Column

دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ

دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری آپریشنز اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ ریاست پاکستان دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی جدوجہد میں کسی قسم کی نرمی یا کمزوری دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں 22دہشت گردوں کی ہلاکت اور متعدد شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو نقصان پہنچنا اس عزم کی واضح علامت ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ درہ آدم خیل کے قریب حسن خیل میں خوارج کی جانب سے فیڈرل کانسٹیبلری کی اہم چیک پوسٹ پر قبضے کی کوشش کو فورسز نے بروقت اور مثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا۔ دہشت گردوں کا مقصد نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا تھا بلکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلا کر اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانا بھی تھا۔ تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور ان کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا۔ اگرچہ اس معرکے میں قوم نے اپنے کئی بہادر سپوتوں کو کھودیا، لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ نائیک عامر، لانس نائیک محمد یوسف، لانس نائیک محمد ریاض، سپاہی اجمیر، احسان اور سپاہی ریاض سمیت دیگر شہداء نے اپنے خون سے وطن کی حفاظت کی نئی داستان رقم کی ہے۔ قوم ان عظیم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے ملک کے امن اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ دوسری جانب بلوچستان کے ضلع بسیمہ کے علاقے نال میں خفیہ اطلاعات پر کی جانے والی کامیاب کارروائی میں 14خطرناک دہشت گردوں کا خاتمہ بھی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ یہ کارروائی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نہ صرف دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان کے خلاف بروقت اور موثر اقدامات کرنے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ دہشت گردوں کی گاڑیوں اور بارودی مواد کی تباہی سے ان کے مستقبل کے منصوبوں کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گردی کے موجودہ چیلنجز کے پیچھے بیرونی عناصر اور پاکستان دشمن قوتوں کا کردار بھی شامل رہا ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور ترقی کے سفر کو روکنے کے لیے مختلف سازشیں کی جاتی رہی ہیں، مگر پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آج بھی یہی جذبہ اور عزم دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نظر آرہا ہے۔ پاکستانی فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتائج واضح طور پر سامنے آرہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہورہے ہیں، ان کے نیٹ ورکس کمزور پڑ رہے ہیں اور ان کی نقل و حرکت محدود ہوتی جارہی ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی اداروں کی حکمت عملی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ’’ عزمِ استحکام‘‘ وژن کے تحت جاری مہم دراصل ایک جامع قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد صرف دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایسے تمام عوامل کو ختم کرنا بھی ہے جو شدت پسندی اور بدامنی کو فروغ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ سماجی، اقتصادی اور انتظامی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں تاکہ دہشت گردی دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔ ملک کے عوام کو بھی اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں، افواہوں سے گریز کریں اور قومی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیں۔ جب قوم اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دہشت گردی جیسے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، زیادہ باصلاحیت اور زیادہ پرعزم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ دشمن کے عزائم ناکام ہو رہے ہیں۔ اگر یہی رفتار اور عزم برقرار رہا تو وہ دن دُور نہیں جب ملک کے کونے کونے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی نئی منزلوں کی جانب گامزن ہوگا۔ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے متحد رہے گی۔ پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام ایک مضبوط دیوار کی مانند دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہی اتحاد، قربانیاں اور قومی عزم اس جنگ میں ہماری کامیابی کی ضمانت ہیں۔ ان شاء اللہ، دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جدوجہد منطقی انجام تک پہنچے گی اور پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال ریاست کے طور پر مزید مضبوط ہوکر ابھرے گا۔
بجلی کی قیمت میں کمی
ملک میں بڑھتی مہنگائی اور توانائی کے بلند نرخوں کے باعث عوام طویل عرصے سے معاشی دبائو کا شکار ہیں۔ ایسے میں نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 99پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان یقیناً ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ جنوری تا مارچ 2026ء کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی جانے والی یہ رعایت جون سے اگست 2026ء تک ملک بھر کے صارفین کو فراہم کی جائے گی، جس سے لاکھوں گھریلو اور تجارتی صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ بجلی کے نرخوں میں کمی سے مجموعی طور پر 67ارب روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عام شہری مہنگائی، بڑھتے یوٹیلیٹی بلوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگرچہ فی یونٹ کمی بظاہر محدود محسوس ہوتی ہے، تاہم بڑے پیمانے پر بجلی استعمال کرنے والے گھروں اور کاروباروں کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہوں گے۔ یہ فیصلہ اس بات کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر انتظامی اقدامات کے نتائج عوام تک منتقل کیے جارہے ہیں۔ عوام کی توقع ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے صرف عارضی ریلیف تک محدود نہ رہیں بلکہ بجلی کے شعبے میں موجود بنیادی مسائل کے مستقل حل کے لیے بھی موثر اقدامات کریں۔ لائن لاسز، بجلی چوری، گردشی قرضے اور ترسیلی نظام کی کمزوریاں وہ چیلنجز ہیں جن کے حل کے بغیر پائیدار ریلیف ممکن نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئے اور صارفین کو مستقبل میں بھی کم نرخوں کا فائدہ مل سکے۔ صنعتی شعبے کے لیے سستی بجلی نہ صرف پیداواری لاگت کم کرے گی بلکہ ملکی برآمدات اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں حالیہ کمی کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم عوام کی حقیقی توقع مستقل اور دیرپا ریلیف سے وابستہ ہے۔ اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر حکمرانی کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف صارفین کو مزید سہولت ملے گی بلکہ ملکی معیشت بھی استحکام کی جانب گامزن ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button