفتگو سن کر اسے جی بی دے کر خوش کر لیا اب پی ٹی آئی کے ان انقلابیوں کے خیبر پختونخوا میں تمباکو پر ٹیکس نہ لگانے اور فاٹا کے ضم اضلاع کے لئے قدرے مفید پالیسی اپنانے کی امید پوری کر کے سب کے لئے روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر کا فیصلہ کر دیا ہے۔

اب ذرا تصویر کو دوسرے روایتی رخ سے بھی دیکھ لیتے ہیں تو نظر تو یہی آ رہا ہے کہ وفاق اور خیبر پختونخوا ( پی ٹی آئی) حکومت کے درمیان جاری کشیدگی، بالخصوص خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے وفاق کو گرانٹ یا واجبات کے حوالے سے دی جانے والی دھمکی اور اس کے جواب میں وزیر اعظم کا اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ، پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پیش رفت اور مذاکرات کے ممکنہ نتائج کا رواجی تجزیہ کہتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے وفاق سے این ایف سی ایوارڈ، بجلی کے خالص منافع اور فاٹا انضمام کے بقایا جات کے مطالبات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو دونوں حکومتیں ایک قابلِ عمل مالیاتی فارمولے پر متفق ہو سکتی ہیں، جس سے صوبے کو فنڈز کی فراہمی ممکن ہو گی۔ چونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنے کا پابند ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان تصادم آئی ایم ایف کے اہداف ( جیسے صوبائی سرپلس کا ہدف) کو متاثر کر سکتا ہے۔ لہٰذا کامیاب مذاکرات معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور بین الاقوامی اداروں کے سامنے پاکستان کا مثبت امیج پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وفاق کا اپوزیشن اور صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ ملک مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ متوقع مذاکرات سے سڑکوں پر احتجاج اور محاذ آرائی کی سیاست میں کمی آ سکتی ہے، جس سے حکومت کو گورننس پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ پی ٹی آئی کے لئے یہ مذاکرات اپنے قیدی رہنمائوں ( بشمول بانی پی ٹی آئی) کی رہائی، مقدمات میں ریلیف، اور اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک اہم فورم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر وفاق کچھ لچک دکھاتا ہے، تو صوبائی حکومت بھی اپنے جارحانہ بظاہر رویی میں نرمی لا سکتی ہے۔ سرسری تجزیہ کہتا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت سکیورٹی اور دہشت گردی کے شدید چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں ( اور مقتدر حلقوں) کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر ان چیلنجز سے نمٹنا ناممکن ہے۔ مذاکرات کی کامیابی سے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لئے وفاقی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ بہتر ہو گی۔

تاہم مذاکرات کے مثبت نتائج حاصل ہونے کی راہ میں کچھ بڑی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ فریقین کے درمیان شدید بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ اگر مذاکرات کو محض وقت گزاری یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کیا گیا تو بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں مقتدر حلقوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان کسی بھی بڑے سیاسی سمجھوتے کے لئے پسِ پردہ قوتوں کی رضامندی یا ضامن ہونا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ اب بھی اگر اس محاذ پر ڈیڈ لاک برقرار رہا، تو صرف روایتی سیاسی مذاکرات سے بڑے نتائج کی توقع کم ہو گی۔ بہرحال وزیر اعظم کا یہ قدم سیاسی طور پر ایک مثبت اور پختہ قدم ہے۔ اگر فریقین ( وفاق اور پی ٹی آئی) اپنے سخت سیاسی موقف سے پیچھے ہٹ کر ’’ لو اور دو‘‘ کی پالیسی اپنائیں، تو اس کے نتیجے میں ملک کو معاشی ریلیف، خیبر پختونخوا کو اس کے جائز مالیاتی حقوق، اور ملک کو سیاسی استحکام مل سکتا ہے۔ تاہم، اگر یہ کوشش محض رسمی ثابت ہوئی، تو صوبہ اور وفاق کا تصادم جاری رہے گا جو آئندہ ملکی معیشت اور سکیورٹی کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سوال اب بھی بڑا اہم ہے کہ کیا پی ٹی آئی اور وفاق اس نازک موڑ پر ایک دوسرے پر بھروسہ کر پائیں گے، یا یہ مذاکرات بھی ماضی کی طرح تعطل اور روایتی ٹرولنگ کا شکار ہو جائیں گے؟ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے وفاق کو گرانٹ نہ دینے کی دھمکی اور وزیراعظم کی اپوزیشن سے مذاکرات کی پیشکش سے جوڑ کر اگر سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر فیصل واوڈا کی تازہ جارحانہ بیان بازی اور پیش گوئیوں کو دیکھا جائے تو حیران ہونے کا تھوڑا سامان اکٹھا نظر آتا ہے۔ تاہم فیصل واڈا کی پیش گوئیوں میں کتنی حقیقت ہوتی ہے، اس کا اندازہ ان کے ماضی کے ریکارڈ اور سیاسی تجزیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پی ٹی آئی کی حکومت گرنے سے کئی ماہ قبل فیصل واڈا مسلسل کہہ رہے تھے کہ حکومت خطرے میں ہے اور اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہو جائے گی۔ ان کا یہ دعویٰ بالآخر سچ ثابت ہوا۔ پھر انہوں نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تصادم کی شدت کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اور وہ مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ یہ پارٹی ایک بند گلی کی طرف جا رہی ہے۔ فیصل واڈا کی بیشتر وہ باتیں جو اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یا مستقبل کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہیں، اکثر درست ثابت ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں سیاسی حلقوں میں ایک ’’ رابطہ کار‘‘ یا ’’ ترجمان‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن یاد رہے کہ عمرانی دورِ میں انہوں نے ایک مشہور دعویٰ کیا تھا کہ ’’ چند ہفتوں یا دنوں میں ملک میں نوکریوں اور پیسے کی بارش ہونے والی ہے اور معیشت یکسر بدل جائے گی‘‘ ، جو کہ زمینی حقائق کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔ پھر یہ بھی کہ بعض اوقات وہ مخصوص تاریخیں یا ہفتے بتاتے ہیں کہ فلاں لیڈر جیل جائے گا یا حکومت ختم ہو جائے گی، لیکن وہ مقررہ وقت پر پورا نہیں اترتیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ فیصل واوڈا کے مقتدر حلقوں اور طاقتور اداروں کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔

اس لئے جب وہ کوئی پیش گوئی کرتے ہیں، تو وہ محض تکا نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ’ سگنل‘ یا اندرونی خبر ہوتی ہے جو وہ میڈیا پر آ کر شیئر کرتے ہیں۔ لیکن یہ امر بھی مدنظر رہی کہ ان کے بیانات کا ایک بڑا مقصد سیاسی مخالفین ( خصوصاً پی ٹی آئی) پر نفسیاتی دبائو بڑھانا، ان کے حامیوں کو مایوس کرنا اور ایک مخصوص سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے۔ لیکن پچھلے چند دنوں سے انہوں نے اپنا ٹارگٹ تبدیل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ ان کی کوئی محرومی تو ہو سکتی ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ لیکن یہ تسلیم کہ فیصل واڈا اپنے بیانات کو بہت ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں ( جیسے پریس کانفرنس میں کوئی بڑا انکشاف کرنا)۔ اس کا مقصد میڈیا کی توجہ حاصل کرنا اور خود کو سیاسی منظر نامے میں اہم بنائے رکھنا بھی ہوتا ہے۔ حاصل کلام یہی ہے کہ فیصل واوڈا کی پیش گوئیوں کو نہ تو بالکل سچ مانا جا سکتا ہے اور نہ ہی صرف افواہ۔ ان کی باتوں میں حقیقت کا عنصر اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کے ممکنہ اقدامات یا اپوزیشن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا تذکرہ کر رہے ہوں۔ تاہم، ان کے دعوئوں میں مبالغہ آرائی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بھی نمایاں ہوتی ہے، اس لئے ان کی ہر بات کو سو فیصد درست سمجھنے کے بجائے سیاسی ماحول کا ایک ’ اشارہ‘ بھی سمجھا جانا چاہیے۔ وقت اور حالات سدا ایک جیسے نہیں رہتے لیکن حقائق حاضرہ یہ بتاتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سب کچھ سیٹ کر کے رکھا ہوا ہے جس کا اعتراف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین بیان میں بھی کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر اعظم شہباز شریف کی بڑی عزت کرتے ہیں اور دونوں میں کمال کی ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔

جواب دیں

Back to top button