سنجیدگی کا مظاہرہ

سنجیدگی کا مظاہرہ
تحریر : محمد مبشر انوار (ریاض)
پاکستان نے دنیا کو ایک یقینی جنگ سے بچانے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے،اس نے اس کی اہمیت اور ساکھ کو دنیا بھر میں ایک نیا مقام فراہم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود حاسدین اور دشمنوں کی نظربد ،اس کا مسلسل پیچھا بھی کررہی ہیں۔ اس حوالے سے جہاں ایک طرف پوری دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے وہی فنانشنل ٹائمز کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے ،جس میں پاکستان کے کردار کو گدلا یا کم کرنے کی بظاہر دانستہ یا کسی کے ایماء پر گھنائونی کوشش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کہا گیا ہے کہ پاکستان بطور ثالث اپنی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآء ہونے میں ناکام رہا اور خطے میں جنگ کے شعلے کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتے تھے حالانکہ تصویر کا دوسرا رخ انتہائی اہم اور پاکستان کے لئے کسی روح فرسا سے کم نہیں تھا کہ اگر خدانخواستہ پاکستان خطے میں جنگ رکوانے میں ناکام رہتا تو اس جنگ کے شعلے براہ راست پاکستان کے آنگن کو بھی جھلسا دیتے،جس کا پاکستان کسی بھی صورت متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ البتہ یہ بات سچ ہے کہ ثالثی کی اس ذمہ داری میں پاکستان بھی اکیلا نہیں تھل بلکہ اس کے شانہ بشانہ صرف چین ہی نہیں بلکہ برادر سعودی عرب،ترکیہ اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ اور پشت پر کھڑے تھے،سب سے اہم تو یہ کہ متحارب فریق بھی ثالثی کے لئے پاکستان پر ہی اعتماد کر رہے تھے ۔ یوں پاکستان نے اپنی مخدوش داخلی صورتحال کے باوجود،کہ ایک طرف بھارت ،اسرائیلی ایماء پر ،افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں تسلسل کے ساتھ کرواکر پاکستان کی امن و امان کی صورتحال کو خراب کروارہا تھا ،اس کے باوجود پاکستان نے امریکی و ایرانی وفود کو اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات میں مذاکرات کا ماحول فراہم کر کے یہ ثابت کردیا کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ وہ اپنے مہمانوں کی حفاظت بھی بخوبی کرسکتی ہے۔ مختلف میڈیا،بالخصوص سوشل میڈیا کی جانب سے جس طرح ایرانی وفد کو پاکستان ایئر فورس کے حصار میں پاکستان لایا گیا،وہ تاریخ کے اوراق میں ایک مثل کی طرح محفوظ ہو چکا کہ اسرائیل کی جانب سے یہ کوششیں مسلسل جاری تھی کہ ایران کی تمام تر اعلی قیادت کو منظر سے ہٹا کر ،ایران پر خوف طاری کیا جائے اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ اس پس منظر میں،پاکستان نے اپنے برادر اسلامی و پڑوسی ملک کی قیادت کو محفوظ سفر کی یقین دہانی کروا کرمذاکرات کا حصہ بنایا اور ابتدائی مذاکرات کی میزبانی کی۔ اس پس منظر میں فنانشل ٹائمز کی جانب سے،ایسے وقت میں جب فریقین مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریوں میں مصروف ہیں،ایسی رپورٹ کا شائع ہونا کہ جس میں پاکستان کی حیثیت کو کمتر ثابت کیا جا سکے،کسی حاسد یا دشمن کی سازش ہی کہا جا سکتا ہے یا ثالثی میں دوسرے اہم اسلامی ملک کے ساتھ رقابت کے جذبہ کو ہوا دینے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی ابتدائی کاوشوں کے بعد ،قطر نے اس معاہدے کے لئے کاوشیں کی اور دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کے باعث ،مفاہمتی یادداشت حتمی مراحل سے گزر کر آج ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے گو کہ مستقل امن کے حوالے سے ابھی بھی انتہائی سے زیادہ خدشات موجود ہیں اور جب تک ان خدشات کا قلع قمع غیر جانبدارانہ طریقے سے ،امریکہ کی جانب سے نہیں ہوتا،اس معاہدے کے کامیاب ہونے سے متعلق خدشات قائم رہیں گے۔ فنانشنل ٹائمز کی اس رپورٹ نی اس ساری مشق کو بہرحال گدلا ضرور کیا ہے اور اس سے حاسدین یا دشمنوں کے کیا مقاصد تھے، ان پر اوس ایران کے صدر کی ٹیلی فون کال نے ڈال دی،جس میں انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو فون کرکے، پاکستان کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے،وزیر اعظم و فیلڈ مارشل کی کاوشوں کی تحسین کی ہے اور کہا ہے کہ ایران مشکل وقت میں پاکستان کے مخلصانہ ،مثبت اور تعمیری کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ جوابا وزیر اعظم پاکستان نے بھی برادراسلامی و پڑوسی ملک کی حمایت جاری رکھنے کا اظہار کیا ہے۔آج بروز جمعہ امریکہ وایران کے درمیان اولا جینوا اور بعد ازاں سوئٹرز لینڈ میں قطری ریاست کے ملکیتی ریزارٹ میں مذاکرات کا اگلا دور شروع ہونا تھا،امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں تیار تھا مگر آخری لمحات میں انہیں اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا ،شنید ہے کہ ایران نے مذاکرات میں شمولیت سے انکار کردیا۔ ایران کی جانب سے مسلسل اس امر کا اعادہ کیا جاتا رہا کہ جنگ بندی لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہو گی، لیکن جیسا آپ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل اپنی بد نیتی و بد خصلتی و بد طینیتی سے مجبور ہے،اور جنگ بندی کے دو دن میں اس نے 84بار اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے،لبنان پر جارحیت کا ارتکاب کیا اور قریبا چار ہزار شہریوں کو شہید کر چکا ہے جبکہ کئی زخمی ہیں اور سیکڑوں عمارتوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس پس منظر میں ایران کی جانب سے مذاکرات کا حصہ بننا کسی بھی صورت مناسب معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی ایران ایسے حالات میں مذاکرات کرے گا، تاوقتیکہ معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ امریکہ کی جانب سے واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے فریقین میں امریکہ و ایران و حزب اللہ و اسرائیل شامل ہیں لیکن بدقسمتی سے صرف اسرائیل وہ واحد فریق ہے،جسے اس معاہدے کی پاسداری کا احساس و ادراک نہیں یا دانستہ وہ اس کا احترام نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیل کی اس جارحیت کے جواب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے نیتن یاہوکو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے،ٹھیک ٹھاک چھترول بھی کی ہے، لیکن تادم تحریر اسرائیل کی جانب سے کوئی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا کہ جس سے یہ کہا اور سمجھا جا سکے کہ امریکی حکام اپنا پیغام ٹھیک طرح سے اسرائیل کو پہنچا چکے ہیں۔ جے ڈی وینس کی جانب سے نیتن یاہو کے متعلق کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران معاہدے سے نیتن یاہو پاگل ہو چکا ہے اور اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ اپنے کس محسن کے احکامات کو ٹھکرا رہا ہے، اس وقت پوری دنیا میں صرف امریکہ اور امریکی صدر ٹرمپ ہی اسرائیل کی پشت پر کھڑے ہیں جبکہ باقی ساری دنیا اسرائیل کے خلاف کھڑی ہے، اس کے باوجود اسرائیل امریکی معاہدے پر عمل درآمد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کررہا ہے،لہذا اسرائیل کو اس امر کا بخوبی احساس ہونا چاہئے کہ اسرائیل بہرحال امریکہ سے بڑا نہیں اور اسرائیل کو امریکہ کی عزت کا ،اس کے کئے گئے معاہدوں کا خیال رکھنا ہو گا۔اسرائیل کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی،معاملات کو کسی جگہ رکنے نہیں دے رہی جبکہ معاہدے پر دستخطوں کے فوری بعد ہی اسرائیل جارحیت کے جواب میں ایران سخت ،موثر اور کارگر جوابی کارروائی کرنے کے لئے تیار تھا مگر امریکی حکام کی درخواست پر ایران نے فوری ردعمل نہیں دیا لیکن ایران کب تک اسرائیلی جارحیت و معاہدی کی خلاف ورزی برداشت کرے گا؟کب تک امریکی درخواستوں پرلبنان کے نہتے شہریوں کا خون بہتا دیکھے گا؟۔
بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ چالیس روزہ جنگ سے نیتن یاہو نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور مسلسل خطے میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں کررہا ہے کہ اسی افراتفری میں ہی یاہو کو اپنی بچت دکھائی دیتی ہے کہ جیسے ہی ماحول پرامن ہوا، یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات ہی کھلتے نظر نہیں آتے بلکہ اس کی کرپشن پر بھی اسے جیل جانے کا خوف ستارہا ہے جس سے مذہبی جنونیت کی آڑ میں بچنا چاہتا ہے۔ بہرحال معاہدہ کے مطابق اگر امریکہ و ایران اس معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں تو امن قائم رہے گا لیکن جس طرح اسرائیل اس کی خلاف ورزی کررہا ہے،کیا ایرانی جوابی کارروائی میں ،امریکہ اسرائیل کو تنہا چھوڑکر اسے ایران کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا؟کیا امریکہ کے لئے ایسا ممکن ہو گاکہ وہ خود کو اسرائیل سے الگ کرلے؟معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے سے معاہدے کا دوسرا فریق خود نپٹ لے؟یا امریکہ کا اثرورسوخ اسرائیل پر بالکل ختم ہو چکا ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہا؟اگر امریکہ اسرائیل سے اپنی بات منوانے کی حیثیت کھو چکا ہے تو پھر باقی دنیا کیونکر امریکہ کی بات مانے گی؟ خطے میں امن کے قیام کے لئے ،امریکہ کو اسرائیل سے اپنی بات منوا کر معاہدے کے حوالے سے اپنی سنجیدگی و غیر جانبداری کا ثبوت دینا ہو گا جیسا ایران ابھی تک دے رہا ہے وگرنہ ایران سے جوابی ردعمل کی توقع ضرور رکھے، جس سے اسرائیل کا وجود بھی مٹ سکتا ہے اور اس صورت میں امریکہ کو اس جنگ سے دور بھی رہنا ہوگا۔







